2013ءتلخ اور خوشگوار یادوں کیساتھ رخصت‘ خواتین کی بڑی تعداد اسمبلیوں میں پہنچی

31 دسمبر 2013

لاہور(رفیعہ ناہید اکرام سے) سال 2013ءپاکستان کی چند خواتین کیلئے کامیابیوںاور خوشیوں جبکہ اکثریت کیلئے ہوشربا مہنگائی، لوڈ شیڈنگ ،دہشت گردی، ، مردانہ تعصبات ،گھریلوریاستی جسمانی جنسی وذہنی تشدد، جرائم اور استحصال میں اضافہ کرکے ،تلخ یادیںچھوڑکے رخصت ہورہا ہے۔سال 2013ءمیںجہاںالیکشن کے بعد سیاسی خواتین نئے عہدوں اورپروٹوکول کو انجوائے کرتی رہیں وہاںوطن میں بسنے والی کروڑوں حوا کی بیٹیاں معاشرتی رویوں کی آگ میں جھلستی، سسکتی، تڑپتی ، روتی یا اپنے حقوق کیلئے سڑکوں پر مظاہرے کرنے پر مجبورہیں۔سارا سال بچوں اور خواتین کے حقوق کے حوالے سے مختلف ایام منائے جاتے رہے مگرانکے خلاف جرائم کی شرح کم ہونے کی بجائے بڑھتی رہی، 2013میں بھی خواتین پر تشدد کا بل پنجاب اسمبلی میں پیش نہ ہوسکا۔وزیر اعظم کی صاحبزادی مریم نوازنے الیکشن 2013ءمیں خود توباقاعدہ حصہ نہ لیا مگر اپنے والد کی کیمپین بہت اہتمام سے چلائی اور اب دسمبر میں انہیں یوتھ پروگرام کی چیئرپرسن مقرر کردیاگیاہے ۔الیکشن 2013ءمیں کلثوم نواز کی کزن سائرہ بانو نے مشرف کی پارٹی کی طرف سے نوازشریف کیخلاف الیکشن لڑنے کااعلان کیا۔پورے ملک سے قومی اور صوبائی اسمبلےوں کی عام نشستوں پر448 خواتےن نے براہ راست الیکشن میں لڑا۔ان مےں سے 60 خواتےن کو21 سےاسی جماعتوں نے باقاعدہ ٹکٹ دئےے جبکہ87 نے آزاد حےثےت مےں الےکشن میںحصہ لیا۔ڈائریکٹ الیکشن میںکامیاب ہونے والی خواتین میںسابق سپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا، آصف زرداری کی بہن فریال تالپور،مسلم لیگ ن کی امیدوار سائرہ افضل تارڑ‘ سمیراملک ‘خوش بخت شجاعت شامل تھیںجبکہ مسلم لیگ ن کی امیدوار تہمینہ دولتانہ، ماروی میمن،پیپلزپارٹی کی سابق وزیر فردوس عاشق اعوان، سابق وزیر ثمینہ خالد گھرکی ،بشریٰ اعتزازاحسن اور تحریک انصاف کی ڈاکٹر یاسمین راشد ہار گئیں۔ انتخابات ہارنے کے باوجودماروی میمن، طاہرہ آصف اورتہمینہ دولتانہ مخصوص نشستوں کے ذریعے اسمبلی پہنچ گئیںتاہم ڈاکٹریاسمین راشد،بشریٰ اعتزاز، ثمینہ گھرکی اور عائلہ ملک مخصوص نشستوں میں نام موجود ہونے اور الیکشن کیلئے پارٹی ٹکٹ ملنے کے باوجود قومی اسمبلی تک نہ پہنچ سکیں۔دو خواتین سائرہ افضل تارڑ اور انوشے رحمن نے وفاقی وزرائے مملکت کے حلف اٹھائے جبکہ پنجاب سے دوخواتین ذکیہ شاہنوازاور حمیدہ وحیدالدین وزیر بنیں۔سال 2013کے دوران جعلی ڈگریوں کے باعث سمیراملک، ثمینہ خاورحیات، سیمل کامران سمیت متعدد خواتین ارکان نااہل قرارپائیں۔نئی حکومت سے توقع کی جارہی تھی کہ وہ مریکہ میں بے گناہ قید ڈاکٹرعافیہ صدیقی کووطن واپس لانے میں کامیاب ہوجائے گی مگر سب کچھ زبانی جمع خرچ سے آگے نہ بڑھ سکا۔ دوسری طرف ملالہ یوسف زئی کودنیابھرسے متعدد اعزازات سے نوازاگیاتاہم وہ امن کا نوبل پرائزنہ جیت سکیں۔وی آئی پی کلچر،ڈیوٹی پر موجودنرسوں، ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف کے ناروا رویوں ، ضروریات کے مقابلے میںبیڈز، ڈاکٹروں ،نرسوںاور پیرا میڈیکل سٹاف کی شدید قلت اور خالی آسامیوں کے باعث شدید مشکلات کا شکار رہیں۔پولیومہم کے دوران لیڈی ہیلتھ ورکرز ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنیں۔ اس سال بھی خواتین کیخلاف تشدد کے سب سے زیادہ کیسز 8040 سے زائدپنجاب میں سامنے آئے۔