فوج، عدلیہ کیساتھ بیک ڈور بات چیت نہیں ہو رہی: وزیر اعظم

31 جنوری 2018

اسلام آباد (آئی این پی) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ فوج اور عدلیہ ملک کے ادارے ہیں، سب کا مقصد ملک کی بہتری ہے، فوج اور عدلیہ کے ساتھ بیک ڈور بات چیت نہیں ہو رہی، رشتے آئین نے بنا دیئے ہیں، بات چیت سامنے ہوتی ہے، شہباز شریف کی بطور وزیراعظم نامزدگی پارٹی فورم پر نہیں ہوئی، سینٹ الیکشن میں پارٹی امیدوار سے ہٹ کر ووٹ دینے والے کا احتساب عوام کریں گے، عوام جس جماعت کے حق میں فیصلہ کریں گے وہ حکومت بنا لے گی،نوازشریف کو پہلے بھی سزا ہوئی تھی پھر بھی وزیراعظم بنے، کسی کو ایک دن، کسی کو پوری زندگی کیلئے نااہل قراردیا گیا، عجیب فیصلے ہیں۔منگل کو وزیراعظم سے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ (دستور)کے وفد نے حاجی نواز رضا کی قیادت میں ملاقات کی، جس میں صحافیوں کی تنخواہوں اور دیگر صحافتی مسائل پر گفتگو ہوئی۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ تمام صحافتی تنظیمیں آپس میں اتحاد پیدا کریں تا کہ صحافیوں کے مسائل حل کرنے میں آسانی ہو۔ انہوں نے سی پی این ای اور اے پی این ایس کے وفد کی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان سے ملاقات میں میڈیا مالکان نے کچھ تحفظات ظاہر کئے تھے، جن کے حل کیلئے وزیرمملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کو ذمہ داری سونپ دی ہے، جلد مسائل حل ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا صحافیوں کے مسائل مل بیٹھ کر حل کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ بات درست ہے مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے شہباز شریف کو آئندہ وزیراعظم نامزد کیا لیکن کچھ لوگ ابہام پیدا کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں، انہیں ایسا نہیں کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا مسلم لیگ (ن) ہی واحد جماعت ہے جسے عوام میں پزیرائی حاصل ہے، باقی لیگی دھڑے تانگہ پارٹیاں ہیں۔ اپوزیشن کا کام بیان بازی کرنا ہے جبکہ ہمارا کام عوام کی خدمت کرنا ہے۔ الیکشن میں نتائج سب کے سامنے آ جائیں گے اور پتہ چل جائے گا کہ کس نے کام کیا اور کس نے تنقید کی۔ الیکشن میں دھاندلی کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ ہر امیدوار الیکشن جیتنے کیلئے زور لگاتا ہے کوئی ادارہ دھاندلی نہیں کرنے دیتا۔ 2013ء کی نگران حکومت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس حکومت کا کام قوم کے سامنے آ چکا ہے۔ اب ہم چاہتے ہیں کہ ایسا نگران سیٹ اپ ہو جس پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔ میرے ذہن میں کچھ نام ہیں جن کا فی الحال میں ذکر نہیں کروں گا،ان ناموں پرمشاورت کے بعد ہی بات چیت کی جا سکتی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 62ون ایف پر بات چیت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ نااہلی معاہدے کی مدت عدلیہ نے طے کرنی ہے وہ کسی کو ایک ماہ، کسی کو دو ماہ اور کسی کو ایک سال کی نااہلی معاملات عدلیہ ہی حل کرے گی۔ سپریم کورٹ نے نواز شریف کو اسمبلی رکنیت سے نااہل قرار دیا تھا لیکن پارٹی صدارت سے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو ہائی جیکر بنا کر باہر بھیج دیا گیا تھا، وہ پھر واپس آ گئے، اب پانامہ سے فیصلہ شروع ہو کر اقامہ پر آ گیا ہے،اب عوام کارکردگی پر فیصلہ کرے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ سینیٹ انتخابات میں صوبوں میں ایم پی ایز اور وفاق میں ایم این ایز نے ووٹ دینے ہیں جو اپنا ضمیر بیچے گا اسے بعد میں دیکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں احتساب صرف سیاستدانوں کا ہوتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں نے کہا تھا کہ نواز شریف کی تصویر پر ہی ووٹ ملے گا، میری یا شہباز شریف کی تصویر لگانے سے ووٹ نہیں ملے گا، جس طرح جہانگیریا شاہ محمود قریشی کی تصویر لگانے سے تحریک انصاف کو ووٹ نہیں مل سکتا، اسی طرح نواز شریف کی تصویر پر ہی مسلم لیگ (ن) کو ووٹ ملے گا۔ وزیراعظم نے چوہدری نثار اور پرویز رشید کے درمیان اختلافات پر کہا کہ گھر میں بھی اختلاف رائے ہوتا ہے دونوں اہم رکن ہیں مسئلہ جلد حل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ فوج اور عدلیہ ملکی ادارے ہیں ان سے بیک چینل نہیں سامنے بات چیت ہوتی ہے۔ 

شاہد خاقان