ہمارے بھی وہی حقوق ہیں جو بینا افراد کو حاصل ہیں: قاضی نوید ممتاز

31 جنوری 2018

ملتان( لیڈی رپورٹر) یو۔ آر ایف آف دی بلائنڈ کے مرکزی چیئرمین قاضی نوید ممتاز نے کہا ہے کہ ہمارے بھی وہی حقو ق ہیں جو بینا افراد کو حاصل ہیںاورہم اپنے فرائض کی ادائیگی میں وہی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں جو ایک عام آدمی اپنی بھر پور توانائی کے ساتھ عملی زندگی میں متحرک ہے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے نوائے وقت سے خصوصی بات کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونین کونسل لیول پر چیئرمین کو نائب ناظم کو پابند کیاجائے کہ وہ اپنے حلقے میں کسی بھی نابینا فرد کو تعلیم سے محروم نہ رہنے دے جب تک ہنگامی بنیادوں پر بینا اور نابینا افراد پر تعلیم کے دروازے نہیں کھولے جاتے اور تعلیم کو لازمی قرار نہیں دیاجاتا مسائل حل ہونا ممکن نہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پہلی نابینا پارلیمنٹرین اور صدارتی ایوارڈ یافتہ ڈاکٹر فاطمہ شاہ کے پیدائش کے دن کے یوم بصارت کے نام سے منسوب کیاجائے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان میں 39لاکھ سے زائد افراد بصارت سے محروم ہیں۔ اس سلسلے میں تعلیمی اداروں میں اساتذہ محلوں میں قائم مساجد کے امام نابینا افراد کی آنکھیں بنکر انہیں روشنی کی نوید دیں۔ انہوں نے افسوس سے کہا مردم شماری میں نابینا افراد کا خانہ نکال کر حکومت نے انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ کیونکہ ہماری دیہی آبادی میں تعلیم کی کمی اور شعوری آگہی کے نہ ہونے سے نابینا افراد انتہائی مشکل حالات سے دوچار ہیں۔ پارلیمنٹ میں ہمارے حقوق کیلئے باقاعدہ آواز بلند نہیں ہوتی ملک کی مجموعی طورپر نابینا افراد کی زندگی مشکلات سے نکلنا مشکل ہے۔