ظہور اسلام کی ابتدائی مسجد جواثا ملبے کے نیچے سے دریافت

31 جنوری 2018

ریاض(این این آئی)سعودی عرب میں موجود اسلام کے ابتدائی ادوار کی بیشتر مساجد جدید شکل میں موجود ہیں مگر حال ہی میں مشرقی سعودی عرب کے علاقے الاحساء سے ریت اور مٹی کے ملبے تلے دبی مسجد ’جواثا‘ کے کھنڈرات برآمد کئے گئے۔ یہ مسجد ریتلے طوفانوں کے باعث ایک عرصے سے غائب تھی۔مسجد جواثا کے بارے میں کہا جاتا ہے اس میں تاریخ اسلام کا دوسرا جمعہ ادا کیا گیا تھا۔ مختلف ادوار میں اس مسجد کی تعمیر نو اور مرمت کا کام بھی ہوتا رہا ہے مگر کچھ عرصے سے یہ مسجد ریت کے طوفان میں چھپ گئی تھی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق تاریخی مصادر سے معلوم ہوتا ہے کہ ’ جامع مسجد جواثا‘ سنہ سات ھجری کو قبیلہ بنو عبد قیس نے تعمیر کی۔ اس مسجد کا شہرہ جب قرب وجوار میں پہنچا تو مسلمان دور دور سے اسے دیکھنے آتے۔ مگر اس کا اصل شرف اس میں دوسرے جمعہ کی ادائیگی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مسجد آج بھی سعودی عرب کی تاریخی سیاحتی اور ثقافتی پہچان بنی ہوئی ہے۔مسجد جواثا کی تعمیر نو میں اس کے چار مینار بنائے گئے۔ روشنی کا جدید انتظام کیا گیا اور دیگر سہولیات سے آراستہ کیا گیا۔حال ہی میں مشرقی علاقے کے گورنر شہزادہ سعود بن نایف نے اس مسجد کا افتتاح کیا اور اس میں نئی ترامیم کے منصوبے پر کام شروع کیا گیا۔مسجد جواثا کی تعمیر نو سعودی عرب کے محکمہ سیاحت کی جانب سے کی گئی ہے۔ مسجد کی تعمیر اس کی پرانی مٹی کی بنیادوں پر عمل میں لائی گئی ہے۔ جغرافیائی محل وقوع کے اعتبار سے یہ مسجد شمال مشرقی شہر الھفوف سے 17 کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔سعودی مو¿رخ الشیخ عبدالحمان الملا اپنی کتاب ’تاریخ ھجر‘ میں لکھتے ہیں کہ مسجد جواثاءکا بیشتر حصہ 1210ھ میں ریت اور مٹی تلے دب گیا تھا۔