ووٹ کا تقدس یوں بھی بحال کریں(1)

31 جنوری 2018

ہر ایک کا عدل، انصاف، خبر، سچائی اور جھوٹ کا اپنا اپنا معیار ہے۔ یہ معیار ذاتی مفادات کی چادر اوڑھے ہوئے ہے۔ اسی چادر کی اوٹ سے معیارات جانچے جاتے ہیں۔ اگر کوئی جے آئی ٹی بنتی ہے اور اس کی رپورٹ حکومت یا طاقتور شخصیات کے خلاف آتی ہے تو اسے قومی مفادات کی چادر میں لپیٹ کر کسی تہہ خانے میں محفوظ کر لیا جاتا ہے۔ اگر رپورٹ حکومت یا قوی شخصیات کے حق میں آئے تو اسے فورا ًپبلک بھی کر دیا جاتا ہے۔ معیارات مختلف ہیں۔ قومی مفاد کی اصطلاح بھی اپنی تقدیس کا پورا خیال رکھتی ہے۔ اشارے کنایے میں کی گئی بات ہی فصیح ہوتی ہے اور جہان ِ معنی کی آئینہ دار بھی۔ صحافت اور صحافیوں کے بھی اپنے اپنے معیارات ہیں اور اپنے اپنے ممدوح۔ ہاں وہ جنھیں آزاد اخبار نویس کہا جاتا ہے وہ کم یاب ہیں، مگر موجود ہیں۔ انسان سے بڑھ کے مقدس اور کیا شے ہوگی؟ اللہ رب العزت نے جسے احسن التقویم پہ خلق کیا۔ احسن التقویم، یعنی بہترین معیارِ عدل۔ بے شک میرا رب ہی سب سے بڑا عادل ہے۔ جدید انسانی تاریخ میں کار ِحکمرانی کے لئے جس نظام کو پذیرائی ملی، اسے جمہوریت کہا جاتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں اس نظام کو زبردست پذیرائی ملی۔ ترقی پذیر ممالک میں البتہ جمہوریت مختلف گروہوں، خاندانوں، کاروباری و زمینداری شخصیات اور برادریوں کے تحفظ کا نام رہ گئی۔

ہمارے ہاں سیاست دانوں کو جمہوریت، اس کے فوائد اور عوام کے حق ِحکمرانی کی یاد اس وقت آتی ہے، جب ان کے ذاتی مفادات پر زد پڑتی ہے، بے شک ہماری سیاسی تاریخ اس امر کی شاہد ہے۔ بس مطالعہ کرتے ہوئے تعصب کی عینک ایک طرف رکھ دی جائے تو ہر چیز آشکار ہے۔ ہم مگر وہ کم فکر ہیں، جو فلسفیانہ و منطقی انداز میں سوچنے کے بجائے موروثی انداز میں سوچتے ہیں۔ اتنی نسلوں سے پیپلز پارٹی کے ہیں اور اتنی نسلوں سے مسلم لیگ کی شاخ در شاخ تقسیم کے ہم رکاب۔ کیا یہ ہمارے سماج کے سیاسی فہم کا منفی رحجان نہیں؟ کیا یہ فکر ہمارے معاشرے کی سیاسی غربت کا ثبوت نہیں؟ بالکل ایسا ہے، مگر ہم سوچتے کم ہیں۔ سماج کا غالب حصہ حکمران طبقے کی روش پہ چل نکلا ہے۔ متشدد انداز ِ فکر، بات کو اپنے حق میں منوانے کا رویہ، یا جارحانہ کوشش۔ اے کاش ایسا نہ ہوتا۔
عدل کا معیار کیا ہے؟ ووٹ کی تقدیس کیا ہے۔؟نااہل ہونے والے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا کہنا ہے کہ آنے والے انتخابات میں وہ اور ان کی جماعت ووٹ کے تقدس اور عدل کی بحالی کے نکلیں گے اور یہی ان کا نعرہ ہوگا۔ سوال مگر یہ ہے کہ ووٹ کے تقدس اور’’ پورے عدل‘‘ کا خیال انہیں اب ہی کیوں آیا؟ کیا چھانگا مانگا کی سیاست ووٹ کے تقدس کو مجروح کرنے کے مترادف نہیں تھی؟ زرداری صاحب قول دہراتے ہیں کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے، مگر کس سے؟ عمران خان صاحب کو ساری خرابیاں سندھ اور پنجاب و وفاقی حکومت میں نظر آتی ہیں، مگر کے پی کے، کے حوالے سے ان کے لب خاموش ہیں۔ معیار ہر ایک کا اپنا ہے اور ترجیحات واضح۔ ذاتی و خاندانی منفعت۔ یہی ان لوگوں کے نزدیک ووٹ کا تقدس بھی ہے اور یہی عدل بھی۔ جو فیصلہ ان کے حق میں آئے، وہ عین ِ عدل ہے اور جو انہیں پسند نہ آئے، وہ عدل نہیں بلکہ ظلم ہے۔ حالانکہ اصل ظلم تو عوام کے ساتھ ہو رہا ہے۔ جنھیں نہ تو تعلیم کی سہولیات دستیاب ہیں اور نہ صحت کی سہولیات تک ان کی دسترس ہے۔ جن کے پاس نہ روزگار ہے اور نہ کاروبار۔ جب سے پاکستان معرض ِ وجود میں آیا، چند خاندانوں نے اس پہ اپنے پنجے گاڑھ لئے۔ اس ملک کی معیشت کو نچوڑنے میں جو بھی ان کے ہمرکاب ہوا، اسے انہوں نے خوش آمدید کہا اور جس نے ان کے راستے اور رویے پہ تنقید کی، اسے نشان ِ عبرت بنا دیا گیا۔ یہی تاریخ ہے، یہی سچ بھی۔
پاکستان سٹیل ملز خسارے میں، پی آئی اے خسارے میں، ریلوے کا برا حال، ہسپتالوں میں بیڈ کم اور مریض زیادہ، وبائی امراض سے لوگ مر رہے ہیں، مرتے آ رہے ہیں، ڈینگی ابھی کل کا واقعہ ہے، سوائن فلو، نمونیہ اور دیگر وبائی امراض کے ہزاروں مریض ہسپتالوں میں، معمول کی ادویات کے علاوہ ضروری ادویات پرائیویٹ میڈیکل سٹورز سے خریدنا پڑتی ہیں۔ بیماری کو تشخیص کرنے والے بیشتر ٹیسٹ پرائیویٹ لیبارٹریز سے کروائے جاتے ہیں۔ تعلیم اس قدر مہنگی کہ رہے نام اللہ کا، مظلوموں کے ساتھ تھانوں میں غیر انسانی رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔ (جاری ہے)
، جبکہ طاقتور مجرموں سے صرف ِنظر کیا جاتا ہے۔ یہ جو آئے روز معصوم ننھی کلیوں کو درندے مسل رہے ہیں، کیا یہ ووٹ کے تقدس کی توہین نہیں؟ کیا لوگوں نے اس لئے ووٹ دیئے کہ ان کی عزتیں پامال کی جائیں اور ان کے بچوں کو قتل کیا جائے؟ جب کوئی حکومت اپنے عوام کے جان و مال کا تحفظ نہیں کر پاتی تو اس کے پاس حکمرانی کا کیا جواز رہ جاتا ہے؟ کیا مینڈیٹ سے مراد یہی ہوتی ہے کہ جو من مرضی میں آئے کرتے پھریں؟ لوگ کسی بھی سیاسی جماعت کو مینڈیٹ صرف سڑکیں بنانے کا نہیں دیتے۔ لوگوں کی ترجیح غربت کا خاتمہ، روزگار کے سہل مواقع، عدل و انصاف کی فراہمی، تعلیم و صحت اور رہائش کی سہولیات ہیں۔ حکمران طبقہ کی ترجیحات مگر اور ہیں۔ بے شک نااہل ہونے والے سابق وزیراعظم کھلم کھلا اداروں پر تنقید کرکے لوگوں کا اداروں پر سے اعتماد متزلزل کر رہے ہیں۔ وہ مظلوم بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اپنے ذاتی دکھ کو عالمگیر دکھ بنا کر پیش کرنا چاہتے ہیں۔
ووٹ کا تقدس یہ ہے کہ عوام کو سکھ ملے، لوگ اس لئے ووٹ نہیں دیتے کہ آپ کے ہر عہد میں سکینڈل پڑھنے کو ملیں بلکہ لوگوں کی بھی ترجیحات ہیں۔ اچھی اور عوام دوست حکومت۔ آنے والے نسلوں کا محفوظ مستقبل اور اس کے لئے پیش بندی۔ پیپلز پارٹی کی حکومت رہی ہو یا نون لیگ کی؟ یا کے پی کے، میں پی ٹی آئی کی، ان سب نے نوجوان نسل کا مستقبل محفوظ کرنے کے لئے کیا پیش بندی کی ہے؟ سوائے ایک دوسرے پہ الزام تراشیوں کے، ان کے ہاتھ اور ہے ہی کیا؟ موٹر وے، موٹر وے۔ کیا پیپلز پارٹی کے پاس بھی ’’ شہید بھٹو زندہ ‘‘ہے کے، سوا کوئی ایسا پروگرام ہے، جو موجودہ عہد کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوتا نظر آئے؟ کیا پی ٹی آئی ان کرپٹ عناصر کی طرف بھی مڑ کر دیکھے گی، جو اس کی اپنی صفوں میں کھڑے مسکرا رہے ہیں؟ بخدا ان سب کی ترجیحات ذاتی ہیں۔ خارجہ پالیسی کا پلان کیا ہے، ان کے پاس جو کہتے ہیں کہ عدل اور ووٹ کے تقدس کے لئے نکلیں گے۔ کیا ووٹ کا تقدس یہ ہے کہ واشنگٹن کی طرف منہ کرکے سیاسی نماز ادا کی جائے؟ یا ووٹ کا تقدس یہ ہے کہ جنھوں نے ووٹ دیا، ان کی توقع اور امیدوں پر کم از کم پورا اترا جائے۔ ووٹ کا یہ تقدس بڑا عجیب ہے کہ سیاستدانوں کے اثاتے بڑھ رہے ہیں اور ووٹروں کے کم ہو رہے ہیں۔ عدل کا معیار وہ نہیں، جو آپ چاہتے ہیں۔ اگر واقعی عدل آپ کو عزیز ہے اور معاشرے میں عدل کے لئے آپ قیام ناگزیر سمجھتے ہیں تو کم از کم، قصور کے ان بے قصور بچوں کو عدل دلا دیں، جنھیں درندوں نے نوچ ڈالا۔ ووٹ کا تقدس اور عدل آپ کو بہت عزیز ہے تو دہشت گردوں کے ان سہولت کاروں کو عبرت ناک انجام تک پہنچانے میں کردار ادا کریں، جو کہیں آپ کے آس پاس ہی پائے جاتے ہیں۔ نواب آشفتہ یاد آتے ہیں:
افسوس بے شمار سخن ہائے گفتنی
خوف ِ فساد ِخلق سے ناگفتہ رہ گئے