مشرف کو بِلا کہنے کی مذمت، فوج غداری کیس سے پریشان نہیں: ایکس سروس مین سوسائٹی

31 دسمبر 2013

لاہور+ راولپنڈی (خبر نگار+ آن لائن+ ثناء نیوز+ آئی این پی) سابق فوجیوں کی دو تنظیموں پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی اور پاکستان ایکس سروس مین ایسوسی ایشن نے سابق صدر پرویز مشرف کی جانب سے غداری کے مقدمہ میں ساری فوج کے انکے ساتھ ہونے اور مقدمہ سے فوج کے پریشان ہونے کا بیان مسترد کردیا ہے۔ جنرل حمید گل اور جنرل علی قلی خان نے یہاں جاری ہونے والے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ فوج کا ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ مشرف پر آئین کے آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی کا الزام ہے اور وہ فوج کو اپنا مددگار بتا کر انتہائی غیر ذمہ داری کا ثبوت دے رہے ہیں۔ سابق عسکری ماہرین نے کہا کہ ایمرجنسی کا نفاذ اور ججوں کی برخاستگی انکے ذاتی فعل تھے۔ مشرف کی جانب سے یہ دعویٰ کہ تمام اقدامات اس وقت کی کابینہ نے کئے تھے اور ساتھ ہی فوج کو بیچ میں گھسیٹنا متضاد بیانات ہیں۔ حمید گل اور علی قلی خان نے کہا کہ مشرف قانون کا احترام کریں اور آزاد عدلیہ کی جانب سے کیس کا فیصلہ میرٹ پر ہونے کا انتظار کریں۔ دریں اثنا ایکس سروس مین سوسائٹی کے صدر جنرل (ر) حمید گل نے سابق صدر آصف زرداری کی طرف سے سابق آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف کے لئے ’’بِلے‘‘ کا لفظ استعمال کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آصف زرداری کیلئے ملک کے گلی کوچوں میں جو الفاظ استعمال ہوتے ہیں اگر ہم زرداری کیلئے استعمال کریں تو انہیں کیسا لگے گا۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سابق آرمی چیف کیلئے ’’بِلے‘‘ کے لفظ کا استعمال قومی ادارے کی توہین کے مترادف ہے۔ ایکس سروس مین سوسائٹی نے قرارداد میں ان الفاظ کی مذمت کی ہے۔ دریں اثنا ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل (ر) اسلم بیگ نے کہا کہ مسلح افواج جنرل مشرف کیخلاف کیس پر ناراض نہیں، اعتراض صرف یہ ہے کہ جنرل مشرف ہی کیوں، باقی کیوں نہیں؟ انہوں کہا کہ پرویز مشرف سے قبل جنہوں نے آئین توڑا اور معاونت کی انکو بھی شامل کیا جائے کیونکہ اس غیر آئینی عمل میں صرف مشرف ہی نہیں بڑے بڑے ججز بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلاول اور انکے والد کی جانب سے اختیار کیا گیا طرز عمل بھٹو خاندان کے زوال کی نشانی ہے۔ بلاول کی جانب سے ملا عمر کو جعلی قرار دینے والے یہ کیوں بھول رہے ہیں کہ انکی والدہ نے ان کی حکومت کو تسلیم کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو جس بِلے کو دودھ پینے والا قرار دے رہے ہیں، وہ تو دودھ پیتا ہی ہے لیکن بلاول کے ابا جان نے پانچ سال عوام کا خون پیا یہ بھی ایک سیاہ باب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اشفاق کیانی اگر مشرف کے ساتھ ہوتے تو مشرف کی حکومت ہوتی اور افتخار چودھری جیل میں ہوتے۔ جنرل کیانی نے فریق بننے سے انکار کردیا تھا اور فوج کو پیغام دیا تھا کہ وہ سیاسی عمل سے اپنے آپ کو دور رکھے۔ ادھر دفاعی تجزیہ نگار لیفٹیننٹ جنرل (ر) طلعت مسعود نے کہا کہ فوج کے کچھ عناصر کی ہمدردیاں مشرف کے ساتھ ہوسکتی ہیں جبکہ یہ کہنا کہ پوری فوج مشرف کے ساتھ ہے، یہ ایک مبالغہ آمیز خیال ہے۔