برطانیہ میں یورپ کی سب سے بڑی مسجدشہید کرنے کا فیصلہ برقرار

31 جنوری 2018

لندن(این این آئی)مشرقی لندن میں تبلیغی جماعت کی جانب سے یورپ کی سب سے بڑی مسجد تعمیر کرنے کے منصوبے کو اس وقت ایک اور دھچکا لگا، جب ہائی کورٹ نے اسی مقام پر قائم مسجد الیاس کو شہید کرنے کے فیصلے کے خلاف اپیل مسترد کردی۔خیال رہے کہ مسجد کو منہدم کرنے کے فیصلے کو ایک سال تک موخر کرنے کے حوالے سے تبلیغی جماعت کے 3 ٹرسٹیز کی جانب سے درخواست دائر کی گئی تھی۔برطانوی ٹی وی کے مطابق عدالت نے اپنے فیصلے میں تبلیغی جماعت کو اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے سے بھی منع کردیا ہے، جس کے بعد یہ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ کچھ ہفتوں میں مسجد کا موجودہ انفرااسٹرکچر منہدم کردیا جائے گا۔تاہم انسانی حقوق کے یورپین ہائی کورٹ کا ایک حکم امتناع مسجد الیاس کو منہدم ہونے سے بچا سکتا ہے اور اس حوالے سے ٹرسٹیز نے رواں ماہ کے دوسرے ہفتے میں درخواست دائر کی تھی۔خیال رہے کہ 17 ایکڑ پر مشتمل اس زمین پر صدیوں سے ایک کیمیکل فیکٹری تھی لیکن 1995 میں تبلیغی جماعت کے ٹرسٹیز کی جانب سے اسے 16 لاکھ پاو¿نڈ میں خریدا گیا تھا۔دوسری جانب اگر انسانی حقوق کے یورپین ہائی کورٹ کی جانب سے کوئی حکم امتناع جاری نہیں ہوتا اور ٹرسٹیز 6 ماہ میں جگہ خالی نہیں کرتے تو نیو ہیم بورو کونسل کی جانب سے مسجد کو منہدم کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا، اس کے علاوہ تبلیغی جماعت یا ان کے ماننے والوں کی جانب سے کسی قسم کی مزاحمت پر (ضروری خریداری آرڈر) سی پی او حاصل کرنے کے لیے قانونی کارروائی بھی کی جاسکتی ہے۔ہائی کورٹ بینچ کے جج ویلڈن اسمتھ نے تبلیغی جماعت کے ٹرسٹیز کو مزید حکم دیا ہے کہ وہ نیوہیم کے لندن بورو کو 4 ہفتوں کے اندر 22 ہزار 207 پاو¿نڈ بھی ادا کریں گے اور اگر 23 فروری تک یہ رقم کی ادائیگی نہیں کی گئی تو کونسل کی جانب سے رقم کی وصولی کے لیے کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔عدالت کے مذکورہ فیصلے کے سامنے آتے ہی دیگر مقامی گروپوں کی جانب سے مقامی انتظامیہ پر دباو¿ ڈالنے کا منصوبہ بھی تیار کرلیا گیا ہے تاکہ موجودہ مسجد کو جلد منہدم کیا جاسکے۔جج نے کہا کہ ٹرسٹیز کی جانب سے 12 مہینے کے معطلی کے وقت میں سے 5 ماہ گزر چکے ہیں جبکہ ٹرسٹیز کی جانب سے پالیسی پر بہت کم کام ہوا ہے، لہٰذا عدالت اس فیصلے کے خلاف اپیل کو مسترد کرتی ہے۔