جنوبی یمن میں فوجی ٹھکانے پر حملہ، جھڑپ میں 5 اہلکار، 3شدت پسند ہلاک

31 دسمبر 2013

عدن (آن لائن) جنوبی یمن میں ایک فوجی ٹھکانے پر حملے کے دوران پیر کے روز پانچ فوجی اہلکار اور تین شدت پسند ہلاک ہو گئے ، یہ بات ایک فوجی ذریعہ نے کہی ۔ ذریعہ نے کہا کہ حملہ جنوبی علیحدگی پسندوں کی جانب سے کیا گیا ، تاہم علیحدگی پسندوں کے رہنما نے الزام کی تردید کی ہے ، جنوبی یمن طاقتور القاعدہ نیٹورک کا مرکز بھی ہے جس پر سکیورٹی فورسز پر سلسلہ وار حملوں کا شبہ ظاہر کیا جاتا ہے ۔ایک فوجی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر فرانسیسی خبررساں ادارے کو بتایا کہ جنوبی مسلح تحریک سے تعلق رکھنے والے خود کار رائفلوں اور ٹینک شکن راکٹوں سے لیس حملہ آوروں نے حملہ کیا اور دو ٹینک تباہ اور پانچ فوجی اہلکار ہلاک کردیئے ۔ حملہ آوروں کے تین ساتھی بھی ہلاک ہوئے ، تاہم وہ چار فوجیوں کو یرغمال بنانے میں کامیاب ہوگئے ، جنوبی تحریک کے رہنماﺅں نے تردید کی ہے کہ ان کا گروپ اس کارروائی میں ملوث ہے ۔جنوبی یمن میں ایک ہفتہ قبل علیحدگی پسندوں کی جانب سے ایک گورنر کے دفتر پر دھاوا بول کر سابق جنوبی یمن کا پرچم لہرانے کے بعد سے خونی جھڑپوں کے نتیجے میں کشیدگی میں اضافہ ہو چکا ہے ۔جمعہ کے روز فوج نے ایک منحرف کے جنازہ کے لئے قائم خیمے پر گولہ باری کی تھی جس میں سرگرم کارکنوں اور ہسپتال ذرائع کے مطابق چار بچوں سمیت 19افراد ہلاک ہو گئے تھے ۔برطانوی نوآ بادیاتی حکمرانی کے 1967ءمیں خاتمے کے بعد 1990ءمیں شمال کے ساتھ اتحاد تک جنوبی یمن خود مختار تھا ، اس کے چار سال بعد علیحدگی پسندی کی تحریک سے مختصر مگر خونی خانہ جنگی شروع ہوئی جس کا خاتمہ شمالی فورسز کی جانب سے جنوب کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد ہوا ۔جنوبی یمن علی عبداللہ صالح کے 33سالہ دور حکومت کے بعد سیاسی بحران کا شکار ہے جنہوں نے گزشتہ سال عرب احتجاجی تحریک سے متاثرہ مظاہروں کے بعد استعفیٰ دیدیا تھا ۔جنوب میں سکیورٹی فورسز بھی عرب خطے میں القاعدہ کی جانب سے متواتر حملوں کی زد میں رہتی ہیں جو کہ یمنی فوج کے مسلسل آپریشنز اور امریکی ڈرون حملوں کے باوجود عالمی دہشت گرد نیٹ ورک کی انتہائی خطرناک شاخ ہے۔

ایتھنز میں جرمن سفیر کی رہائشگاہ پر فائرنگ،کوئی نقصان نہیں ہوا
یونانی وزیراعظم اور پبلک آرڈر کے وزیر کا جرمن سفیر سے ٹیلی فون پر رابطہ، واقعہ پر اظہار افسوس
ایتھنز (آن لائن) شمالی ایتھنز نے نامعلوم حملہ آوروں نے پیر کی علی الصبح جرمن سفیر کی رہائش گاہ پر فائرنگ کی تاہم کوئی شخص زخمی نہیں ہوا ، یہ بات پولیس ذرائع نے کہی ۔حملہ علی الصبح 3:30 کے قریب ہوا اور حملہ آوروں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ موٹر بائیک پر فرار ہو گئے ، پولیس کو رہائش گاہ کے صحن سے ساٹھ کے قریب گولیوں کے خالی خول برآمد ہوئے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ گولیاں ایک یا ایک سے زائد کلاشنکوف رائفلز کے ذریعے فائر کی گئی ، حملے کی فوری طور پر کسی گروپ نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے جس کی انسداد دہشت گردی پولیس تحقیقات کررہی ہے ۔یونانی وزیراعظم انتونس سماراس اور پبلک آرڈر کے وزیر نکوس ڈینڈیاس نے واقعہ کے بعد ٹیلی فون کے ذریعے جرمن سفیر وولف گانگ ڈولڈ کے ساتھ بات کی اور افسوس کا اظہار کیا ۔یونان میں سفارتی اہداف ، بنکوں اور غیر ملکی کمپنیوں پر حملے معمول کے مطابق رونما ہوتے ہیں ، ان کی اکثر ذمہ داری انتہائی بائیں بازو یا انارکی گروپوں پر عائد کی جاتی ہے اور زیادہ تر واقعات میں صرف مالی نقصان ہوتا ہے ۔یونان میں یورپی یونین کے بڑے ملک جرمنی کی جانب سے ملک کے لئے 240بلین یورو ( 330بلین امریکی ڈالر) کے بیل آﺅٹ کے بدلے سخت سادگی اقدامات کے لئے زور دینے میں کردار پر حالیہ سالوں میں جرمن مخالف جذبات میں اضافہ ہوا ہے ۔جرمن سفیر کی رہائش گاہ ایتھنز کے نواحی علاقے ہلاندری میں واقع ہے ، 1999ءمیں یہ راکٹ حملے کا بھی نشانہ بنی تھی ، اس واقعہ کی ذمہ داری بائیں بازو کے انتہا پسند نومبر17گروپ نے قبول کی تھی جو اس کے بعد سے ختم ہو چکا ہے۔