راستے بند، ڈھاکہ کا رابطہ منقطع، بی این پی کی نائب چیئرپرسن سمیت متعدد گرفتار

31 دسمبر 2013

ڈھاکہ (اے ایف پی) بنگلہ دیش میں بی این پی، جماعت اسلامی سمیت اپوزیشن کے 18 رکنی اتحاد کی کال پر جمہوریت کیلئے عوامی مارچ کو روکنے کیلئے بس، کشتی اور ٹرین سروس دوسرے روز بھی بند رہی۔ ڈھاکہ کا ملک بھر سے رابطہ منقطع کر دیا گیا۔ انتظامیہ اور پولیس نے اپوزیشن کے کارکنوں کو پیر کے روز جمہوری مارچ میں شرکت سے روکنے کیلئے کوششیں جاری رکھیں۔ گزشتہ روز دارالحکومت کو آنیوالے راستوں کی ناکہ بندی کر کے ہزاروں سکیورٹی اہلکار تعینات کر دئیے گئے۔ ہڑتالوں، ہنگاموں میں اب تک 275 افراد مارے جا چکے ہیں۔ پولیس افسر نے بتایا اب تک 1200 مظاہرین کو حراست میں لیا گیا ہے۔ قبل ازیں یہ تعداد بعض ذرائع کے مطابق 1750 تھی۔ یاد رہے اپوزیشن نے پیر کو بھی جمہوری مارچ جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ ڈھاکہ (اے پی اے) بنگلہ دیش کی میڈیا نے حسینہ واجد حکومت کی اپوزیشن کیخلاف مہم کا پول کھول دیا ۔بنگالی میڈیا رپورٹ کے مطابق گذشتہ روز بھی 18افراد ہلاک ہو ئے جبکہ 1200افراد کو گرفتار کر لیا گیا اور انہیں بیہمانہ تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا ۔متعدد صحافیوں اور ایک فوجی میجر حافظ جو اپوزیشن جماعت کی سربراہ خالدہ ضیاء کے کزن ہیںانہیںاپوزیشن جماعتوں کی ہڑتال کی حمایت اور بے گناہ افراد کی ہلاکتوں پر مذمت کرنے پر غائب کر دیا گیا جبکہ پیرکے روز بھی اپوزیشن کے 10اہم رہنمائوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ بنگالی میڈیا کا مزید کہنا ہے کہ مظاہرین کی جانب سے قائم کردہ بہاری کیمپ میں حکومتی فورسز نے آگ لگادی اور ساتھ ہی فائرنگ شروع کر دی جو زیادہ ہلاکتوں کا باعث بنی ۔ حسینہ واجد کی حامی میڈیا کو کھلے عام تبصرے اور مظاہرین کو دہشتگرد قرار دینے کی چھوٹ جبکہ اپوزیشن کی حمایت پر 6نجی نیوز ٹی وی چینلز کو بھی بند کر دیا گیا ہے واضح رہے کہ بنگالی میڈیا کے ایک بڑے حصے پر حسینہ واجد حکومت اور بھارت کی اجارہ داری ہے۔ آن لائن) کے مطابق بنگلہ دیش میں حکومت مخالف مارچ کے دوسرے روز اپوزیشن جماعت بی این پی کی تین خواتین رہنمائوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق بی این پی کی نائب چیئرمین سلیمہ ہاشمی و رکن پارلیمنٹ رشیدہ بیگم اور نواز حلیمہ کو سابق وزیراعظم خالد ضیاء کی رہائش گاہ کے سامنے سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب پولیس کی جانب سے لگائی گئی رکاوٹیں توڑ کر گھر کے اندر داخل ہونے کیلئے کوشش کررہی تھیں دریں اثناء پولیس حکام نے بتایا کہ علیٰ الصبح ایک گھر پر چھاپہ مار کر تین مشتبہ اپوزیشن اراکین کو گرفتار کرکے وہاں دو سو دستی بم برآمد کئے گئے ہیں۔ آئی این پی کے مطابق بنگلہ دیش میں اپوزیشن اور حکمران جماعت کے حمایتی آمنے سامنے آ گئے۔ مختلف علاقوں میں چھڑپیں ہوئیں، ڈھاکہ ہائیکورٹ کے باہر خواتین نے بھی ایک دوسرے پر پتھرائو کیا۔ مظاہرین کی اپوزیشن ہیڈ کوارٹر اور سرکاری عمارتوں پر قبضہ کی کوشش، پولیس پر پٹرول بموں سے حملے، اپوزیشن جماعتوں نے الیکشن کے التوا اور حسینہ واجد سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا۔ پیر کو ڈھاکہ میں انتخاب کے حق میں عوامی لیگ کے کارکنوں نے ریلی نکالی تو اپوزیشن کے کارکن بھی میدان میں آ گئے۔