دہشت گردی کی کوئی سرحد نہیں، افغانستان مسئلہ کے حل کے لئے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا ہو گا: اقوام متحدہ

31 جنوری 2018

واشنگٹن (آئی این پی ) افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی تدامتی یاماموتو نے کہا ہے کہ دہشت گردی کی کوئی سرحد نہیں ہو تی ، دہشتگردی سے افغانستان کے ہمسایہ ممالک بھی متاثر ہو رہے ہیں، عالمی ادارہ افغانستان میں امن مذاکرات کے لیے راہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہا ہے، افغانستان میں مذاکرات اور سیاسی حل کے لیے تمام فریقین کی شمولیت ضروری ہے،اِس کے لیے پڑوسی ممالک، خصوصاً پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا ہو گا۔ امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے تدامتی یاماموتو نے کہا دہشت گردی کی کوئی سرحد نہیں ہوا کرتی۔ عالمی ادارہ افغانستان میں امن مذاکرات کے لیے راہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور یہ کہ لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ دہشت گردی کی کوئی سرحد نہیں ہوتی، جس سے افغانستان کے ہمسایہ ممالک بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ یاماموتو نے کہا میرا خیال ہے سلامتی کونسل انسدادِ دہشت گردی کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہے۔ افغانستان میں مذاکرات اور سیاسی حل کے لیے تمام فریقین کی شمولیت ضروری ہے،اِس کے لیے پڑوسی ممالک خصوصاً پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔اس سلسلے میں عالمی ادارے کے ایلچی نے کہا کہ فروری میں کابل میں ہونے والے مذاکرات کے لیے افغانستان میں اقوام متحدہ کا مشن حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے جس میں تمام معاملات پر بات چیت ہوگی اور خطے کے ممالک بشمول پاکستان اس میں شریک ہوں گے۔ انھوں نے کہا طالبان کے ساتھ بات چیت کے لیے افغانستان کے ہمسایہ ممالک کو بھی اعتماد میں لینا بہت ضروری ہے۔ افغانستان میں امن عمل افغان قیادت میں ہونا چاہئے کیونکہ وہ اپنے مستقبل کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اس میں سب کی کوششیں شامل ہونی چاہئیں۔ باغیوں سے رابطے کی کوشش کی جائے اور حقیقی مذاکرات کے لیے ان کی بات سنی جائے۔ بقول ایلچی، طالبان جب بھی مذاکرات کی میز پر آئیں یہ عمل کھلے عام نہیں ہونا چاہئے۔ افغانستان میں پائیدار امن کے لیے کوششوں میں خطے کے مفادات بھی شامل ہونے چاہئیں، جس کے لیے خطے کے ممالک کے ساتھ مخلصانہ بات چیت ہونی چاہئے۔