غداری کیس : مشرف کی جانب سے فوج کی مکمل حمایت کا دعویٰ....فوج اپنی غیرجانبداری کی وضاحت سے گریز نہ کرے

31 دسمبر 2013

سابق صدر پرویز مشرف نے دعویٰ کیا ہے کہ غداری کیس کیخلاف پوری پاک فوج انکے ساتھ ہے۔ انٹرنیشنل میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھ پر لگائے گئے غداری کے الزامات انتقامی کارروائی ہے۔ اسکے خلاف مجھے طاقتور پاک فوج کی پشت پناہی حاصل ہے۔ میرے خلاف غداری کے الزامات پر پوری فوج پریشان ہے۔مجھے جو فیڈ بیک موصول ہوا ہے اسکی بنیاد پر مجھے کوئی شبہ نہیں کہ اس معاملہ پر پوری فوج مکمل طور پر میرے ساتھ ہے۔نجی ٹی وی کو دئیے گئے انٹرویو میں پرویز مشرف نے کہا کہ 12 اکتوبر کو جو کچھ بھی ہوا اس وقت پاکستان کی صورتحال بدترین تھی۔ وزیراعظم شوکت عزیز نے شکایت کی تھی کہ عدالت نجکاری میں بھی مداخلت کر رہی ہے، عدالتوں سے دہشت گردوں کو چھوڑا جا رہا ہے، دہشت گردی کا بڑھنا اور معیشت کا نقصان ایمرجنسی کی بڑی وجہ تھی۔ سابق چیف جسٹس افتخار چودھری نے مجھ سے اپنی دشمنی ظاہر کی، میرے کیس میں بنچ افتخار محمد چودھری کا بنایا ہوا ہے تاہم اب سپریم کورٹ کا ماحول تبدیل ہے اور امید ہے ہماری سنی جائیگی۔
سابق چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں فل کورٹ نے 31 جولائی 2009ءکو سابق آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کے 3 نومبر 2007ءکے ایمرجنسی پلس کے نفاذ کو غیرآئینی قرار دیا تھا۔ اس آرڈر میں ٹکہ اقبال کیس کا فیصلہ کالعدم قرار دیا گیا جس میں جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی سربراہی میں مشرف کے ایمرجنسی کے اقدام کو تحفظ فراہم کیا گیا تھا۔ 31 جولائی کے اسی فیصلے کے تحت پی سی او ججز فارغ کر دیئے گئے تھے۔ یہ غیرآئینی اقدام غداری کے زمرے میں آتا ہے۔ اس کیس میں عدلیہ سوموٹو لے سکتی ہے‘ نہ حکومت کے سوا کوئی یہ معاملہ عدالت میں لے جا سکتا ہے۔ 2009ءمیں پیپلزپارٹی اقتدار میں تھی‘ اس نے مشرف کو ملک میں لانے کی کوشش کی‘ نہ آرٹیکل 6 کے تحت ان کیخلاف کیس فائل کیا گیا۔ ایک موقع پر سابق آمر نے پاکستان آنے کا اعلان کیا تو پیپلزپارٹی کی صفوں میں اودھم مچ گیا۔ ہر تیسرا رہنماءمشرف کو دھمکا رہا تھا کہ ان کو ملک پہنچتے ہی گرفتار کرلیا جائیگا۔ اس پر مشرف نے وطن واپسی کا پروگرام منسوخ کر دیا۔ مشرف دیارغیر میں بیٹھ کر لیکچرز دیتے یا کمپیوٹر سے کھیلتے تھے‘ فیس بک پر انکے چاہنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہو گئی جسے سابق آمر نے اپنی مقبولیت کی معراج گردانا اور ایک سیاسی پارٹی بنا کر الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا اور اسی مقبولیت کے زعم میں 2013ءکے انتخابات کا اعلان ہوتے ہی پاکستان چلے آئے۔ اس میں شبہ نہیں کہ آج کی اعلیٰ عدلیہ ایمرجنسی پلس میں فارغ کئے گئے ججوں یا جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کی تحریک میں حصہ لینے والے ان وکلاءپر مشتمل ہے جو بعد میں جج بنے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر جج مشرف سے تعصب رکھتا ہے۔ مشرف کیخلاف ججز نظر بندی‘ بینظیر‘ اکبر بگٹی قتل اور لال مسجد اپریشن کے مقدمات کھلے۔ ان تمام میں مشرف کی ضمانت انہی ججوں نے لی جن پر تعصب کا الزام لگایا جاتا رہا۔ بہرحال اب مشرف نے خصوصی عدالت کے قیام کو اپنے خلاف انتقامی کارروائی قرار دیتے ہیں تاہم سپریم کورٹ پر اعتماد کا اظہار بھی کیا ہے۔
مشرف کا سب سے بڑا جرم تو 12 اکتوبر 1999ءکو ایک جمہوری حکومت پر شب خون مارنا ہے‘ اس اقدام کو پہلے سپریم کورٹ اور بعدازاں پارلیمنٹ نے جائز قرار دے دیا۔ جنرل مشرف ایک بار پھر حکمرانی کی خواہش لئے پاکستان آئے تو ان کو کئی کیسز میں دھرلیا گیا جن میں انکی ضمانتیں ہو گئیں۔ انہوں نے چار حلقوں سے کاغذات جمع کرائے جو مسترد کردیئے گئے اور عدلیہ نے ان پر تاحیات الیکشن لڑنے کی پابندی بھی لگا دی۔ سپریم کورٹ کی طرف سے مشرف پر آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ درج کرنے کو کہا گیا تو نگران حکومت نے ایسا کرنے سے گریز کیا‘ تاہم مسلم لیگ (ن) نے کافی پس و پیش کے بعد کیس دائر کردیا۔ مشرف کی طرف سے خصوصی عدالت پر عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا لیکن اس کو عدلیہ نے پذیرائی نہ بخشی۔ مشرف نے یہ بھی کہا کہ ان کیخلاف مقدمہ صرف آرمی ایکٹ کے تحت فوجی عدالت میں چل سکتا ہے۔
آج نئے سال کے آغاز پر یکم جنوری 2014ءکو مشرف پر جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں ہائی ٹریزن کے تحت فرد جرم عائد ہو رہی ہے۔ ان سطور کی تحریر تک مشرف نے فیصلہ نہیں کیا تھا کہ وہ عدالت کے روبرو پیش ہونگے یا نہیں‘ انہیں 24 دسمبر کو خصوصی عدالت میں پیش ہونا تھا لیکن سماعت اس وقت ملتوی کردی گئی جب مشرف کے عدالت آنے کے راستے میں دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا۔ گزشتہ روز بھی مشرف کے گھر کے قریب ایسا ہی مواد پائے جانے کی خبریں نشر ہوتی رہیں۔ ایک حلقہ کی رائے ہے کہ ”کمانڈو“ ایسی کارروائیاں خود کروا رہا ہے۔ بہتر ہے کہ انکے محل کی تلاشی لے کر ایسا مواد ضبط کرلے۔ اگر مواد نہ ملے تو افواہیں پھیلانے والوں کو یقیناً شرمندگی ہو گی۔ پائے رفتن نہ جائے ماندن مشرف کو اب اس کیس کا سامنا کرنا پڑیگا۔
کمانڈر مشرف کبھی کہا کرتے تھے کہ ”میں ڈرتا ورتا کسی سے نہیں ہوں“ اب بلاشبہ وہ خوفزدہ نظر آتے ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ ان کا اندازہ غلط نکلا‘ غداری کیس کی توقع نہیں تھی۔ فوج کی حمایت حاصل ہونے کا دعویٰ بھی مشرف کے اندر کے خوف کا شاخسانہ ہے۔ اپنے ہی ملک کو جرنیلوں نے چار مرتبہ فتح کیا‘ اس میں فوج کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ ہر فوجی ایک ڈسپلن کا پابند جرنیلوں کی جانب سے ڈسپلن کی پابندی کو اپنے اقدام کی حمایت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ سقوط ڈھاکہ قوم اور فوج کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے‘ یہ ہر فوجی کافیصلہ نہیں تھا۔ فوج کو ذلت و رسوائی سے دوچار کرنے کا فیصلہ چند جرنیلوں نے کیا‘ باقی فوج کے ڈسپلن کی پابندی کرتے ہوئے سرنڈر کر دیا۔ طالع آزمائی پر بھی فوج ڈسپلن کے باعث خاموش رہتی ہے۔
مشرف کیس خصوصی عدالت میں چل رہا ہے‘ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری مشرف سے زخم خوردہ تھے‘ انہوں نے مشرف کے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا اور اس بینچ میں شامل تھے‘ جس نے 12 اکتوبر 1999ءکے اقدام کو ویلیڈٹ کیا۔ وہ چیف جسٹس ہوتے ہوئے مشرف پر آرٹیکل 6 کے تحت مقدمے کے اندراج میں دلچسپی لے رہے تھے۔ اسے اگر تعصب کہا جائے تو بھی یہ کوئی ماورائے آئین و قانون نہیں تھا۔ اب وہ ریٹائر ہو چکے ہیں اور عدالت پر اثرانداز ہونے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ بعض حلقے اس کیس کو زیادہ مضبوط بھی قرار نہیں دے رہے۔ فیصلے کا انحصار مشرف کی منجھے ہوئے وکیل شریف الدین پیرزادہ اور تجربہ کار حکومتی وکیل اکرم شیخ کی ٹیموں کے دلائل اور کیس لڑنے کا طریقہ کار پر ہو گا۔ مشرف کو 1999ءکے اقدام پر کٹہرے میں لایا جاتا ہے تو فوجی آمریت کے دروازے ہمیشہ کیلئے بند ہو جاتے۔ جب اس معاملے میں مشرف کے اقدام کو جائز قرار دینے والے ججوں اور پارلیمنٹیرین کا نام آتا ہے تو انکے حامی پینڈورا بکس کھلنے کا واویلا کرنے لگتے ہیں۔ پنڈورابکس کھلنے سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے‘ اسکے کھلنے سے سسٹم درست اور آمریت کے دروازے ہمیشہ کیلئے بند ہوتے ہیں تو یہ سودا مہنگا نہیں ہے۔ آصف علی زرداری کے بقول ”دودھ پینے والا بلا قابو آگیا ہے“ تو اس کو تختہ دار پر لے جانے میں جلد بازی نہ کی جائے۔ فیصلہ کیا جائے کہ قومی مفاد اور جمہوریت کی مضبوطی کا کیا تقاضا ہے۔ میڈیا سے بھی مثبت کردار کی توقع ہے‘ مشرف پر غداری کا کیس چل رہا ہے۔ ایسے میں ملزم سے کیس کے حوالے سے انٹرویوز اور مذاکرے نشر اور شائع ہو رہے ہیں۔ کیا اس سے عدالتی کارروائی متاثر نہیں ہو سکتی؟
مشرف نے جس انداز سے فوج کے اپنے پشت پر ہونے کا تاثر دیا‘ فوجی ترجمان کی طرف سے ردعمل سے گریز عوامی حلقوں میں غلط تاثر پیدا کر سکتا ہے۔ فوج کی طرف سے کئی بار مشرف کیسز سے لاتعلقی کا اظہار کیا گیا ہے۔ قوم توقع رکھتی ہے کہ فوج نہ صرف اس حوالے سے غیرجانبدار رہے گی بلکہ اس کا اظہار کرنے میں بھی کسی مصلحت کو آڑے نہیں آنے دیگی۔ بلاول بھٹو نے درست کہا ہے کہ مشرف کی طرف سے فوج کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش قابل نفرت ہے۔ تاہم بلاول نے یہ کہہ کر غداری کیس کا دفاع بھی غداری کے زمرے میں آتا ہے‘ اپنی ”دانشوری“ عیاں کر دی ہے۔ کسی سے بھی اس کا قانونی دفاع کا حق نہیں چھینا جا سکتا۔