مشیر خارجہ کا ”روشن خیالی“ کا نیا گمراہ کن ایڈیشن؟

31 دسمبر 2013

ابھی قوم جنرل (ر) پرویز مشرف کی روشن خیال اعتدال پسندی "ENGLIGHTENED MODERATION" کے قومی جسد پر لگے زخم مندمل نہیں کر پائی اور بھگت رہی ہے‘ اسی دوران اب ملکی سلامتی و خارجہ امور کے نگہبان نے نئی بحث چھیڑ کر سوئی ہوئی پاکستانی اشرافیہ اور قوم کو ”جگا“ دیا ہے۔ جناب سرتاج عزیز (کہ وہ آخر بزرگ ہیں!) وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی و خارجہ امور نے نئے گل کھلاتے ہوئے بھارت دوستی کے دلفریب نعرے کو بلند آہنگ میں بڑے ماہرانہ انداز میں گانا شروع کر دیا ہے۔ کہتے ہیں ”بھارت سے معاملات میں بہتری پاکستان کی خارجہ پالیسی کی اولین ترجیح ہے! ہم تجارت اور اقتصادی تعلقات کی بنیاد پر خارجہ پالیسی تشکیل دینا چاہتے ہیں چند روز قبل وہ وزارت خارجہ کے ذیلی تھنک ٹینک‘ انسٹیٹیوٹ آف سٹرٹیجک سٹڈیز کے اسلام آباد میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔ سرتاج عزیز کہتے ہیں کہ ”بھارت سے اچھے تعلقات نوازشریف حکومت کی ترجیح ہے کیونکہ نئے حالات میں نظریات بھی تبدیل ہو رہے ہیں! مزید فرمایا کہ ”جنوبی ایشیاءمیں پائی جانے والی نفرت انگیز دشمنی پر پاکستان بھارت تعلقات کو بہتر بنا کر قابو پایا جا سکتا ہے“!! یہ تو بتا دیتے نفرت انگیز دشمنی کرتا کون ہے؟ بھارت؟
قومی سلامتی کے تقاضے کیا ہیں۔ یہ ان کو چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف‘ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام نے اب تک چھ‘ سات میٹنگوں میں بریفنگ دے کر بتا دیا ہو گا۔
 غیرت مند قوم ایسے ”لیڈروں“ کا ”باجا“ بجا دیتے ہیں۔ اگر کوئی شک ہو تو لیبیا‘ عراق‘ تیونس‘ مصر‘ ترکی کے گذشتہ پانچ سالوں پر نظر دوڑا لیں قوم اپنے بنیادی نظریات‘ اساس‘ حقوق‘ آئین و قانون کی سربلندی‘ آمرانہ طرز حکومت (خواہ وہ جمہوریت کے لبادے میں ہو) ظلم و جبر اور سٹرٹیجک مفادات پر سمجھوتہ نہیں کرتی‘ ریاست کے مفادات اور اساس کی نگہبان ساری قوم بھی ہوتی ہے‘ حکمران محض نگران!
بھارت سے امن ہر پاکستانی عاقل بالغ کی متفقہ رائے ہے لیکن اور بہت بڑا لیکن .... یہ ہے کہ ہمارے دشمن کافر ملک سے کیا صرف ٹماٹر‘ آلو‘ چینی‘ کاروں‘ موٹرسائیکلوں‘ کپڑے‘ ادویات کیلئے‘ ”مقبوضہ کشمیر کی شہہ رگ“ کو ہندو لالوں کے خونخوار ”جبڑوں“ میں رکھ کر آئندہ پندرہ سال میں سارا سرسبز پاکستان ”بنجر“ کروا کر گندم‘ چاول کیلئے بھی بھارت سے ”بھیک“ کا راستہ اپنا لیا جائے؟؟
مشیرخارجہ اقتصادی استحکام‘ معاشی ترقی کے آئندہ 20 سال کے منصوبوں کا ”بیڑا غرق“ کرانے کیلئے کیوں کمر بستہ ہیں؟ مقبوضہ کشمیر کو بھول کر یا سردخانے میں ڈال کر سارا پنجاب اور سندھ آپ ریگستان بنوانا چاہتے ہیں؟ نہ زراعت اور نئے پانی کے بجلی گھروں کے قیام کیلئے پانی ہوگا نہ 2 روپے یونٹ کی بجلی آئندہ دس سال میں ملک میں ملے گی!! آج یہ 14 روپے تک فی یونٹ ہے۔ آئندہ 7 سال بعد شاید 20 روپے یونٹ میں بھی نہ ملے !! خواب البتہ وزیر پانی و بجلی اور حکمران یہ دکھا رہے ہیں کہ ہم بجلی سستی کر دیں گے!! ہزاروں ملیں‘ فیکٹریاں بند ہو گئیں‘ باقی جلد بند ہو جائیں گی جو زراعت میں ابھی پاکستان گندم اور چاول یا گنے میں خودکفیل ہے یا برآمد بھی کر پا رہا ہے۔ 15 سالوں بعد کشمیر آزاد نہ کروا کر بھارت کے جدید ترین کھربوں کے نئے ڈیزائن کے ڈیموں سے پانی موڑ کر یا بڑی جھیلیں بھر بھر کر‘ روک کر‘ ہمیں گندم‘ چاول‘ گنے‘ دالوں کی پیداوار سے بھی ہاتھ دھونا پڑیں گے! یہ صاف صاف نظرآرہا ہے!
سرتاج عزیز اقتصادی استحکام‘ معاشی ترقی کے قومی سلامتی سے تعلق کو کیسے ختم کر سکتے ہیں؟؟ روس جیسی ”سپر طاقت“ اندرونی انتشار‘ بے چینی‘ بیروزگاری‘ مہنگائی کے ہاتھوں اور بیرونی مداخلت کی وجہ سے کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہو گئی۔ پاکستان کو بھی یہود و ہنود کم از کم پندرہ سال سے اسی طرح کمزور کرنے کیلئے ”بے شمار ہتھکنڈوں“ کا استعمال کر رہے ہیں۔ کیا سرتاج عزیز قوم کو بتانا پسند کریں گے کہ بھارت سے معاملات میں بہتری‘ تجارت اور اقتصادی تعلقات کی بنیاد پر خارجہ پالیسی کی تشکیل مقبوضہ کشمیر‘ سیاچن‘ سرکریک کو بھول جاﺅ یا بقول آصف علی زرداری دس سال کیلئے ”سردخانے“ (کوڑا دان؟) میں ڈال دو“ کی قیمت پر ہونے جا رہی ہے یا نہیں؟ سرتاج عزیز سے قوم صاف صاف جاننا چاہتی ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق سارے کشمیر میں جموں اکھنور و ملحقہ ہندو اضلاع‘ کسی ”بیک چینل ڈپلومیسی“ (منافقت) کے نتیجے میں ”بندر بانٹ“ کا شکار نہیں ہونگے؟ واجپائی کی دوستی بس 1999ءفروری کے ”دوستی دوستی“ کے نوازشریف‘ واجپائی ”جھپوں“ کے دوران گورنر ہاﺅس لاہور میں جو ”کشمیر“ کی بندر بانٹ کا فارمولا طے پایا تھا اس کے سرتاج عزیز (تب وزیرخارجہ) گواہ ہیں کہ واجپائی نے ہمارے وزیراعظم میاں محمد نوازشریف سے جموں‘ اکھنور اور ملحقہ ہندو اضلاع (چند) وادی کشمیر سے الگ کرکے بھارت کو دینے کا معاہدہ کر لیا تھا اور واجپائی نے بات جلد آگے بڑھانے کا عندیہ بھی دیا تھا۔ (گواہ سرتاج عزیز ہیں) اب سرتاج عزیز قوم کو یہ بھی بتا دیں کہ 1999ءکے اس کشمیر کی تقسیم اور آزادی کے فارمولے کے اندر وہ کونسی تبدیلی آگئی ہے کہ وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ ”نئے حالات میں نظریات بھی تبدیل ہو رہے ہیں؟؟ یہ کیوں نہیں بتایا کہ ”نئے حالات“ کونسے ہیں۔ دوبارہ وضاحت کر دیں تو ان کی اور حکومت کی جان چھوٹ جائے! اور ”نظریات تبدیل ہو رہے ہیں؟ کی گول مول باتیں کیوں؟ نئے حالات تو یہ ہیں کہ افغانستان کے کمانڈوز اور فوج بھارتی راجستھان وغیرہ میں تربیت حاصل کر رہی ہیں! افغان حکومت اور بھارت یک جان ہو گئے ہیں!! تجارت‘ سرمایہ کاری‘ بھارتی‘ اربوں کا اسلحہ بھارت سے‘ انفراسٹرکچر افغانستان کے بھارت کے ساتھ تیزی سے معاہدے اور تعمیرات‘ طالبان کا اقتدار روکو افغان بھارت خفیہ ادرے ایک‘ سی آئی اے‘ ایم 6 اور بھی کئی ممالک ایک! بھارتی طالبان بھارت کے مقبوضہ کشمیر کی آزادی کیلئے ”بھیانک خواب“ تمام وسائل بھارت نے جھونک دیئے کہ طالبان‘ امریکہ کے بعد بھارت کا رخ کرنے کی نہ ٹھان لیں! ”حالات تو یہ تبدیل ہوئے ہیں“ بھارت کے مذاکرات تو سرتاج عزیز جیسے لوگوں کو ”دھوکہ“ دیکر اپنے سٹرٹیجک مفادات کیلئے ہیں۔ باقی ”نظریات“ اور نظریاتی اساس تو ساری قوم کی واضح ہے۔ قومی ردعمل سوچ سے باہر ہو سکتا ہے۔ کیا بھارت سے مقبوضہ کشمیر کو متنازع تسلیم کرانا اور جموں‘ اکھنور‘ چھمب جوڑیاں بارڈر پر ”دیوار برہمن“ (دیوار چین سے مضبوط) کی غیرقانونی تعمیر رکوانا‘ بھارت سے متنازعہ ڈیموں کی تعمیر رکوانا‘ پاکستان میں ”را“ کے آپریشن رکوانا‘ سیاچن سے بھارتی فوج واپس بھجوانا‘ بھارتی جیلوں میں قید پاکستانی آزاد کرانا سرتاج عزیز کی ذمہ داری نہیں؟ مقبوضہ کشمیر میں مظالم کون رکوائے گا۔