رائو انوار گرفتار نہ ہوا، اسلام آباد میں بھی چھاپہ

31 جنوری 2018

کراچی+ اسلام آباد+ پشاور (کرائم رپورٹر + نیوز ایجنسیاں)کراچی میں جعلی پولیس مقابلے میں نقیب اللہ محسود کی ہلاکت میں ملوث سابق ایس ایس پی ملیر رائو انوار کی گرفتاری کیلئے سپریم کورٹ کی جانب سے دی گئی 72 گھنٹے کی مہلت ختم ہو گئی تاہم پولیس رائو انوار کو تلاش کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی کراچی اوراندرون سندھ مارے گئے چھاپے کا میاب ہوسکے نہ ہی دیگر صوبوں میں بھیجی گئی۔ پولیس کی خصوصی ٹیمیں سابق ایس ایس پی ملیر کا سراغ لگا سکیں آئی جی پولیس سندھ اے ڈی خواجہ نے کہا ہے کہ رائو انوار کی گرفتاری کیلئے کوششیں جاری ہیں ۔ آن لائن کے مطابق رائو انوار کے خیبر پی کے میں نہ ہونے کے بارے میں رپورٹ سندھ حکومت کو دیدی ہے۔ ذرائع کے مطابق خیبر پی کے پولیس نے سندھ حکومت کو آگاہ کیا ہے پولیس دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں فرنٹ لائن کا کردار ادا کر رہی ہے پنجاب، سندھ، بلوچستان کی نسبت خیبر پی کے پولیس کی کارکردگی بہتر بتائی گئی ہے۔ صباح نیوز کے مطابق رائو انوار کی گرفتاری کے لئے اسلام آباد میں موجود کراچی پولیس کے اہلکاروں نے اسلام آباد کے ایف ٹین میں ایک گھر پر چھاپہ مارا تاہم اس گھر میں ماسوائے چوکیدار کے کوئی موجود نہیں تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق اسلام آباد پولیس نے چھاپہ مارنے میں کراچی پولیس کی معاونت کی۔ تاہم جس گھر پر چھاپہ مارا گیا وہ رائو انوار کی ملکیت نہیں تھا اور نہ ہی اس گھر سے کسی کی گرفتاری عمل میں آئی۔ اس گھر پر اشتہار لگا دیا گیا جس پر چھاپہ مارا گیا اشتہار میں لکھا ہے رائو انوار اشتہاری ہے اور اس کی تلاش جاری ہے۔

رائو انوار / چھاپے