منگل ‘ 27 صفر المظفر 1435ھ ‘31 دسمبر 2013ئ

31 دسمبر 2013

جلد ماں بننا چاہتی ہوں : وینا ملک !
یہ خواہش ہر اس دلہن کی ہوتی ہے جو ”میں تو بھول گئی بابل کا دیس ، پیا کا گھر پیارا لگے“ گنگناتے ہوئے ایک نئی زندگی کا آغاز کرتی ہے مگر وینا ملک کی طرف سے اتنی بے صبری کا مظاہرہ خاصہ تعجب خیز ہے وہ بھی ایسی صورت میں جب انہوں نے کئی شہزادوں اور راجکماروں کو چھوڑ کر انکے دل توڑ کر دبئی میں اپنے خوابوں کا شہزداہ چُن لیا۔ اتنی بھی کیا جلدی ہے شوہر کی محبت میں اولاد کی محبت شامل کرنے کی۔ ابھی تو انہیں چاہئے کہ وہ اپنی اس نئی محبت کے پودے کو پروان چڑھائیں، پھول اور پھل تو خود بخود اس پر آ ہی جاتا ہے۔ دنیا تو خیر سے وہ ساری دیکھ ہی چکی ہیں اب گھرداری پر بھی توجہ دیں، گھر کے آنگن کی بہار بن کر اپنے سرتاج کیلئے راحت اور آرام بنیں، رہے انکے مخالفین تو انہیں دھمکیاں دینے دیں، عدالتوں میں جانے دیں۔ خود وینا نے بھی تو یہی کہا ہے کہ انہیں کسی کی پروا نہیں کیونکہ ....
اساں ہیرے جئے اس دل اُتے اِک مورت تیری سجا لئی اے
ہُن جگدی کوئی پروا نئیں اوئے اساں دنیا نویں وسا لئی اے
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
بااثر اوباشوں نے ماں کو بچی سمیت اغوا کر لیا، مغویہ کے والدین صدمے سے نڈھال !
یہ ہے ہمارے معاشرے کا وہ ناسُور جس کا علاج نشتر کے سوا اور کچھ نہیں۔ جب تک یہ اوباش بااثر درندے ہمارے معاشرے میں کھلے عام دندناتے پھریں گے اسی طرح ہر روز کسی نہ کسی حوا کی بیٹی پر آسمان ٹوٹتا رہے گا۔
آئے روز ان خبروں کے باوجود ہمارے حکمرانوں، انصاف مہیا کرنے والے اور قانون نافذ کرنے والوں پر اس کا اثر کیوں نہیں ہوتا۔ گونگوں، بہروں اور اندھوں کی اس بستی میں کسی کو بھی عورت ذات پر ہونیوالے یہ مظالم سُنائی یا دکھائی نہیں دیتے یا انہوں نے خود اپنے کانوں اور آنکھوں پر بے انصافی اور بے رحمی کی پٹی باندھی ہے۔ قانون اور قانون کے رکھوالوں کے ہوتے ہوئے یہ کون ایسے لوگ ہیں جو بااثر کہلاتے ہیں۔ کیا ان کا شجرِ نسب قانون نافذ یا حکومت کرنیوالوں سے تو نہیں جا ملتا جس کے باعث انہیں ”بااثر“ کہا جاتا ہے، ایسے بااثر افراد کو بے اثر بنانے کیلئے اگر موت کے پھندے اور ان کے پشت پناہوں کیلئے جیل کی کال کوٹھڑیاں تیار نہ کی گئیں تو یہ ظلم و ستم کا بازار یونہی گرم رہے گا کیونکہ ....
ابھی وہ منزل فکر و نظر کہاں آئی
ہے آدمی ابھی جرم و سزا کے رستے میں
جرم و سزا کا یہ سلسلہ اب جلد پھر بحال کرنا پڑیگا جس کے نہ ہونے سے یہ عزتوں اور عصمتوں کے لُٹیرے اور وحشی درندے آزاد پھر رہے ہیں۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
جلالپور بھٹیاں میں 4 بلدیاتی امیدوار زرعی بنک کے نادہندہ نکلنے پر گرفتار !
کوائف کی تصدیق کا یہ سلسلہ اگر دوسرے شہروں اور دیہات تک بھی پھیل گیا تو شاید ہزاروں کی تعداد میں امیدوار اپنے قول و فعل اور کردار کی وجہ سے نادہندہ ہو جائینگے یوں عوام کو ان چور کرپٹ امیدواروں سے نجات ملے گی۔ بہتر بھی یہی ہے کہ الیکشن کمیشن امیدواروں کی مکمل چھان بین کے بعد ان کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے ورنہ بعد میں جو نااہل قرار دینے کا سلسلہ شروع ہُوا تو اس سے سرکاری خزانے کو جو نقصان ہو گا اس کا ذمہ دار بھی انہی امیدواروں کو ٹھہرایا جائے اور تمام انتخابی عمل پر آنے والا خرچہ انہی سے وصول کیا جائے....
ہوس درہم و دینار کی خیر
لوگ بکنے لگے کردار سمیت
اس لئے اچھے کردار والے ایماندار لوگوں کو سامنے لانے کا موقع ملنا چاہئے۔ کاش ہماری سیاسی جماعتیں بھی اس اہم نوعیت کے عوامی مسائل کے حل کے حوالے سے اہم الیکشن میں کرپٹ اور زر خرید لوگوں کو ٹکٹ دینے کی بجائے کم از کم صاف اور دیانتدار افراد کو آگے لائیں تو اچھا ہوتا کیونکہ اس طرح سیاست میں تبدیلی کا عمل بلدیاتی نرسری سے شروع ہوتا جو آہستہ آہستہ اوپر تک جاتا اور کچھ ہی عرصہ میں یہ سیاسی تربیت یافتہ افراد صوبائی اور قومی اسمبلی میں پہنچ جاتے۔ یہ تو دور کی بات ہے فی الحال کم از کم بلدیاتی اداروں میں اگر صاف اور اچھے کردار کے لوگ آ گئے تو سمجھ لیں عوام کو درپیش 70 فیصد مسائل ان کے دروازے پر ہی حل ہونے لگیں گے۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
لاہور میں تحریک منہاج القرآن کی ریلی کی قیادت محی الدین قادری نے کی!
پاکستانی عوام کو یہ دیکھ کر اب اندازہ ہو جانا چاہئے کہ مولانا قادری لاکھ جدیدیت کا لبادہ اوڑھیں جدید تراش خراش کیساتھ پردہ سکرین پر جلوہ گر ہوں مگر اندر سے ان میں بھی وہی خُو بُو پائی جاتی ہے جو ایک خاندانی سیاسی یا مذہبی رہنما میں رچی بسی ہوتی ہے۔ ”پدرم سلطان بود“ کا فلسفہ ان کی روح میں رچ بس چکا ہے اور وہ روایتی جُبہ و دستار میں ملبوس ان مشائخ میں سے ہیں جو اپنے اور عوام میں واضح فرق رکھتے ہیں۔ لمبے ریشمی چُغے اور ٹوپی کے ساتھ انکی سکرین پر جلوہ نمائی بھی اس فرق کو نمایاں کرتی ہے کیونکہ ....
یہاں لباس کی قیمت ہے آدمی کی نہیں
مجھے گلاس بڑے دے شراب کم کر دے
والا فلسفہ اب عام ہو گیا ہے۔اسلام آباد ڈرامے میں بھی وہ خود عوام کے سامنے نہیں آئے، آرائش و آسائش سے آراستہ و پیراستہ کنٹینر میں بیٹھ کر سلور سکرین پر اپنے کھوکھلے خطبات سے عوام کو بے وقوف بناتے رہے۔ انہوں نے بھی پارٹی میں خلافت کی بجائے ملوکیت کے نظام کو فروغ دے کر خود اپنے دعوﺅں کی نفی کر دی ہے۔ محی الدین قادری کو مستقبل کے سلطان کی صورت میں پیش کئے جانے کی باقاعدہ رونمائی بھی کر دی گئی ہے لاہور ریلی میں اور وہ بھی گلا اور آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر عوام کو اپنے زرخرید غلاموں کی طرح مخاطب کرنے کی مشق میں مصروف ہیں جس طرح بلاول زرداری آجکل اپنی ماں اور نانا کی نقالی کر کے پُرجوش رہنما بننے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ حیرت ہے مولانا قادری کو پوری تحریک منہاج القرآن میں کئی دہائیوں سے اپنا ساتھ دینے والے بزرگ اور جید علماءاور سکالروں میں سے ایک بھی اس پائے کا نظر نہیں آیا جس کو وہ اپنے بعد پارٹی کی قیادت سونپتے۔ کیا اتنا ہی قحط الرجال ہے انکی جماعت میں، اگر ایسا ہی ہے تو پھر وہ کس کے بل بوتے پر انقلاب اور تبدیلی کا خواب دیکھ رہے ہیں۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭