مشرف، کابینہ، فوج اور مجھ سمیت سب کیخلاف مقدمہ چلنا چاہئے: شجاعت

31 دسمبر 2013

اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ + ایجنسیاں) ق لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کیسز تو دور کی بات پرویز مشرف کیخلاف کیس چلنے کی بھی نوبت نہیں آئیگی۔ پرویز مشرف کے خلاف کیس مکمل طور پر سیاسی ہے۔ پرویز مشرف ان کی کابینہ، فوج اور مجھ سمیت تمام افراد کیخلاف مقدمہ چلنا چاہئے، مشرف غداری کیس میں عدالت نے بلایا تو ضرور جائینگے، عدالت کو بتائیں گے کہ مشرف نے مشورہ کیا تھا، امن و امان برقرار رکھنے کی حد تک ایمرجنسی کے حق میں تھا۔ پرویز مشرف سے متعلق کیس سے لاتعلق رہے گی، پرویز مشرف کیخلاف غداری کیس اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے شروع کیا گیا، مشرف کے ساتھ فوج سمیت سب کے خلاف مقدمہ چلنا چاہئے۔ نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کیس چلانے ہی ہیں تو سلسلہ 12 اکتوبر والے واقع سے شروع کیا جائے، بیشک ہمارے خلاف بھی کیس چلا دیں، پرویز مشرف نے سب سے مشاورت کی تھی اور سب سے مختلف رائے دی تھیں، 3 نومبر کے اقدامات سے متعلق جو لوگ کہتے ہیں کہ مشورہ نہیں کیا گیا وہ جھوٹ بولتے ہیں، جب لال مسجد آپریشن کا فیصلہ کیا گیا تو میں نے کہا تھا کہ اندر بچے ہیں لیکن مشرف کہتے تھے کہ بچے نہیں ہیں، میں نے شوکت عزیز صاحب کو کہا کہ لال مسجد آپریشن سے متعلق ایوان صدر چلیں لیکن وہ قلفی کھانے چلے گئے، چیف جسٹس کو ہٹانے کے بعد شوکت عزیز نے مجھے بتایا، افتخار محمد چودھری نے ملاقات میں مجھے بتایا کہ میرے ساتھ ناانصاف ہوئی ہے۔ میں چوھری افتخار سے بات چیت کر ہی رہا تھا کہ پولیس آگئی تھی، ججوں کو ہٹانا پرویز مشرف کی سب سے بڑی غلطی تھی، افتخار محمد چودھری سیاست میں آئینگے تو بڑی غلطی کرینگے، افتخار محمد چودھری کا سیاست میں کوئی مستقبل نہیں ہے۔ پرویز مشرف اگر ملک سے باہر گئے تو واپس بھی ضرور آئینگے۔ مسلم لیگ (ن) انہیں اپنی پارٹی میں لینے کی غلطی نہیں کریگی۔ تحریک انصاف اور طاہرالقادری کے درمیا ن اتحاد ہوتا ہوا دیکھائی نہیں دیتا، جو بھی مہنگائی کے خلاف بات کریگا ہم اس کے ساتھ ہیں۔ چھوٹی عدالتوں سے لوگوں کو انصاف نہیں مل رہا، چیف جسٹس ہوتا تو زیادتی کے مجرموں کو چوراہے پر لٹکا دیتا۔ تمام مسلم لیگیوں کے اتحاد کے حوالے سے ان کا کہنا تھاکہ قومی ایشوز پر مسلم لیگ (ن) کے ساتھ بھی چل سکتے ہیں، دھرنوں کی سیاست سے کبھی کسی کو کچھ نہیں ملا۔ طالبان کا مسئلہ اتنا آسان نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف مشاورت میں سب کو شامل کریں، اگر نوازشریف کہتے ہیں کہ پرانی باتوں پر مٹی پاؤ تو نوازشریف کے ساتھ چلنے کو تیار ہیں۔ علاوہ ازیں چودھری شجاعت نے کہا ہے کہ ملکی مسائل کے حل کے لئے قومی قیادت کو اکٹھا ہونا پڑے گا اور وقت کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نوازشریف مہنگائی کے خلاف گول میز کانفرنس بلائیں۔ پرویز مشرف فوج کو بہتر جانتے ہیں ان سے بہتر سیاست دان نہیں جان سکتے۔ گذشتہ روز مسلم لیگ ہائوس میں یوم تاسیس کے موقع پر انہوں نے کہا کہ گیارہ مئی 2013ء کے عام انتخابات میں (ق) لیگ کے مینڈیٹ کو چرایا گیا اور ہماری جماعت کو انتخابات میں شکست سے دوچار کیا گیا۔ ملکی مسائل کے حل کے لئے نواز شریف، آصف علی زرداری اور عمران خان ملک کے مسائل حل کرنے کے لئے ایک ہو جائیں گے تو بہتر ہے کیونکہ اس وقت کسی لڑائی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس موقع پر مشاہد حسین سید نے کہا کہ پرویز مشرف کے حوالے سے آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کے معاملے پر منافقت سے کام لیا جارہا ہے کیونکہ اس میں حکومت واضح نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ سیاسی جماعتوں نے ماضی کی سیاست نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔