عوام ہشیار!کیا جنسی تعلیم مسئلہ کا حل ہے ؟

31 جنوری 2018

اٹھارویں صدی کے اختتام اورانیسویں صدی کے آغاز میں عورت کو معاشی وسیاسی طور پر خود کفیل کرنے کا نعرہ بلند کیا گیا یہ نعرہ جمہوری اشرافیہ کی خود ساختہ تخلیق تھا مبغوض ملحدوں نے اپنے مشن کو پورا کرنے کے لیے ڈرامہ فیشن فلم کو رواج دیا اس جدید فحاشی کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو قدامت پسند ،رجعت پسند اورتاریک خیال تصور کیا جانے لگا اور اس قسم کی سوچ رکھنے والوں کے خلاف طرح طرح کا منفی پروپیگنڈا کیاجاتا نتیجہ یہ نکلا کہ مغرب میں عورت کی عزت اورتصورِ عزت معدوم ہوگیا جنسی انارکی ،فواحش کی کثرت ،جسمانی قوتوں کاانحطاط اورخاندانی نظام زوال پذیر ہوتاچلاگیا نکاح کو قید وبند اور بنیادی حقوق کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا جانے لگا خود دار ،عزت دار ،وفا شعار،تربیت کی پہلی درسگاہ اپنی شناخت گنوا بیٹھی مغرب کی یہ منحوس مہم ایشیا ء کی جانب پھیلائی گئی اور ار ض پاک میں انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں اس کی خوب پرموشن کی گئی گندے گیت سنگیت پر ریاست خاموش تماشائی بنی رہی’’ گنڈی نا کھڑکا ‘‘جیسے غلیظ گیتوں پر سنسر بورڈ اُلو کی عینک چڑھائے غفلت کی نیند سویا رہا کیوں؟ا سٹیج ڈراموں میں سینکڑوں حاضرین کی موجودگی میں ’’ ماں بہن ‘‘کوگالیاں دینے پر قہقہے لگائے جاتے ہیں سینسر بورڈ کے کا ن پر جوںتک نہیں رینگتی کیوں ؟ گندے مجروں کی سی ڈ یز برائے فروخت کوئی اس کی روک تھام کے لیے سرگرم نہیں ہے کیوں ؟ بیٹی زینب قتل کیس کو جواز بنا کر بعض میڈیا نیٹ ورک جنسی تعلیم کی راہ ہموار کرنے کے لیے سرگرم ہیں صیہونیوں کے ٹکڑوں پر پلنے والے پاکستان کی ثقافت اور تہذیب کو ختم کرنے کے در پے ہیں مثل مشہور ہے گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے اسلام کا لبادہ اوڑھے یہ سیکولر اینکر جنسی تعلیم کو پرموٹ کرنے کے لیے رات دن گلے پھاڑرہے ہیں قانون تحفظ ختم نبوت ورسالتؐ پر ڈاکہ ڈالنے والے ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں ’’بکائو سیکولر پھکی‘‘ فروخت کرنے والے چاہتے ہیں ہر چیز برائے فروخت ہوجائے غیرت وحمیت اہلیان پاکستان سے رخصت ہوجائے صہیونی مبغوض توچاہتے ہی یہ ہیں کہ اہل اسلام بے راہ روی کے راستے پر گامزن ہوجائیں سوال یہ ہے کہ کیا جنسی تعلیم مسئلے کا حل ہے یا مزید بگاڑ ؟ بین الاقوامی ویب سائٹ رین کے مطابق امریکہ میں ہر 98سیکنڈ میں ایک عورت کو جنسی ہو س کانشانہ بنایا جاتا ہے نیشنل سیکسویل وائیلینس ریسورسز سنٹر کے مطابق 4میں سے 1لڑکی اور 6میں سے1 لڑکا جن کی عمریں 18سال سے کم ہیں 34فیصد جنسی زیادتی کا شکار ہوتے ہیں فیملی رکھنے والی عورتوں کی تعداد 12.3فیصد ہے 10سال کی عمر میں 30فیصد بچیوں کو جنسی ہو س کانشانہ بنایا جاتاہے تقریبا 325000بچے ہر سال جنسی استحصال کا شکار ہوتے ہیں 325,000 children are at risk of becoming victims of commercial child sexual exploitation each year فرسٹ پوسٹ بجٹ کے مطابق انڈیا میں ہر روز 95ریپ کے کیس درج ہوتے ہیں وہ کیس جنہیں رپورٹ نہیں کیا جاتا ان کی تعداد بہت زیادہ ہے دنیا کے دیگر سیکولر ممالک میں عورتوں کے علاوہ مردوں کے ساتھ جنسی تشدد اپنے عروج پر ہے یہ وہ ممالک ہیں جہاں جنسی تعلیم دی جاتی ہے وہاں گھناونا دھندہ کیوں کم نہیں ہوتا وجہ سادہ سی ہے انسانی کی فطرت اوراس کے چال چلن اوراسے درست سمت پر رکھنے کا بہترین فارمولا اللہ تعالیٰ نے کتاب مجید کی صورت میں نازل کیا ہے جب بھی اس سے رو گردانی کی جائے گی تواس کے اثرات بھیانک ہونگے ماضی میں جب الیکڑانک میڈیا کا وجود نہیں تھا تو یہ امراض کم تھے جوں جوں فحاشی پر مبنی اسٹیج ڈراموں کو پرموٹ کیا گیا توں توں امراض بڑھتے گئے جس کے ابتدائی بھیانک اثرات سے قوم نبردآزما ہے ۔تمام اہل فکر کو معلوم ہونا چاہیے کہ اہل مغرب کی تہذیب اپنانے سے جنسی تعلیم کے اجراء سے یہ مرض ختم نہیں ہوگا یہ مرض ختم ہوگا سینوں میں ایمان کی افزائش کرنے سے جناب رسالت مآب ؐ نے جہالت زدہ معاشرے کی اصلاح جو پہلواپنائے انہی پہلوں کو اپنا کر سماج کے بڑھتی ہوئی بے راہ روی کے سامنے دیوار کھڑی کی جاسکتی ہے اصلاح باطن پر فوکس کیا جائے تعزیراتی قوانین کو موثر اوربروقت عملددرآمد کویقینی بنایا جائے انسدادی تدابیر متعارف کروائی جائیں تاکہ معاشرے کے رنگ ڈھنک کو مثبت سوچ سے ہم آہنگ کیا جاسکے مستورات کو اسلامی اخلاق سے آشنا کروانے کا خصوصی اہتمام کیا جائے جیساکہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں سے متعلق قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے تم نرم لہجے میں بات نہ کروکہ جس کے دل میں روگ ہووہ براخیال کرے ۔قرآن کریم کی اس آیت میں تحفظ نسواں کا بنیادی اصول متعارف کروایا گیا ہے یعنی فطری اعتبار سے ہی اگر مرد کسی عورت سے مخاطب ہوتاہے اور وہ جواباًاسلامی تعلیمات کے مطابق لب ولہجہ استعمال کرتی ہے تویقینا جس کے دل میں مرض ہے اسے قطعا نازیبا حرکت کی جرات نہ ہوگی ہے یعنی اللہ تعالیٰ فتنہ نظر ،جذبہ نمائش حسن ،فتنہ زبان وآواز وخوشبو سے متعلق پہلے ہی بنیادی اصول متعارف کروادیے جہاں جہاں زمین پر اسلامک قوانین رائج ہیں وہاں وہاں ایسے مکروہ افعال کی شرح انتہائی قلیل بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

جنسی تعلیم مسئلے کا حل نہ تھی نہ ہے اورنہ کبھی ہوگی البتہ یہ پاگل ہو س پرستوں کی خواہش کے سوا کچھ بھی نہیں بہترین اسلامی ماحول اورتربیت انفرادی واجتماعی ذمہ داری سے اس عمل کو ختم کیا جاسکتا ہے ۔