قیادت

31 جنوری 2018

1997 ء سے اس وقت کی بھاری مینڈیٹ والی حکومت کا دور چل رہاتھا ،اس ’’بھاری مینڈیٹ‘‘پر سوالات اٹھتے رہتے تھے، یہ اپنا رنگ بھی دیکھا رہا تھا اوربلا کا احتساب چل رہا تھا ،مخالف جیل میں تھے یا عدالتوں کے چکر کاٹ رہے تھے، ان میںمحترمہ بے نظیر بھٹو شہید اور آصف علی زرداری بھی شامل تھے، آصف علی زرداری جیل میں تھے جبکہ محترمہ شہید اس وقت قائد حزب اختلاف تھیں ،وہ راولپنڈی سے کراچی تک مختلف عدالتوں میں پیش ہوا کرتی تھیں،میں بطور رپورٹر ان کیسزز کی کوریج کے لئے عدالتوں میں جایا کرتا تھا ،اسی طرح کا ایک دن تھا،محترمہ شہیدبی بی نے آنا تھا،لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بنچ کے بیرانی گیٹ پر کافی رش تھا ،عمارت کے اندر جانے کے خواہشمندوں کی قطار میں میری کار بھی موجود تھی، ہرلمحہ کی خبر کا دور ابھی نہیں آیا تھا،ریاستی ٹی وی پر سرکار کے منظور نظر اینکرز سرکاری سچ ہی بولا کرتے تھے،اس لئے گھر سے چلتے ہوئے یہ معلوم نہ ہو سکا تھا کہ راولپنڈی پولیس نے عدالت میں جانے والے پی پی پی کے کارکنوں کی کچھ دیر قبل کافی گوشمالی کی ہے، اس کی وجہ در اصل یہ تھی ایک روز قبل پی پی پی کی ایک پرجوش خاتون کارکن نے ایف بی آر کے ایک افسر کے منہ پر کمرہ عدالت کے اندر ساہی پھینک دی تھی،افسر نے گھبرا کر اپنا منہ صاف کیا تو سیاہی سے اس کا سارا منہ کالا ہو گیا،چند قدم دو ر کھڑا میں یہ منظر دیکھ رہا تھا،مذکورہ خاتون کارکن کو تو بعد ازاں گرفتار کر لیا گیا، اس واقعہ کے باعث سختی شروع ہوئی جس کی ذد میں پی پی پی کے کارکنوں کے علاوہ صحافی بھی آئے،ایک وکیل صفائی جو بعد میں پی پی پی کے بہت ’’لاڈلے‘‘بنے جیل یاترا کے لئے بھیجے گئے،اب وہ کسی اور جماعت میں ہیں، میں نے انچ ،انچ کار کو آگے بڑھاتے گیٹ کو عبور کر لیا ،بار ،بار اپنی شناخت کا ثبوت دینا پڑا،اس طرح کمرہ عدالت میں داخل ہو گیا،بی بی شہید آئیں،آصف علی زرداری بھی آئے اور مقدمہ کی سماعت ہوئی،جب بھی سماعت میں وقفہ آیا کرتا تھا،تو بی بی شہید سے بات ضرور ہوتی تھی،اس روز بھی ایسا ہی ہوا تھا،بی بی شہید کی باتوں میں جو سب سے خاص بات تھی وہ یہ تھی کہ وہ اپنی ذاتی مشکلات سے کہیں ذیادہ ملکی،بین الاقوامی ایشوز،ریاستی تعلقات ،اور سیاسی معاملات پر اظہار خیال کیا کرتی تھیں،آصف علی زرداری بھی جیل کی مشکلات کو لطیف انداز ہی میں بیان کرتے تھے،چھوٹے جملے میں پتے کی بات کر ناآتا تھا،اس طرح بی بی شہید کے جانے کے بعد بھی کافی دیر تک نشست چلتی رہتی،اس دور میں کیسے مقدمات بنے اور کیسے سزائیں دی گئیں یہ تو تاریخ کا حصہ ہے ،اس پر بہت کچھ کہا اور لکھا جا چکا ہے،جس جانب جانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ سیاست بھی وہی اچھی کر پاتے ہیں جو پڑھتے ہیں،اور جن میں مشاہدہ کی خوبی ہوتی ہے،جو معاشرت،معیشت،ریاستوں کے درمیان تعلقات کی حقیقت،ریاست کے ستونوں میں توازن، ملکی مفاد کی بالادستی اور زبان وبیان پر قدرت رکھتے ہیں،جو ’’چڑی اور چڑے‘ کی سادہ سی کہانی میں پنہاں سبق کو اہم جانتے ہیں، اس کے بر عکس ذاتی دکھڑے‘‘ میں مبتلا ہو کر سیاست کا رخ متعین کرنے والے بند گلی میں داخل ہو جاتے ہیں،اور ان کور غبار راہ بننے میں ذیادہ دیر نہیں لگتی،محترمہ بی بی شہید تو نہ رہیں مگرورثہ اور سوچ موجود ہے،یہ سوال عام طور پر پوچھا جاتا ہے کہ کیا اس ورثہ اور سوچ کو آگے لے جانے والا کوئی اہل موجود ہے؟پی پی پی کی 2008ء سے 2013ء کے دور میںایسے اثار بہت کم نظر آئے تھے جن سے قیادت کی اہلیت کو سراہا جا سکتا ہو،پہت سا وقت آئین کو درست کرنے میں صرف ہوا جو درست عمل تھا،این ایف سی کیا گیا،اچھی بات تھی،ریونیو 1800ارب تک گیا،جی ڈی پی گروتھ بہت کم رہی جس سے غربت بڑھی،مسائل تھے مگر یہ تاثر بھی تھا کہ وقت گزاری کی پالیسی چلتی رہی،دراصل جاندار قیادت کا فقدان ہی منفی تاثر کا باعث بنا تھا،یہ مسلہ اب حل ہوتا نظر آرہا ہے،پی پی پی کی بقا کا انحصار جاندار قیادت میں مظمر ہے،وہ قیادت بلاول بھٹو زرداری کی شکل میں ان بہت حد تک ابھر کر سامنے آ چکی ہے اس کا ملک گیر امتحان سال رواںانتخابات میں ہو گا،چند روز ہوئے میں ایک ٹی وی پر بلاول بھٹو زرداری کا ڈیوس میں ایک غیر ملکی نیوز آوٹ لٹ کو دیا جانے والا انٹر ویو سن رہا تھا، سوالات ہوئے،اور جو جوابات دئیے گئے وہ مذکورہ بالا اصولوں کے عین مطابق تھے،ان میں توازن تھا،ملکی مفاد کی بات تھی،بین الااقوامی مسائل پر نظر اور ادرک سمجھ میں آرہا تھا،ذاتی دکھڑے سرے سے موجود نہ تھے،اس باریکی کو سمجھا گیا تھا کہ ’’کس‘‘ سے ’’ کہاں‘‘ اور ’’کیا‘‘ بات کی جاری ہے،استدلال میں والدہ کے انداز کی جھلک بھی نمایاں تھی،ایسا محسوس ہوا کہ دس سال میں بہت سا سفر طے کیا گیا ہے،مگر فولاد بننا ہے اور وہ بھی’’ سٹین لیس‘‘،بلاول بھٹوتھوڑی کوشش کریںاور عوام سے براہ راست مخاطب ہوا کریں،لکھی ہوئی تقریر میں خیال اپنا ہی کیوں نہ ہو الفاظ دوسرے کے ہوتے ہیں،اپنا خیال اور اپنے الفاظ میں جو جادو ہے وہ کسی اور چیز میں نہیں،پبلک پلس جاننے کے لئے متنوع زرایع ہونا چاہئے،کسی ایک یا چند افراد پر انحصار ہمیشہ خطرناک ہوتا ہے،ایک ایسے ملک میں جہاں بیمار ماحول کی وجہ سے بد اعتمادی پھیلانا بے حد آسان کام ہے،واقعی چھوٹی خبر تیز دھار والا آلہ ہے،یہ بھی استعمال ہو گی، یہ کام شروع بھی ہو چکا ہے ،اس لئے میڈیا کو جانیے،سوشل میڈیا پر نظر رکھیے خبر دار رہیے کہ آپ کو بھی ان سے ہی لڑنا ہے جن سے آپ کی والدہ لڑتی رہی ہیں،ان دشمنوں کے نام ہو سکتا ہے بدل گئے ہوں ان کے کام وہی ہیں۔