گرین بیلٹس اور سینٹرل آئی لینڈ پر کھدائی کے لئے محکمہ پارکس سے اجازت لازمی قرار

31 جنوری 2018

کراچی (اسٹاف رپو رٹر) میئرکراچی وسیم اختر نے کے ایم سی کی حدود میں واقع سڑکوں پر مختلف اداروں اور محکموں کی طرف سے گرین بیلٹس اور سینٹرل آئی لینڈ پر کھدائی کرنے اور گڑھوں کو بھرے بغیر چھوڑ دینے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ گرین بیلٹس اور سینٹرل آئی لینڈ پر کھدائی کے لئے محکمہ پارکس اینڈ ہارٹیکلچر سے اجازت لازمی ہوگی اور اس سلسلے میں کھودی گئی جگہ کی بھرائی پر آنے والی لاگت کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ متعلقہ ادارے / محکمے کو سرسبز قطعات کی سطح ہموار اور سبزے کی بحالی کے ساتھ ساتھ اس جگہ سے اکھاڑے گئے درختوں اور پودوں کو بھی دوسری جگہ منتقل کرنا ہوگا ، میئر کراچی نے کہا کہ مختلف اداروں / محکموں کی طرف سے گرین بیلٹس اور سینٹرل آئی لینڈ میں کھدائی کی وجہ سے وہاں لگائے گئے درختوں، پودوں اور گھاس کو شدید نقصان پہنچتا ہے اوریہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے تحت شہر کو سرسبز بنانے کی کاوشوں میں مداخلت کے مترادف ہے لہٰذا مختلف اداروں / محکموں کی طرف سے گرین بیلٹس اور سینٹرل آئی لینڈ پر کھدائی اور اپنا کام مکمل کرنے کے بعد خام مال، ملبہ اور نکالی گئی مٹی وہیں چھوڑ دینے اور اس طرح شہر کی خوبصورتی کو متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، کیونکہ بعد میں بلدیہ عظمیٰ کراچی کو خود اپنے وسائل استعمال کرکے ان تمام متاثرہ جگہوں کو دوبارہ اپنی اصل حالت میں واپس لانا پڑتا ہے جس پر خطیر لاگت آتی ہے اور بلدیاتی وسائل پر غیر ضروری بوجھ پڑتا ہے، انہوں نے کہا کہ محکمہ پارکس اینڈ ہارٹیکلچر کی طرف سے اس ضمن میں مسلسل ایسی اطلاعات موصول ہونے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ آئندہ کوئی بھی ادارہ یا محکمے کے ایم سی کی حدود میں سڑکوں کے ساتھ واقع گرین بیلٹس اور سینٹرل آئی لینڈ میں کسی بھی مقصد کے تحت کھدائی کرنا چاہتے ہوں تو انہیں پیشگی اجازت لینی ہوگی اور مقررہ رقم کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ گرین بیلٹس اور سینٹرل آئی لینڈ کو اسے اصل حالت میں لانے کی ذمہ داری بھی انجام دینی ہوگی۔