غربت کی 40 فیصد شرح برقرار، دہشت گردی سے نقصان 103 ارب ڈالر ہوگیا

31 دسمبر 2013

لاہور (رپورٹ / احسن صدیق) ملک کی معیشت کیلئے 2013ء کا سال گذشتہ سالوں کی طرح ثابت ہوا جس میں چند ایک کامیابیوں کے علاوہ مجموعی طور پر معیشت دباؤ کا شکار رہی۔ مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ پاکستان کے ذمہ اندرونی و بیرونی قرضوں میں اضافہ ہوا، دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کے مجموعی نقصان میں اضافہ ہوا۔ پاکستان کو یورپی یونین کی جانب سے جی ایس پی پلس کا درجہ ملا، حکومت نے تقریباً 500 ارب روپے کے سرکلر ڈیٹ کو ختم کیا۔ سٹاک مارکیٹ انڈکس 25283.96 پوائنٹس کی سطح تک پہنچا۔ حکومت نے غربت کے خاتمے کیلئے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلئے 75 ارب روپے مختص کئے، پاکستان کے ذمہ اندرونی و بیرونی قرضوں میں 243 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ ڈالر کی قیمت 111 روپے تک پہنچا۔ ایک لٹر پٹرول کی قیمت 113.10 روپے تک پہنچ گئی۔ بیرونی سرمایہ کاری میں 12.5 فیصد کمی ہوئی۔ ملک میں خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے انتہائی غریب افراد کی تعداد کل آبادی کا 40 فیصد سے زائد برقرار رہی۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کو پہنچنے والے نقصان کا حجم 103 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں 5 ارب 76 کروڑ 85 لاکھ ڈالر کی کمی ہوئی اور انکا حجم 26 دسمبر 2013ء کے اعداد و شمار کے مطابق 8 ارب 9 کروڑ 2 لاکھ ڈالر رہ گیا جو دسمبر 2012ء میں 13 ارب 85 کروڑ 81 لاکھ ڈالر تھا۔ پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ کے خسارے میں 59.9 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ اس طرح پاکستان کا تجارتی خسارہ نومبر 2013ء تک 7.3 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ انسٹیٹیوٹ آف اسلامک بنکنگ اینڈ فنانس کے چیئرمین ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے 2013ء کے انتخابی منشور پر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا ہے۔ اگر اب بھی اس منشور پر عمل کیا جائے تو معیشت تیزی سے ترقی کریگی اور مہنگائی میں کمی ہوگی۔