بلاول ہاﺅس کے گرد غیرقانونی رکاوٹیں

31 دسمبر 2013

تحریکِ انصاف کی جانب سے اتوار کے روز بلاول ہاﺅس کے اطراف کی سڑک بلاک کرنے کیخلاف احتجاج کے دوران پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے کارکنوں کے درمیان بوٹ بیسن شاہراہ پر جھڑپ کے بعد علاقہ میدانِ جنگ بن گیا۔
سندھ ہائی کورٹ نے شہر بھر میں غیر قانونی رکاوٹیں ہٹانے کا حکم دیا تھا لیکن اسکے باوجود بلاول ہاﺅس کراچی کے سامنے تعمیر کی گئی غیر قانونی دیوار کو نہیں گرایا گیا، عام سڑک کو بند کر کے سکیورٹی کے نام پر دیوار تعمیر کر دینے سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس لئے تحریکِ انصاف کے کارکنان نے سڑک پر تعمیر غیر قانونی دیوار کو گرانے کیلئے احتجاج کیا تو پیپلز پارٹی کے کارکنان سے ان کا جھگڑا ہُوا جس کے باعث گزشتہ روز پورا علاقہ میدانِ جنگ بنا رہا۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد پیپلز پارٹی کو بلاول ہاﺅس کے سامنے سے غیر قانونی رکاوٹیں ویسے ہی ہٹا دینی چاہئیں تھی تاکہ عوام مشکلات سے بچ سکتے اور لڑائی جھگڑے کی نوبت بھی نہ آتی لیکن پیپلز پارٹی نے ایسا نہیں کیا۔ پیپلز پارٹی اب بھی دیوار کو گرا کر قانون کی حکمرانی قائم کرے اور اپنی سکیورٹی کا خود بندوبست کرے۔ بلاول بھٹو نے گزشتہ روز تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو بزدل خان کہہ کر انہیں طعنہ دیا تھا جس کے باعث پی ٹی آئی کے کارکنان میں بھی اس نعرے پر اشتعال پایا گیا، دونوں جماعتوں کی قیادتیں اپنے کارکنان کو صبر و تحمل کی تلقین کریں اور لڑائی جھگڑے کے بغیر امن سے اس مسئلے کا کوئی حل تلاش کریں جس سے عدالت کے فیصلے پر بھی عمل ہو جائے اور عوام بھی مشکلات سے بچ جائیں۔