زینب کا قاتل یہ نظام ہے

31 جنوری 2018

قصور میں۳۰۰بچوں کے ساتھ زیادتی کے گھناؤنے انکشاف کے بعد ابھی تک قوم کے شرم سے جھکے سر اُٹھے نہیں تھے کہ ایک اور اندوہناک واقعہ نے پوری قوم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔سات سالہ زینب کے ساتھ جس درندگی اور بہیمیت کا مظاہرہ ہوا اُس پر اُس کے والدین پر جو قیامت گزری اس کا دکھ اور کرب سینے میں دل رکھنے والا ہر شخص محسوس کر سکتا ہے 

یہ سب کچھ اس ملک میں ہورہا ہے جو اسلام کے نام پر بنا تھا اور یہ سب اس قوم کے بچے ہیں جس نے اس نعرے اور اس دعوے پر اپنے گھر بار چھوڑے اور ہر طرح کی جان ومال کی قربانیاں دیں کہ یہاں اسلامی معاشرے کا قیام عمل میں لایا جائے گا ۔’’پاکستان کا مطلب کیا : لاالٰہ الا اللہ‘‘ ان کا نعرہ اور دو قومی نظریہ ان کا نظریہ تھا کہ ہندو مشرک ‘غاصب اور متعصب ہیں ‘ہمارا ان کے ساتھ گزارا نہیں ہوتا‘ لہٰذا ہم اپنا ایک الگ وطن بنائیں گے کہ جہاںہماری نسلیں قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزار سکیں۔مگر انہیں کیا معلوم تھا کہ ان کے لخت جگر یہاں اس قدر مکروہ ترین ابلیسی کھلواڑ کا شکار بنیں گے جس کا تصور کسی بگڑے سے بگڑے ہوئے معاشرے میں بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ہمارا آئیڈیل نظام تو وہ نظام عدل اجتماعی تھا جس میں اکیلی عورت ایک شہر سے دوسرے شہر سفر کرے مگر اُسے کوئی آنکھ اُٹھا کر دیکھنے کی جرأت نہ کرے ‘جہاں زکوٰۃ دینے والا گلی گلی خوار ہوتا پھرے مگر اسے کوئی زکوٰ ۃ لینے والا نہ ملے ۔ مگر ایسا کیا ہوا کہ آج ہم ایک ایسے نظام کی دلدل میں پھنس گئے جہاں ہماری عزت ‘جان و مال تک محفوظ نہیں ہے ۔ یہاں تک کہ معصوم بچوں کی زندگیاں بھی محفوظ نہیں ہیں ۔جہاں خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کی تعداد میں جس تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ‘ اس سے چار گنا تیزی سے حکمرانوں کی آف شور کمپنیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے ۔جہاں انسانیت ناپید ہے ‘ جہاں معصوم اور بے گناہ لوگوں کی عزتوں اور عصمتوں کو بھی کاروبار بنا لیا گیا ہے۔ جہاں خداخوفی‘تقویٰ‘ پرہیز گاری کا نام تک نہیں ۔جہاں ابلیس ننگا ناچ رہا ہے ۔ہر نئی صبح ہمارے بھٹکے ہونے کی وعید سنا رہی ہے ‘ہر چڑھتا سورج ہمیں اصل راستے کی کھوج لگانے کی تلقین کر رہا ہے ‘ہر دن روح کو چھلنی کر دینے والا کوئی نہ کوئی واقعہ ہمیں سمجھ جانے اور ہر دن ایک نئی ٹھوکر ہمیںسیدھے راستے پر چلنے کی تاکید کر رہی ہے‘ مگر ہم ہیں کہ نہ ذرا ٹھہر کر سوچتے ہیں‘نہ بھٹکنے کا احساس ہے اور نہ ہی انجام کی فکر ہے۔
آج زینب کا اندوہناک قتل جہاں قاتلوں کی عبرتناک سزا کا تقاضا کرتا ہے وہاں کیا اس بات کا تقاضا نہیں کرتا کہ ہم بحیثیت قوم کچھ دیر رُک کر سوچیں کہ ہماری منزل کہاں تھی اور کہاں پہنچ گئے ہیں؟ یہ سب ہمارے ساتھ کیوں ہو رہا ہے ؟ٹھوکر پر ٹھوکر لگنے کے باوجود ہم نہ یہ سب جاننے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ ہی یہ سوچتے ہیں کہ اس کا مستقل اور دائمی حل کیا ہونا چاہیے۔ بس دوچار مذمتی بیانات ‘پریس کانفرنسیں ‘ صفائیاں ‘الزامات اور بس !سیاسی جماعتوں کا ایجنڈا زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا ہے کہ واقعہ کو اپنے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کیا جائے ۔ اپوزیشن میں ہیں تو حکومت کی نااہلی قرار دے دو ‘حکومت میں ہیں تو حکومت کے خلاف سازش قرار دے دو ۔ این جی اوز اور سماجی تنظیمیں اپنا اپنا ایجنڈا لے کر سامنے آجاتی ہیں کہ بچوں کو جنسی تعلیم دو۔سیکولرلبرل عناصر کا ایجنڈا تو اس سے بھی اوپر کا ہے کہ معاشرے میں جنسی آزادی ہو ۔ دانشور زیادہ سے زیادہ نظام کی خرابی کی بات کہہ دیتے ہیں ‘مگر اسلام کے نام پر بننے والے اس ملک میں کوئی ایسانہیں ہے جو یہ کہے کہ اللہ کی عطا کی ہوئی اس سرزمین پر اللہ ہی کا دیا ہوا نظام نافذ کرو تاکہ عدل وانصاف قائم ہو ۔ ہمارے ہاں جنسی تعلق کے لیے نکاح شرطِ لازم ہے اور کچھ مشرقی روایات کی پاسداری بھی ہے۔ شرم وحیا کے تقاضے بھی ہیں۔مغرب میں معاملہ بالکل اس کے برعکس ہے۔وہاں تو کھلی آزادی ہے ‘ ننگ دھڑنگ معاشرہ ہے ۔ آئیے ! ایسے باطل ‘دجالی ‘استحصالی نظام پر لعنت بھیج کر اپنے اصل کی طرف لوٹ آئیں اور اس فطری اور حقیقی نظام کو اپنے معاشرے میں قائم کریں جس کے لیے ہم نے یہ ملک بنایا تھا۔ جو قائداعظم اور اقبال کا خواب تھا ۔ آئیے ‘ اب بھی وقت ہے کہ ہم لوٹ جائیں اس راستے کی طرف جو رحمتوں ‘کامیابیوں اور کامرانیوں کا راستہ ہے ‘کیونکہ وہی ایک راستہ ہے جو رحمۃ للعالمین ﷺ کا بتایاہواراستہ ہے ۔