نیک اولاد ! باعث صدقہ جاریہ

31 جنوری 2018

کسی قوم کی زندہ جاوید ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہ سمجھی جاتی ہے کہ ا س کے افراد کے دل انسان دوستی اور ہمدردی و ایثار کے بلند ترین جذبات سے معمور ہوں اور اس کے یہی جذبات اس بات کا فیصلہ کرنے کے لیے بھی ایک دلیل کی حیثیت رکھتی ہے کہ یہ قوم دنیا کی قیادت کا حق رکھتی ہے یا نہیں ۔ مذہب اسلام وہ واحد دنیا کا مذہب ہے جو خیر اور بھلائی کے کامو ں کا سب سے زیادہ نہ صرف زور دیتا ہے بلکہ پیغمبر آخر الزمان حضرت محمد ﷺ کی ساری زندگی اور ان کے صحابہ کرام ؓ کی زندگیاں خدمت خلق اور بھلائی کا عظیم سر چشمہ ہیں ۔ اسلام قدرت رکھنے والے ہر شخص کو خیر اور بھلائی کی دعوت دیتا ہے ۔ اور یہ دعوت عام اس طرح ہے کہ ایک مالدار ، غریب ، مزدور، تاجر ، زمیندار، شاگرد استاد، عورت مرد ، بوڑھا اندھالولا، لنگڑاکمزور بھی نیکی کا کام کر سکتا ہے ۔ اور اس کے مالی حالات معاشرے میں نیکی اور بھلائی کے کام کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں بنتے ۔ اسلام ہی وہ ومکمل ضابطہ حیات اور مکمل دین ہے اور اپنے ماننے والوں کو بھلائی اور نیکی کے کامو ں میں ایسے انداز سے راہنمائی و تلقین کرتا ہے کہ ہر شخص کسی نہ کسی طریقہ سے بھلائی کے امور سر انجام دے اور اسے اس کی حیثیت کے مطابق خیر و فلاح کے کام کرنے کا حکم دیتا ہے ۔ نبی کریم روف الرحیم ﷺ نے فرمایا ''تم میں سے بہتر شخص وہ ہے جو دوسروں کے لیے فائدہ مند ہو''اسی طرح قرآن و حدیث میں والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے کی بہت کی تاکید آئی ہے اور بندوں کے حقوق میں سب سے زیادہ حق والدین کا رکھا گیا ہے ۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پراللہ تعالیٰ نے اپنی توحید و عبادت کے حکم کے ساتھ والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید فر مائی ہے ۔ موجودہ مادیت پرستی او ر نفسا نفسی کے اس دور میں بھی نیکی او ر بھلائی کے کام کرنے والو ں کی کمی نہیں عبدا لستار ایدھی مسیحا پاکستان جن کی ایدھی فائونڈیشن کو دنیا کی سب سے بڑی غیر سرکاری سماجی تنظیم اور دکھی انسانیت کی فلاح کے لیے ان گنت خدمات پر پوری دنیا میں عزت و احترام سے جانا پہچانا جاتا ہے او ر یہ واحد ایسا ٹرسٹ ہے جس نے کبھی بھی غیر ملکی آقائووں اور ڈونرز کی طرف نہ دیکھا اور نہ ہی ہاتھ پھیلائے جب بھی مالی ضرورت پیش آئی تواپنے ہم وطنوں سے مدد مانگ کر پوری دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستانی ایک زندہ قوم ہیںاور ان کے دل و دماغ ، قلب و نظر میں ہمیشہ سے دوسروں کے کا م آنا ان کا شیوہ ہے بلکہ ہماری اکثریتی آبادی خوددار اور اپنی مدد آپ کے سنہری اصولو ںپہ کاربند ہے ۔ ٹیکسلا سے شمالاً فاروقیہ روڈ پر 8کلو میٹر کے فاصلہ پر احاطہ تربیلا کالونی میں ایک ایسی ہی شخصیت ڈاکٹر سید اسد علی کے روپ میں گزشتہ 3دہائیوںسے میسحائی کے چرا غ روشن کیے ہوئے ہیں۔ اور ایک چھوٹے سے کلینک سے انہوں نے جو انسانی خدمت کا سفر شروع کیا تھا آج الحمد للہ السید ہسپتال تربیلا آباد کالونی احاطہ کی صورت میں غریب لوگ علاج معالجہ کی جدید ترین سہولیات سے استفادہ کر رہے ہیں ۔ڈاکٹر سید اسد علی پیشہ کے لحاظ سے ڈاکٹر ہیں لیکن ان کے اندر کا انسان ان کو ہر وقت رضائے الٰہی کے حصول کے کاموں کے لیے متحر ک رکھتا ہے ۔ علاقہ پنج کٹھہ کے غریب اور متوسط طبقہ کے لیے ان کی گراں قدر خدمات کازمانہ معترف ہے لیکن انہوں نے اپنے والد گرامی سید فدا حسین شاہ مرحوم کے نام پر میڈیکل ٹرسٹ قائم کر کے ضرورت مندوں کی حاجت روائی اور دل جوئی کا جو عظیم بیڑا اٹھایا ہے وہ یقینا ڈاکٹری یعنی طب کے پیشے سے منسلک لوگو ں کے لیے ایک قابل تقلید اقدام ہے ٹیکسلا جیون روڈ پہ ٹرسٹ کے زیر اہتمام قائم کر دہ جدید ترین لیبز سے ضروری خون، پیشاب ، ہیپاٹائٹس ، شوگر اور دیگر پیچیدہ ٹیسٹ اور طبی معائنہ برائے نام فیس میں ہر خاص و عام کراسکے گا اور مفت ادویات بھی حاصل کر پائے گا ۔ نادار اور غریب خاندان جو اس ٹرسٹ کے زیر اہتمام رجسٹرڈ ہیں ان کی تعداد ہزارو ں میں ہے وہ پہلے ہی علاج معالجہ اور ادویات و دیگر طبی سہولیات سے استفادہ کر رہے ہیں ۔ گزشتہ روز فدا حسین شاہ مرحوم کے نام سے منسوب نئے میڈیکل ٹرسٹ کی افتتاحی تقریب سے ممتاز پارلیمنٹیرین و ممبر قومی اسمبلی حاجی غلام سرور خان ،ممبر پنجاب اسمبلی ملک عمر فاروق، سید محمود حسین شاہ چیئر مین بلدیہ ٹیکسلا ، سردار راقب زمان خان ، محمد اجمل خان تنولی ، ملک ایاز محمود ، راجہ نور محمد نظامی ، طاہر درانی ، سید غلام شبیر شاہ متولی ، چوہدری امجد حسین ، ڈاکٹر الٰہی بخش اعوان اور ممتاز عالم دین علامہ مولانا منیر عالم ہزاروی ، مولانا عاصم سعید ، طارق شاہ، پاکستان یوتھ لیگ کے سربراہ عابد حسین ، نوجوان ماہر تعلیم جارج زمان ، سید محمو د علی نقی ، قمر عباس وائس آف ٹیکسلا، آغا عظمت نقوی، شعیب ہمیش اور سید ضیاء حسین شاہ کے علاوہ شہر بھر کی ہر مکتبہ فکر کی شخصیات کی شرکت نے ڈاکٹر سید اسد علی کے حوصلوں کو مزید دوام بخشا۔ ممبر قومی اسمبلی حاجی غلام سرور خان ، ممتاز عالم دین مولانا منیر عالم ہزاروی ، ملک عمر فاروق ، ڈاکٹر الٰہی بخش اعوان اور راقم نے اپنے خطاب میں ڈاکٹر سید اسد علی کومبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ انسان اپنے لیے تو جیتا ہی ہے اصل بات یہ کہ دوسروں کی مشکلات ومسائل کو محسوس کر کے دوسروں کے کام آیا جائے اور دکھی انسانیت کی خدمت کر کے کسی کی جان کو بچانا ہی انسانیت کی سب سے بڑی بھلائی ہے او ر یہی وہ امر ہے جسے دینی و دنیاوی راحت نصیب ہوتی ہے ۔ خوش بخت ہیں ڈاکٹر سید اسد علی اور ان کے معتمد ساتھی ڈاکٹر ملک الٰہی بخش اعوان ، ڈاکٹر شاہد نواز ملک اور ڈاکٹر محمد سہیل جنہوں نے اپنے والدین کے نام سے رفاعی خدمات کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے ۔اور یقینا اولاد اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے سب سے بڑی نعمت تصور کی جاتی ہے ۔ بیٹی کے روپ میں ہوتو رحمت ، بیٹے کے روپ میں ہو تو برکت او رنیک اولاد کے مقابل تو تمام اثاثے بے حیثیت اور صفر ہیں ۔ کسی شخص نے ایک بزرگ سے پوچھا میں باپ بننے پر بے حد خوش ہوں بھر پور اظہارتشکر کیسے ممکن ہے ؟ جواب ملا اولاد کی اچھی تربیت ان سے حد درجہ محبت کیسے ممکن ہے ؟ جواب ملا ''قرآن و حدیث' ہر مومن رب جلیل سے نیک اولاد کی التجا کرتا ہے حتٰی کہ انبیاء کرام بھی نیک اولاد کے لیے دعائیں کیا کرتے تھے ۔جیسا کہ سورئہ آل عمران آیت نمبر 38میں ہے '' پروردگار مجھے اپنے پاس سے نیک اولاد عطا ء فرما بے شک تو دعائیں سننے والا ہے '' جبکہ سورء الفرقان آیت نمبر 73میں ارشاد ہے کہ '' اورو ہ جو ( خدا ) سے دعا مانگتے ہیں کہ اے ہمارے پر وردگار ہم کو ہماری بیویوں کی طرف سے (دل کا چین ) اور اولاد کی طرف سے آنکھو ں کی ٹھنڈک عطا فر ما اور ہمیں پرہیز گاروں کا امام بنا ''قارئین کرام ! ''دل کی باتیں ''پڑھنے اور راہنمائی و حوصلہ افزائی فرمانے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے صرف اتنا عرض کروں گا کہ اسلام ایک مکمل دین اور ضابطہ حیات ہے اس نے اپنے ماننے والوں کو عبادات کے ساتھ زندگی کے ہر شعبہ میں بر پور راہنمائی فرمائی ہے اسلام جہاں حقوق اللہ کی ادائیگی کا حکم دیتا ہے وہاں پہ اس نے حقوق العباد کو بھی پورا کرنے کی سختی سے تاکید کی ہے اسی طرح اسلام میں بیمار بہن ، بھائی کی نہ صرف عیادت کرنے کا حکم دیا ہے بلکہ اس عمل کی بہت اہمیت اور اجر و ثواب بھی عطا ء کیاہے ۔ بلاشبہ عیادت کرنا ایک بڑی عبادت ہے لیکن آج ہم اس عظیم عبادت سے محروم ہیں ۔اللہ تعالیٰ ہمیں روحانی وجسمانی ، ـذہنی و فکری ہر قسم کی بیماری سے بچائے اور اپنے مسلمان بھائیوں کی عیادت کر کے اس اجر سے فیض لینے کی بھر پور توفیق عطا فرمائے ۔ آمین اور اس نیک کام کے ساتھ ہمیں اپنی اولاد کی حقیقی معنوں میںتعلیم و تربیت کرنے کی ہمت و استقامت عطا ء فرمائے جو بعد از مرگ ہمارے لیے صدقہ جاریہ اور آخرت کی بخشش کا باعث بنائے آمین ثم آمین ۔مادیت پرستی کے اس دور میں طب سے منسلک لوگوں کی اکثریت مسیحائی کی آڑ میں مال بٹورنے اور دکھی انسانیت کا معاشی و اقتصادی استحصال کر رہی ہے۔