لندن میں کشمیریوں کا یوم سیاہ

31 جنوری 2018

بھارت کے یوم جمہوریہ پر کنٹرول لائن کے دونوں اطراف کشمیری عوام نے یوم سیاہ منایا جب کہ پوری دنیا میں بسنے والے کشمیری باشندوں نے بھی بھارتی مظالم کے خلاف یوم سیاہ کا انعقاد کیا۔اسی ضمن میں بھارتی فوج کے مظالم کے خلاف حریت رہنماؤں کی کال پر مقبوضہ کشمیر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال رہی۔ نماز جمعہ کے بعد کشمیرکی آزادی کے لیے پرامن ریلیاں نکالی گئیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم اور کنٹرول لائن پر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ تھم نہ سکا۔

دنیا بھر میں بھارتی یوم جمہوریہ پر کشمیریوں نے یوم سیاہ مناتے ہوئے اپنے اوپربھارتی مظالم اجاگر کرنے کیلئے ’’لہو رنگ کشمیر‘‘ شروع کی جس کے تحت دارالحکومت کی سڑکوں پر اس حوالے سے مختلف نعروں پر مزین گاڑیوں نے گشت شروع کردیا جبکہ ٹریفلگر سکوائر میں گریفیٹی چاکنگ بھی کی گئی۔ لندن اور برسلز میں بھارتی سفارت خانوں پر احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔
برطانوی دارالامرا کے رکن لارڈ نذیر کی قیادت میں لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہر احتجاجی مظاہرہ ہوا اور یوم سیاہ منایا گیا جس میں سیکڑوں کشمیریوں اور سکھوں نے شرکت کی۔ مظاہرین نے مقبوضہ کشمیر اور مشرقی پنجاب میں بھارتی مظالم کی مذمت کی اور کشمیر کی آزادی کے حق میں نعرے لگائے۔اس مظاہرے کا اہتمام بھارتی یوم جمہوریہ کے موقع پر کیا گیا تھا۔ احتجاج میں شریک سکھ مظاہرین نے خالصتان کی آزادی کا مطالبہ کیا۔
لارڈ نذیر نے کہا کہ بھارتی یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طور پر منایا جارہا ہے۔ نہ صرف مقبوضہ کشمیر بلکہ بھارت کی متعدد ریاستوں خالصتان، ناگا لینڈ، مانی پور میں بھی بھارتی حکومت ظلم و ستم کررہی ہے اور ان خطوں میں بھی آزادی کی تحریکیں جاری ہیں۔ بھارت نے برطانیہ میں کشمیر کی آزادی کی مہم روکنے کے لیے برطانوی حکومت، اشتہاری ایجنسیوں اور سرکاری محکمہ ٹرانسپورٹ پر بھی دبائو ڈالا تاہم ہم کسی دبائو کو خاطر میں نہیں لائیں گے اور مہم جاری رکھی جائے گی۔
کشمیر کمپین گلوبل نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کو اجاگر کرنے کیلئے ’’لہو رنگ جنت، کشمیریوں کو حق خودارادیت دو‘‘ کے نام سے مہم کے تحت جمع ڈیجیٹیل گاڑیوں نے لندن کی سڑکوں پر گشت شروع کر دیا۔ ان گاڑیوں پر مقبوضہ کشمیر میں نریندر مودی کی حکومت کی ایما پر بھارتی فوج کے مظالم کو اجاگر کرنے کے حوالے سے تصاویر اور نعرے چسپاں تھے۔ گاڑیوں پر درج عبارات میں ’’لہو رنگ جنت جہاں ریپ ہتھیار‘‘ لہو رنگ جنت جہاں آزادی کی خون‘‘ لہو رنگ کشمیر جہاں ہزاروں کشمیری خواتین مظالم کا شکار ہوئیں، جہاں 95ہزار بے گناہ شہری قتل کئے گئے،‘‘ کشمیر کو بچائو، انسانیت کو بچائو‘‘ شامل ہیں۔ کشمیر کمپین گلوبل کے زیر مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے لوگوں کو آگاہی دینے کیلئے ٹریفلگر سکوائر میں گریفیٹی بھی کی گئی۔ ڈیجیٹل گاڑیوں نے مختلف علاقوں کاچکر لگانے کے بعد بھارتی سفارت خانے کارخ کیا جہاں کشمیریوں اورسکھوں کی ایک بڑی تعداد مظاہرہ کرنے کیلئے جمع تھی۔
کمپین کے چیئرمین ظفرقریشی نے کہاکہ مقبوضہ وادی میں بھارتی مظالم کو مغرب کو دکھانے کیلئے یہ مہم سال بھرجاری رہے گی۔بھارتی فوج نے 95 ہزارکشمیریوں کو شہید اور 10ہزار سے زائد کو لاپتہ کردیاہے۔ کشمیری پرامن لوگ ہیں جو 70سال قبل تسلیم شدہ حق خودارادیت کامطالبہ کررہے ہیں لیکن انڈیا ان کایہ بنیادی حق دینے سے انکار ی ہے۔ مسئلہ کشمیرکا حل جنگ ہے نہ یہ دوطرفہ مذاکرات ہیں ۔اس مسئلے کے حل کیلئے کشمیریوں کو مذاکرات میں شامل کیاجاناچاہئے۔امید ہے کہ لہورنگ کشمیررنگ مہم وادی میں انسانی حقوق کی پامالیوں کو اجاگرکرے گا۔
کشمیرکونسل یورپ (ای یو) کے زیراہتمام 26جنوری بھارت کے یوم جمہوریہ (یوم سیاہ)کے موقع پر برسلزمیں بھارتی سفارت خانے کے سامنے پرامن احتجاجی مظاہرہ کیاگیا۔ مظاہرے میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی جن کی قیادت کشمیرکونسل ای یو کے چیئرمین علی رضا سید اور دیگر رہنما کررہے تھے۔ مظاہرین نے پلے کارڈز اور بینزراٹھا رکھے تھے جن پر بھارتی مظالم کے خلاف اور کشمیریوں کے حق میں نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے پر زور نعرے لگا کر کشمیریوں پر آئے دن ظلم و ستم بالخصوص نوجوانوں کی ماورائے عدالت شہادتوں اور دیگر مظالم کی بھرپور الفاظ میں مذمت کی۔
کشمیرکونسل ای یو کے چیئرمین علی رضاسید نے کہاکہ ہم یہاں بھارت کی کشمیرمیں جاری بربریت اور ظلم و ستم کے خلاف جمع ہوئے ہیں۔ بھارت کشمیریوں پر مظالم بندکرے اور کشمیریوں کو حق خودارادیت کے لئے اپنے وعدوں پر عمل کرے۔ عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیاکہ مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکاجائے اور کشمیریوں کا ان کاحق دلوایا جائے۔جب تک بھارت کشمیریوں کو حق خودارادیت نہیں دیتااورجب تک آخری بھارتی فوجی وادی سے چلانہیں جاتا،اس وقت تک کشمیریوں کی جدوجہد جاری رہے گی۔
مظاہرین نے کہا کہ کشمیریوں کو ان کے حقوق ملنے چاہئیں۔ ان پرناانصافیاں ختم ہونی چاہیں تاکہ کشمیری پرسکون اور خوشحال زندگی بسر کرسکیں۔ کشمیرمیں امن ہوگاتوپورے خطے میں خوشحالی آئے گی۔ کشمیری قوم اپنے حق خودارادیت سے کبھی بھی دستبردارنہیں ہوگی۔ بھارت کشمیریوں کے خلاف سنگین جرائم میں ملوث ہے۔سارا جنوبی ایشیاء اور پوری عالمی برادری یہ جانتی ہے کہ انسانی حقوق کشمیریوں کا ایک خواب ہے اور کشمیری قوم اپنے حق خودارادیت کے لیے جدوجہد کررہی ہے۔ بھارت دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہونے کا کیسا دعویدار ہے جو کشمیریوں کے جمہوری حقوق کو کافی عرصے سے دبائے ہوئے ہے؟
رکن برسلز پارلیمنٹ ڈاکٹر منظور نے مسلمانوں کے بارے میں اقوام متحدہ کے تعصبانہ رویے پر شدید تنقید کی اورکہاکہ عالمی ادارے کو مسلمانوں کے مسائل حل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ۔چاہے وہ کشمیر ہو، چیچنیا ہو یا آزربائیجان ہو۔ انہوں نے تیمور میں مسلمانوں پر مظالم کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہUNO دکھاتا ہے کہ وہ کن کا حمایت یافتہ ہے۔ ہم یورپی یونین اور اقوام متحدہ کو خطوط کے ذریعے مطلع کریں گے کہ اگر وہ تمام اقوام کے ساتھ مساوی سلوک نہیں کریں گے تو ان کی قرار دادوں اور فیصلوں کی کوئی اہمیت نہ رہے گی۔ اگر یہ دفاتر مسئلہ کشمیر اور اس جیسے دیگر مسائل حل نہیں کر سکتے تو ان دفاتر کو بند ہو جانا چاہئے۔اقوام متحدہ کو اپنا دہرا معیار تبدیل کرنا چاہئے۔
سرینگر سمیت تمام بڑے قصبوں کی سڑکوں پر بھارتی فوجی اور پولیس اہلکاروں نے گشت کیا۔ سڑکیں ویرانی کا منظر پیش کرتی رہیں۔ شوپیاں سمیت متعدد علاقوں میں دن بھر کرفیو نافذ رہا۔ سڑکیں خالی، شہر ویران، سری نگر میں ہو کا عالم رہاتاہم شہروں اور قصبوں میں لوگوں نے بھارت کے غیر قانونی تسلط کے خلاف احتجاج کے لیے سیاہ جھنڈے لہرائے۔ وادی میں موبائل اور انٹر نیٹ سروس معطل رہی۔سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک کو گھروں میں نظر بند کیا گیا۔
قابض انتظامیہ نے سرینگر کی تاریخی جامع مسجد کی طرف جانے والے تما م راستے سیل کر کے لوگوں کو یہا ں نما ز جمعہ نہیں پڑھنے دی، حریت فورم کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق نے ایک ٹویٹ میں پابندیوں کے نفاذ ، حریت رہنمائوں کی نظر بندی اور لوگوں کو جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی سے روکنے کے کٹھ پتلی انتظامیہ کے اقدام کی شدید مذمت کی ۔ دختر ملت کی جانب سے سرینگرسمیت وادی کے ہزاروں گھروں میں پاکستانی پرچم لہرا کر بھار ت کے یوم جمہوریہ کے خلاف اپنا عزم ظاہر کردیا ہے۔