نون غنہ صدر!!

31 دسمبر 2013

نئے صدر کو قوم کاممنون ہونا چاہئے کہ اس نے صدر کا پورٹریٹ بنانے کا پندرہ لاکھ روپے کا بل برداشت کیا ۔سابق صدر زرداری نے اپنی تصویر بنانے پر نو لاکھ روپے صرف کئے تھے، اس طرح نئے صدرنے قوم پرچھ لاکھ رو پے کا زائد بوجھ ڈالا۔
یہی صدر قوم کو تلقین کر رہے ہیں کہ انہیں سستی بجلی مہیا نہیں کی جا سکتی اور نہ کشکول توڑا جا سکتا ہے کیونکہ ملک بیرونی قرضوں کی افیم کا عادی ہو چکا ہے اور نشہ اتارنے کے لئے مزید نشہ دینا دوائی کے طور پر ضروری ہے۔
صدر نے حلف لینے کے بعد کا عرصہ خاموشی سے بسر کیا ہے بلکہ قائد اعظم کی یاد میں تقریب منعقد کر کے قومی حلقوں سے شاباش بھی لی ہے لیکن اس شاباش کے نتیجے میں وہ کچھ زیادہ ہی کھل گئے ہیں اور ایک متنازعہ تنظیم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے بطور صدر اپنا آئینی کردار فراموش کر دیا ہے اور حکمران جماعت کی پالیسیوں کے دفاع کا فریضہ سنبھال لیا ہے۔آئین کی رو سے جناب ممنون حسین کا تعلق کسی سیاسی پارٹی سے نہیں رہا، خاص طور پر حکمران پارٹی سے انہیں اس قدر دور ہوجانا چاہئے تھا کہ لوگوں کو صدرزرداری کے دور کے ایوان صدر کی تلخیاں بھول جاتیں۔ جنہوںنے ایک غیر جانبدار منصب کو ایک جیالے منصب میں تبدیل کر دیا تھا اور اپنی یہ پیش گوئی سچ ثابت کر دکھائی تھی کہ ایوان صدر میں بھٹو دے نعرے وجن گے۔ ان کے دور میں حکمران پیپلز پارٹی کے تمام مشاورتی اجلاس ایوان صدر میں منعقد ہوتے رہے ، اور عدلیہ کے ذریعے انہیں غیر جانبدار صدر بننے کی کوششیں بھی بار آور نہ ثابت ہوئیں۔
جناب ممنون حسین کے انتخاب کے موقع پر لوگوں کو یہ خدشہ لاحق ہوا کہ وہ بھی غیر جانبداری برقرار نہیں رکھ سکیں گے۔اس خدشے کو حقیقت کا روپ دھارنے میں زیادہ وقت نہیںلگا۔ نئے صدر نے اب تک حکومتی کارکردگی درست سمت رکھنے کے لئے کوئی کوشش نہیں کی، ریکارڈ میں ان کی طرف سے حکومت کو کوئی ایسی ہدائت نہیں ملی کہ عوام کو مہنگائی سے نجات دلوائی جائے، دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے، ملک کی آزادی ، خود مختاری اور اس کے اقتدار اعلی کا تحفظ کیا جائے۔ اسے امریکہ یا بھارت کی پٹھو ریاست میں تبدیل نہ کیا جائے۔
آئین کا تقاضہ ہے کہ صدر مملکت کسی پارٹی کے نہ متوالے بن سکتے ہیں، نہ جیالے کا کرادر ادا کر سکتے ہیں۔ صدر تو ریاست پاکستان کا سربراہ ہے اور مملکت کا ہر باشندہ اس کے لئے مساوی حیثیت رکھتا ہے۔اگر کسی شخص کو صدر بن کر سیاست کاشوق پورا کرنا ہے تو وہ پاکستان کی شہریت چھوڑے اور امریکہ یا کسی ایسے ملک کی شہریت اختیار کر کے قسمت آزمائی کرے جہاں صدر ہی ملک کا چیف ایگزیکٹو ہوتا ہے۔ پاکستان بہر حال سیاست کے شوقین صدر کے لئے موزوں ملک نہیں۔بھارت میں کون صدر ہوتا ہے ، اس کا علم وکی پیڈیا یا گوگل پر چھان بین کے بعد ہی ہو سکتا ہے ورنہ دنیا کے عام آدمی کو اس کا نام تک معلوم نہیں ہوتا۔ پاکستان کی تاریخ میں چند فعال صدر وہ بھی آئے جن کا تعلق فوج سے تھا، وہ چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بھی کہلائے ، فیلڈ مارشل بھی بنے اور صدر کی کرسی سے بھی چمٹے رہے،بھٹو صاحب کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ سویلین ہو کر بھی چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹربنے اور پھر صدر بھی بنے اور اس طویل راستے کو طے کر کے اپنے اصل منصب پر واپس آئے، ان کی وزارت عظمی کے دور میں ایوان صدر میں بیٹھا ہوا شخص اس قدر بے زبان اور بے بس تھا کہ ایوان صدر کی دیواروں پر یہ نعرہ لکھاگیا کہ صدر کو رہا کرو۔
ہمارے نئے صدر مملکت نے زبان کھولی ہے تو ایسے کہ لوگوں کے ہوش ٹھکانے آ گے ہیں۔ ان کا فرمان ہے کہ پندر روپے فی یونٹ بجلی خرید کر نو روپے میںنہیں دے سکتے۔ یہ بالکل خلاف حقیقت بیان ہے،جناب صدر کوئی ایسا بل نہیں دکھا سکتے جس میں نو روپے فی یونٹ بجلی کا ریٹ لگایا گیا ہو۔آئی ایم ایف سے قرضہ لنے کے بعد اس کی شرائط کے مطابق صنعتی صارفین کا ریٹ تو فوری طور پر بڑھا دیا گیا مگران صنعتکاروں نے اپنی مصنوعات اور درآمدات مہنگی کر کے سارا بوجھ عوام پر ڈال دیا ، اس سے مہنگائی آسمان سے باتیں کرنے لگی اور حکومتی وزرا نے فرانس کی ملکہ کی طرح کہنا شروع کر دیا کہ ر وٹی نہیںملتی تو کیک کھاﺅ۔ٹماٹر مہنگا ہے تو سالن میں نبو نچوڑ و ، خود یہ وزرا سرکاری ہیلی کاپٹروں میں دورے کرتے ہیں اور ان کے آگے پیچھے پروٹو کول کے لئے گاڑیوں کی قطاریں لگی رہتی ہیں۔ان کی ہوس ہے کہ اس کی کوئی حد ہی نہیں۔
عوام پر اکتوبر میں بجلی گرائی گئی اور اب سردیوں میں جو بل آ رہے ہیں ، ان کو دیکھ کر ہاتھوں کے طوطے اڑ جاتے ہیں۔لوگوں میں سکت نہیںکہ وہ ان بلوںکی ادائیگی کر سکیں چنانچہ حکومت نے بجائے بلوں میں کمی کرنے کے ان کی ادائیگی کی تاریخیں بڑھا دی ہیں اور صوبہ خیبر پی کے میں بلوں کی ریکوری کا بوجھ تحریک انصاف کو منتقل کر دیاہے۔
صدر صاحب کا ایک ارشاد یہ ہے کہ کشکول نہیں توڑا جا سکتا، ملک کو بیرونی قرضوںکانشہ لگ گیا ہے۔صدر صاحب پارٹی بن ہی گئے ہیں تو یہ وضاحت فرما دیں کہ ن لیگ نے اپنے منشور میں کشکول توڑنے کا وعدہ کیوں کیا تھا اور انتخابی جلسوںمیںایسے نعرے کیوں لگائے تھے۔کشکول توڑنے کا نعرہ تو اس وقت بھی لگایا گیا جب ایٹمی دھماکے کئے گئے۔یہ انیس سو اٹھانوے کی بات ہے، نواز شریف ملک کے تیسری مرتبہ وزیر اعظم بن گئے ہیں اور وہ اگر ملک کو اس کے وسائل میں چلانے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو پھر دلکش نعرے تو نہ لگایا کریں، صاف کہیں کہ قرض کی مئے ہی پئیں گے۔ایوب خاں نے جب بیرونی چاکری کو شوق پورا کر لیا تو یہ نعرہ لگا دیا کہ اس رزق سے موت اچھی جس سے پرواز میںکوتاہی آتی ہو، میاں شہباز شریف کو ایوب خان کا یہ نعرہ اس قدر بھایا کہ وہ ہر تقریر کے آخر میں یہ نعرہ لگاتے اور علامتی طور پر سامنے لگے ہوئے مائیک توڑ ڈالتے اور سادہ لوح عوام سمجھتے کہ کشکو ل ٹوٹ گیا۔
اگر صدر نے بھی حکمران پارٹی کا حصہ بن جانا تھا تو پھر لازم تھا کہ آئین میں ترمیم کر کے صدر کے غیر جابندارانہ کردار کا خاتمہ کر دیا جاتا اوراسے حکمران پارٹی کا دم چھلہ بننے کی کھلی چھٹی دے دی جاتی۔ویسے بھی جناب ممنون حسین کے لئے غیر جانبدار رہنا مشکل ہے، وہ حکمران پارٹی کے سرگرم رکن رہے ہیں ، صدر کا منصب حاصل کرنے کے لئے وہ ن لیگ کے ممنون ہیں اور رہیں گے اور اس کی ہم نوائی کےلئے مجبور ہیں اور رہیں گے۔ بہتر ہو گا کہ ان کے ضمیر کا بوجھ ہلکا کر دیا جائے اور آئین میں ضروری ردو بدل کر کے انہیںمتوالا بننے کی سہولت فراہم کر دی جائے۔تاکہ وہ کھل کھیل سکیں اور صدر پاکستان کے بجائے نون غنہ صدر کا کردار ادا کر سکیں۔