حکیم سعیدشہید عظیم طبیب اور مخیر انسا ن تھے ، گورنر سندھ

31 جنوری 2018

کراچی ( اسٹاف رپو رٹر ) گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا ہے کہ ایک وقت پر ہر ادارے کے لیے ری برانڈنگ ضروری ہوتا ہے، ادارہ ہمدرد بھی یہ کر رہا ہے۔ میں اس کی چیئرسن سعدیہ راشد اور منیجنگ ڈائریکٹر اینڈ سی ای او کو مبارک باد دیتا ہوں ۔ وہ بطور مہمان خصوصی’’ حکیم محمدسعید ایوارڈز‘‘ کی تقریب سے مہٹہ پیلس کراچی میں خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے ہمدرد کی ری برانڈنگ اور نئے ’’لوگو‘‘ کو نئے انداز سے متعارف کرانے کے انداز کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس کے یقینا مثبت اثرات 

مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ شہید حکیم محمدسعید ایک عظیم طبیب ہی نہیں ایک عظیم مخیر انسان اور سیاستداں بھی تھے، انہیں منتخب ہو جانا چاہیے تھا، انہوں نے ایک ادارہ بنایا جس سے نہ صرف لوگوں کے معاشی مسائل اور ان کی ضروریات کی تکمیل ہوئی بلکہ ان کے لیے فلاحی کام بھی انجام دیئے گئے اور ابھی تک دیئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے حکیم محمد سعید ایوارڈز کی کیٹیگری میں ’’بزنس مین‘‘ کے اضافے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بزنس مین تجارت اور صنعتوں کو فروغ دیتے ہیں جس سے عوام کو روزگار ملتا ہے اور یوں وہ معاشرے کی بڑی خدمت انجام دیتے ہیں۔ انہوں نے نوعمر طالب علم اعتزاز حسن بنگش کو حکیم محمد سعید ایوارڈ دیئے جانے کو بے حد سراہتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتا تو وہاں سے بھاگ کر اپنی جان بچا سکتا تھا مگر اس نے اپنے ساتھی طلبہ کی جانیں بچانے کے لیے اپنی جان قربان کر دی۔ہمدرد کی ایم ڈی سعید کے نام سے اس لیے منسوب کیا گیا ہے کہ حکیم صاحب خدمت خلق پر یقین رکھتے تھے اور انسانوں کی خدمت ان کے ایمان کا جزو تھا، انہوں نے اپنے منعفت بخش ادارے کی آمدنی کو لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کر دیا۔ اس سے قبل ہمدرد لیباریٹریز (وقف) کے منیجنگ ڈائریکٹر اینڈ سی ای او اسامہ قریشی نے خطبہ استقبا لیہ پیش کیا ۔ تقریب میں دس اشخاص کو ان کے اپنے انپے شعبوں میں اعلیٰ قومی خدمات انجام دینے پر ’’حکیم محمد سعید ایوراڈز‘‘ دیئے گئے جن میں پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمن، سسٹر روتھ لیوس، انور مقصود، ڈاکٹر عبدالباری خان، اعتزاز حسن شہید، امجد اسلام امجد، ڈاکٹر سید ادیب الحسن رضوی، سرفراز احمد، بشریٰ رحمن اور مسعود احمد برکاتی مرحوم شامل ہیں۔ تقریب میں ٹی وی/فلم اسٹار طلعت حسین نے اپنی دلکش آواز میں حکیم محمد سعید ۔حیات و کارناموں پر مشتمل ایک خوبصورت جائزہ اور ایک مضمون بھی پیش کیا اور انور مسعودنے اپنی شگفتہ پرمزاح شاعری سے حاضرین کو کشتِ زعفران بنا دیا۔ آخر میں قوال فرید ایاز اور ابو محمد نے اپنی قوالی سے حاضرین محفل کو محظوظ کیا جس میں عمائدین شہر، اہل سیاست، ممتاز شہریوں، صنعت کاروں، تاجروں اور ماہرین تعلیم نے شرکت کی۔