جامعہ زکریا: سینڈیکیٹ اجلاس، کرنٹ ورک ایجنڈا ختم، ریگولر انتظامی عہدیدار لگانے کی ہدایت

31 جنوری 2018

ملتان (نمائندہ نوائے وقت) زکریا یونیورسٹی کی سینڈیکیٹ میں کرنٹ ورک ایجنڈا ختم کردیا۔ چھ ماہ میں ریگولر رجسٹرار اور کنٹرولر امتحانات لگانے کی ہدایت۔ گاڑیاں لیز پردینے کا کیس مسترد کردیا گیا۔ تفصیل کے مطابق بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سنڈیکیٹ کا سال کا پہلا اجلاس زیر صدارت وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر طاہرامین یونیورسٹی کمیٹی روم میں منعقد ہوا۔ جبکہ سیکرٹری کے فرائض رجسٹرار ڈاکٹر محمد عمر چوہدری نے سرانجام دیئے۔ اجلاس میں ہائر ایجوکیشن کمشن کی نمائندہ مریم کیانی اور جسٹس (ر) ظفر یاسین کی طرف سے سخت تنقید اور اختلافی نوٹ لکھے گئے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں یونیورسٹی حکا م کو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ اجلاس میں کوئی کرنٹ ورک ایجنڈا نہیں ہوگا صرف ایمرجنسی ایجنڈا ہوگا اور وہ بھی کورم کی منظوری سے پیش کیا جائے گا۔ چودھری اسلم کو 20گریڈ دینے کےلئے کمیٹی بنادی گئی جس کا اجلاس 11فروری کو ہوگا۔ انجنئرنگ کالجز کے شعبوں کا خود مختاری دینے کا کیس منظور کرتے ہوئے اکیڈمک کونسل کو ارسال کرنے کی منظوری دی گئی۔ ڈاکٹر عمر چودھری کے بطور اسٹنٹ پروفیسر ٹی ٹی ایس سے بی ایس پر منتقلی پر16 (3) کے اختیارات مسترد کردیئے گئے۔ یہ سینڈیکٹ کے اختیارات ہیں اس کو سینڈیکیٹ میں لایا جائے۔ ایچ ای سی کے ٹی ٹی ایس پروفیسر کی فعال سیٹوں پر تعیناتی بارے مراسلے پر یونیورسٹی حکام کے تحفظات مستر د کردیئے گئے۔ ملتان کارڈیالوجی اور بختاور امین کے کیس پر آبرویشن لگادی گئی۔ ایم او یو برقرار رہے گا جبکہ ریٹ میڈیکل کمیٹی اور ایف این پی سی طے کرے گی جس کے بعد کیس سینڈیکیٹ میں بھجوایا جائے گا۔ اجلاس میں گاڑیوں کی بلاسود فراہمی کے کیس کو مسترد کردیا گیا۔ اجلاس میں وہاڑی کیمپس میں ڈائریکٹر کی تعیناتی پر شرکاءنے ناراضگی کا اظہار کیا کہ اس کیمپس میں ڈائریکٹر کی سیٹ ہی نہیں ہے کس حیثیت سے یہ تعیناتی کی جاتی رہی ہے۔ ڈاکٹر وقاص کو عارضی طور پردیکھ بھال کیلئے عارضی چارج دیا جائے۔ آئندہ بجٹ میں سیٹ پیدا کرکے ڈائریکٹر تعینات کیا جائے۔ اجلاس نے رجسٹرار اور کنٹرولر کی سیٹ پرایڈیشنل چارج دینے پر اعتراض کیا گیا۔ اجلاس میں 100سے زائد کالجز جن میں گورنمنٹ اور پرائیویٹ کالجز شامل ہیں کے الحاق کی منظوری میں توسیع کی گئی۔