قاتل کون؟

31 جنوری 2018

سنا ہے زینب کا قاتل پکڑا گیا۔ چلو اچھا ہوا سوشل میڈیا کو کچھ سکون ملے گا۔ لوگ مطمئن ہوں گے کہ ہمارے ملک میں مجرم پکڑا بھی جاتا ہے عوام خاموش ہو گی کہ ان کا شور سنا گیا …… اب جلدی سے قاتل کو عبرت ناک سزا ملے تو یہ قصہ ختم ہو حکومت بھی سکھ کا سانس لے سکے اور عوام بھی اور سوشل میڈیا کی توجہ کسی اورطرف مبذول ہو۔ 

پھرکیا ہو گا؟
عوام اپنی دنیا میں مست ہو جائے گی اورحکومت اپنی دھن میں۔ ایک شخص نے روٹی چرائی تو اس کے ہاتھ کاٹ دیئے گئے بہت اچھا کیا گیا کیونکہ یہی چور کی اصل سزا ہے لیکن کسی نے یہ غور نہ کیا کہ اس بھوک کی انتہا کا باعث کیا ہے جس نے روٹی چرانے پرمجبور کیا۔
چور کو چوری کی سزا تو بہرحال ملنی چاہئیے لیکن کیا چوری کی وجوہات کا سدباب معاشرتی ضرورت نہیں؟
زینب کے قاتل کو سزا ملے بھرپور سزا ملے سرعام پھانسی دی جائے یا کچھ بھی جو عبرت کا نشانہ بن جائے لیکن اصل عوامل پرغور ان کے سدباب کے لئے کون آواز اٹھائے گا۔ کیا زینب کا قاتل وہ ایک شخص ہے کیا وہ عوام اس قتل کے ذمہ دار نہیں جو غیر محسوس طریقے سے معاشرے میں ناسور کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔قاتل کی سزا کے ساتھ ہماری خاموشی ہماری سطحی سوچ کی غمازی کرتی ہے ہم نہ تو انسانی معاملات و نفسیات پر گہری نظر رکھتے ہیںنہ معاشرتی تغیر و ارتقاء پر۔ معاملات کہاں جا رہے ہیں تغیر کہاں سے شروع ہوتا ہے اور ردعمل کیا ہوتا ہے ہمیں کچھ خبر نہیں۔
اگر غور کریں تو زینب کا قاتل یہ ایک شخص نہیں بلکہ پورا معاشرہ ہے۔ معاشرتی رویوں میں تبدیلی اور مذہب کے حقیقی علم اورتعلیمات و قوانین کے اصل مقاصد سے دوری اس قسم کے بڑھتے ہوئے واقعات کا باعث ہے۔
کیا مغربی تقلید معاشرے کی اخلاقی قدروں کی گراوٹ کا باعث نہیں؟
کیا سوشل میڈیا کی مادر پدر آزادی تہذیب و تمدن کی تباہی کی ذمہ دار نہیں؟
کیا شعبۂ تعلیم کے حقیقی مقصد یعنی اخلاقی تربیت اور حصول علم کی بجائے محض ڈگری کا حصول
کیا انٹرنیٹ کے درست استعمال کی ترغیب نہ دینا اور اس کے لئے حکومتی سطح پر چیک اینڈ بیلنس کا نہ ہونا ہمارے معاشرے کو اخلاقی طور پر بیمار اور پسماندہ نہیں کر رہا۔
کیا کسی بھی معاشرے کی اخلاقی بنیاد استاد‘ مفکر‘دانش ور اور شاعر و ادیب پرنہیں کہ یہ لوگ سوچ کی سمت کے تعین میں اہم ترین کردار اداکرتے ہیں؟
تو جب یہی لوگ درست اخلاقی تربیت کے فقدان کا شکار ہوں تو معاشرے کی تباہی ممکن ہے یا نہیں؟
تدریس‘ ادب‘ فکر و فلسفہ اورتہذیب و ثقافت کے شعبے کسی بھی معاشرے کی اخلاقی اساس ہوتے ہیں ان شعبوں کو نظرانداز کرنا اور ان کو حقیقی مقام اہمیت اورحیثیت نہ دینا دراصل مادہ پرستی کا ثبوت ہے اور جب معاشرہ مادہ پرست ہو جائے تو کہاں کی انسانیت اور کہاں کا احساس۔ پھر ایسے انسانیت سوز واقعات ہوتے رہیں گے۔ جتنی بھوک بڑھے گی اتنی روٹیاں چوری ہوتی رہیں گی اور اتنے ہی معصوم قتل ہوتے رہیں گے۔
ایک قاتل کو پکڑنے یا پھانسی دینے سے بات نہیں بنے گی۔ جب تک سوچ کو ہر سطح پر اخلاقیات سے مزین کرنے کا بنیادی اہتمام نہیں ہوتا یہ سب ہوتا رہے گا۔ ضرورت اخلاقی تربیت کی ہے نہ کہ جنسی تربیت کی۔ معصوم بچوں کو جنسی تربیت دینا ان کی معصومیت اور حیا کو ختم کرنے کے مترادف ہیں صرف اتنا بتانا ہی کافی ہے کہ کیا اچھا ہے اور کیا برا باقی سب انہیںخود سمجھ آ جاتا ہے۔ سکولز اور کالجز میں اساتذہ کا اخلاقیات سے مزین ہونا ہی دراصل بچوں کی اخلاقی تربیت کی اساس ہے۔ والدین کا اپنے بچوں پر نظر رکھنا ان پرتوجہ دینا ان کی بات سننا اور سمجھنا بچوں کو اس قابل بنادیتا ہے کہ وہ اپنے والدین سے ہر بات کہہ سکیں۔ والدین بھی گاہے بگاہے بچوں سے ان کے دوستوں اور ارد گرد کے لوگوں کے بارے میںگفتگو کریں اور پوچھیں تو بچے ان پراعتماد کریں گے اور یقیناً ہر بات بھی بتائیں گے۔
سب سے بڑھ کر میڈیا پر غیر مذہبی اور غیر اخلاقی اثرات ختم کرنا انتہائی ضرورت ہے اور ایک اسلامی حکومت اس کی ذمہ دار ہے کہ وہ ملک میں ایسے عناصرکاخاتمہ کرے۔ ایسی روایات و اقدارکو روکنے کا ہر سطح پر اہتمام کرے جو معاشرے کی اخلاقی تباہی کا باعث ہیں زرپرستی کو مقصد حیات سمجھنے والی سوچ کو تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے کاروبار ایک الگ شعبہ ہے خدارا ہر شعبے کو کاروبار مت بنائے۔ ایک ڈاکٹر ڈاکٹر ہے‘ وکیل وکیل اور استاد استاد تو معاشرہ سدھار سکتا ہے‘ تعلیم‘ طب‘ انصاف‘ دفاع‘ سیاست غرض ہر شعبے سے منسلک انسان صرف انسان رہے تو سارے معاملات خودبخود ٹھیک ہو جائیں گے۔