یہ خطے کیلئے اچھا نہیں‘ بھارت افغانستان میں بعض گروپوں کی حمایت سے باز رہے: سرتاج عزیز

31 دسمبر 2013
یہ خطے کیلئے اچھا نہیں‘ بھارت افغانستان میں بعض گروپوں کی حمایت سے باز رہے: سرتاج عزیز

اسلام آباد (اے این این + آن لائن)  پاکستان نے بھارت کو  افغانستان میں بعض گروپوں کی حمایت سے باز رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے  خبردار کیا ہے کہ پڑوسی ملک کا یہ رویہ خطے کیلئے  اچھا نہیں ہے، افغانوں  نے اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنا ہے۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے  یورپ کے ریڈیو چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ بھارت  افغانستان میں بعض گروپوں کو امداد فراہم کررہا ہے  ہم نے بھارت سے کہا ہے کہ وہ  ایسا نہ کرے کیونکہ یہ خطے کیلئے اچھا نہیں۔ افغانستان میں  ہمارے کوئی فیورٹ نہیں ہم صرف اور صرف امن و استحکام چاہتے ہیں ، ہم نے شروع دن سے افغانوں کی زیر قیادت  مقامی امن عمل کی تائید و حمایت کی  اور سہولت  کار کا کردار ادا کیا ہے۔ ہم افغانستان  کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت کی  پالیسی پر گامزن ہیں، بھارت ہو یا پاکستان کوئی بھی داخلی معاملات میں مداخلت کرے گا تو اس سے افغانستان کی صورتحال کی بہتری میں مدد نہیں ملے گی بلکہ پیچیدگیاں پیدا ہوںگی۔ ہمارا ایک ہی موقف ہے کہ افغان  حکام اور گروپ جو خود فیصلہ کریں وہ پاکستان اور بھارت سمیت تمام  فریقین کو قبول ہونا چاہیے۔ افغانوں کی قسمت کا فیصلہ خود افغانوں نے ہی کرنا ہے۔ بھارت اگر کوئی اپنا فیورٹ یا ہم کوئی اپنا فیورٹ رکھیں گے تو بات نہیں بنے گی۔ افغان عوام اپنی تقدیر کے خود مالک ہیں  ہمیں اس حقیقت کا  ادراک کرنا ہوگا۔  پاکستان افغانستان کے ساتھ اپنی سرحد پر کنٹرول  مزید مستحکم بنانے پر غور کررہا ہے  سرحد کے آر پار نقل و حرکت  پر کڑی نظر رکھی جائے گی۔ سرحد کے آر پار نقل و حرکت کو قانونی بنانے  اور عوام کو سہولیات فراہم کرنے کیلئے  ویزا کے اجراء کے عمل کو تیز کیا جائے گا  خصوصی پاسز جاری کئے جائینگے۔ اب ہم روزانہ  افغان باشندوں کو ایک ہزار سے دو ہزار  تک  ویزے جاری کررہے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان طویل سرحد کٹھن پہاڑی راستوں پر مشتمل ہے  یہ انتہائی مشکل سرحد کہلاتی ہے۔ ہزاروں کلو میٹر  اس طویل اور ویران  سرحد پر مکمل  نظر رکھنا ممکن نہیں لیکن ہم افغانستان کے ساتھ  بات چیت کررہے ہیں تاکہ سرحد کے آر پار نقل و حرکت کو قانونی ضابطے میں لایا جاسکے۔ ہم ویزا کے ساتھ ساتھ  بارڈر پرمٹ کی تعداد میں بھی اضافہ کرینگے۔  سرحد پار سے حملے باعث تشویش  ہیں جو دونوں ملکوں کیلئے مسائل پیدا کرتے ہیں ہم سرحد پار حملوں کے حوالے سے افغانستان کے تحفظات کو بھی دور کرنا چاہتے ہیں۔  2014ء  بہت اہم ہے کیونکہ  اس سال میں  اتحادی افواج نے انخلاء کرنا ہے۔ اتحادی افواج کے جانے کے بعد پاکستان افغانستان تعلقات انتہائی اہمیت کے حامل ہونگے۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے سکیورٹی حکام سرحد کے آر پار نقل و حرکت باضابطہ بنانے کے معاملے پر جلد ملاقات کریں گے۔ پاکستان  افغانستان کیساتھ مغربی سرحدوں پر بہتر نگرانی کا خواہاں ہے۔  افغان شہریوں کیلئے ویزے کے اجراء کا عمل تیز کیا جائے گا  سرحدی علاقے کے لوگوں کو سرحد کے آرپار جانے میں سہولت دینے کیلئے خصوصی پاس جاری کئے جائیں گے۔  ایک بار دونوں ملک اس حوالے سے تفصیلات طے کرلیں تو آرپار سرحدی نقل و حرکت پر باضابطہ عمل کا آغاز ہوگا۔  اس وقت ہمارے دو قانونی بارڈر کراسنگ ہیں جنہیں بڑھایا جائے گا۔  ہم بھارت پر بھی واضح کرچکے ہیں کہ افغانستان میں مختلف گروپوں کی معاونت کرنا درست نہیں بلکہ افغانستان کے تمام فریقین آپس میں جو بھی فیصلہ مل کر کریں وہ ہر ایک کیلئے قابل قبول ہونا چاہئے۔