تذکرہ بلاول زرداری

31 دسمبر 2013

بڑے دنوں کے بعد شاہ جی اور اور سکندر میاں ایک دفعہ پھر آمنے سامنے تھے۔ دونوں آپس میں سیاسی نہیں حقیقی دوست ہیں لیکن اس کے باوجود سکندر میاں کو شاہ جی کی بے باکی، کھلی کھلی اور کڑک باتیں اچھی نہیں لگتیں۔ اسی طرح شاہ جی کو سکندر میاں کی سنجیدگی، فلاسفی اور لاہوری باتوں سے چِڑ ہے۔ قارئین کرام ! آج ان کا موضوع بحث بلاول بھٹو زرداری ہے۔ آئیں ان کی کچھ سمجھ میں آنے والی اور کچھ سمجھ میں نہ آنے والی باتیں سُنتے ہیں :
شاہ جی : دیکھ لیا! لیڈر ابنِ لیڈر نے کمال کر دیا۔ تقریر میں عمدگی، چال نانا ذوالفقار علی بھٹو جیسی، سوچ ماں بے نظیر بھٹو کی طرح کی اور ٹھک سے بات کرتا ہے۔ اسے کہتے ہیں اُبھرتا ہُوا لیڈر۔ کتنا صاف گوئی سے کام لیتا ہے، کہا ہے کہ ”طالبان سے جہاد کریں گے، پنجابی اسٹیبلشمنٹ کا ہمارے خلاف اتحاد تھا!“ اور تو اور یہ بھی سُنو کہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ”نواز شریف طالبان کے خلاف ایک لفظ بول دیں تو میں اپنے گھر کی دیواروں کو گرا دوں گا!“
سکندر میاں : ہا! بے چارے سادہ لوح پاکستانی عوام اور ان میں آپ بھی شاہ جی۔ جو ابھی انڈر نائن ٹین بھی نہیں کھیلا اور سیاست کی اے بی سی سے بھی ناآشنا ہے۔ فیس بُک اور ٹوئیٹر سیاست سے اور بلاول ہاﺅس گڑھی خدا بخش سے جو ایک قدم باہر نہیں نکلا اُسے آپ نے منزل تک پہنچا دیا ہے۔ یہ قحط الرجال نہیں تو کیا ہے کہ بھٹو کی پارٹی کو چیئرمین بھی ملا تو نونہال اور نابالغ۔ یہ پی پی پی ہے یا بازیچہّ اطفال؟
یہاں فسانہ¿ دیر و حرم نہیں اصغر
یہ میکدہ ہے یہاں بے خودی کا عالم ہے
شاہ جی: کیا قحط الرجال؟ اُس پارٹی کی بات کرتے ہو جس نے یوسف رضا گیلانی کو ملتان سے اُٹھا کر وزیراعظم بنا دیا، پھر گوجر خان سے اُٹھایا ایک عام سے راجہ کو اور مہاراجا بنا دیا۔ سندھ میں کسی بھٹو کو نہیں کسی دوسرے کو وزیر اعلیٰ بنا دیا۔ ایسا تو نہیں کیا تھا کہ بڑا بھائی وزیراعظم اور پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ کیلئے پارٹی میں سے کوئی بندہ نہیں ملتا۔ غیر رسمی وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز شریف کو، جو اب ٹی وی اشتہاروں میں بہانے بہانے سے ماڈلنگ بھی کرتا ہے۔ بیٹی مریم نواز شریف کو بلاوجہ بلاضرورت ایک یوتھ آرگنائزیشن کا چیئرپرسن بنا دیا۔ داماد اور دیگر رشتے داروں کی بات کروں تو بات ظہر سے عشاءتک ختم ہی نہیں ہو گی، آپ ہی بتایئے اگر پی پی پی میں قحط الرجال ہے تو یہاں مسلم لیگ (ن) میں کیا کمال ہے؟
جا بجا میلے لگے ہیں لال ہونٹوں کے منیر
تیرگی میں دیکھنے کو چشمِ بینا چاہئے
سکندر میاں : دیکھئے شاہ جی آپ جیالے ہیں، میں کوئی متوالا نہیں۔ (ن) لیگی نہیں عوام ہوں اور عوامی بات کر رہا ہوں۔ وہ بھی میرٹ پر جذبات کی رو میں بہہ کر نہیں۔ واضح رہے میں حکومت کے پیدا کردہ یا چھوڑے ہوئے کالم نگاروں میں سے نہیں ہوں لیکن مجھے نظر آتا ہے کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کم ہوئی ہے۔حکومت ترکی سے دوستی معاشی معاشرتی فوائد کے راستے ہموار کریگی۔ جی ایس پی کا درجہ حکومت کی زبردست کاوش ہے۔ میاں شہباز شریف سندھی وزیر اعلیٰ اور بلوچستان کے وزیر اعلیٰ حتیٰ کہ خیبر پی کے، کے وزیر اعلیٰ سے زیادہ متحرک اور زیرک ہیں۔ میاں نواز شریف خود بیدار مغز اور احسن انداز سے حکومتی امور چلا رہے ہیں۔ جمہوریت کی بازگشت ہر کوچہ و بازار میں ہے۔ بلدیاتی الیکشن کرائے جا رہے ہیں۔ دہشت گردی اور کرپشن زرداری حکومت سے کم ہے۔ حکومت ابھی چند ماہ کی عمر رکھتی ہے لیکن بلوغت اپنے عہدِ شباب پر دکھائی دیتی ہے۔ خارجی سطح پر عالمی برادری سے تعلقات بہترین ہیں۔ ڈالر کی قیمت گررہی ہے اور کیا چاہئے؟
شاہ جی : واہ، واہ! فسانے تیرے اور بہانے تیرے۔ یاد رکھو سکندر میاں! کھلونے اور کیمرے چائنہ سے منگوا کر ترقی کا حصول ممکن ہے نہ صفائی والے ترکی سے بُلوا کر، امریکہ سے جو مرضی منگوا لیں اور تھائی لینڈ یا بھارت سے جو چاہے لے لو اس طرح ترقی ممکن نہیں۔ کچھ لینا ہے تو نظریہ پاکستان سے لو، نظریہ اسلام سے لو، آئین کی دفعہ 62 اور 63 سے لو تو ہم مانیں گے کہ پی پی پی کی سابق حکومت اور مسلم لیگ ن کی موجودہ حکومت میں کوئی فرق ہے۔ مانیں گے، پھر ضرور مانیں گے۔ وہ دن دور نہیں جب نشہ¿ حکومت میں ہر چیز پرائیویٹائزیشن کی قید اور عذاب میں ہو گی، تمہاری حکومت کو 18ویں ترمیم کے اثرات اور استعمال کی تو سمجھ نہیں آ رہی۔ سارا زمانہ رو رہا ہے کہ ابھی تک محکموں کے سربراہان کی تقرری نہیں کر رہے۔ پہلے ان کا خیال تھا کہ افتخار محمد چوہدری ریٹائر ہو جائیں اور کیانی صاحب چلے جائیں پھر کچھ کریں گے صفِ ماتم نہ بچھے تو کیا ہو کہ 28 سے زائد محکموں کے سربراہان لگانے تھے، ابھی تک ایڈہاک ازم اور ”نواز ازم“ سے کام چل رہا ہے۔ عدالتوں کو بھی چکمہ دیا جا رہا ہے۔ عدالت نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین کی تقرری کیلئے 15 دن دئیے تھے وہ دن بھی گزر گئے، نہ جانے عدالت بھول گئی یا وکالت کام کر گئی۔ پاکستان کا سب سے اعلیٰ اور حساس معاملہ بغیر کسی چیئرمین ایچ ای سی چل رہا ہے۔ خُدا خُدا کر کے نیب کے چیئرمین کا مسئلہ حل ہُوا، اے جی پی آر ،پیمرا اور نادرا کے سربراہان کی چھیڑ خانی بھی گلے پڑ گئی تھی۔ آپ ہی بتائیے مسٹر سکندر! ان اداروں کے سربراہان بھی ترکی کے وزیراعظم نے دینے ہیں یا من موہن سنگھ محبت اور خیر سگالی کی بنیادوں پر بھارت سے بھیجے گا؟ چائنہ یا امریکہ سے درآمد کرانے ہیں یا جی ایس پی پلس کی کمائی سے خریدے جانے ہیں؟ اللہ اللہ، عالم یہ ہے کہ صوبائی وزیروں کو شہباز شریف چودھویں کے چاند کی طرح بھی نظر نہیں آتے، ہم کلام ہونا تو دور کی بات کسی وفاقی ممبر کو میاں نواز شریف دو لمحے دیدار کے دیدیں تو وہ قومی اسمبلی کے حلقہ میں جا کر متوالوں کی پریس کانفرنس کرتا ہے اور بڑی نزاکتوں سے کہتا ہے کہ ”وہ بڑے میاں صاحب سے آنکھیں دو چار ہوئی تھیں!“ وزارتوں سے مشارتوں تک کو بیورو کریٹس چلا رہے ہیں۔ خواجہ صاحب، ڈار صاحب، چوہدری نثار اور پروفیسر احسن اقبال یا عابد شیر علی کے علاوہ باقی سب وزراءوزارتوں کی محض ”ایکٹنگ“ کر رہے ہیں۔ سُنا ہے کوئی وزیر مطیع الرحمن بھی ہیں جن کا تعلق کسی تعلیم سے ہے!
یہاں کسی کو بھی کچھ حسبِ آرزو نہ ملا
کسی کو ہم نہ ملے اور ہم کو تُو نہ ملا
سکندر میاں : شاہ جی ہم نے تو بات کی تھی بلاول زرداری کی آپ سے کچھ جواب نہ بن پایا تو آپ نے ”جیالانہ حرکات“ شروع کر دیں اور غیر ضروری بحث شروع کر دی۔ یہ سراسر ناانصافی ہے، جو بات بلاول بھٹو سے شروع کی تھی آپ اسی پر رہتے۔ آپ کی عاقبت نااندیشی نہیں تو کیا ہے کہ موضوع پر رہنے کی بجائے آپ حسبِ عادت چشمک زنی پر اُتر آئے ہیں اور کبھی چشم نمائی پر۔ حُسنِ ظن بھی ہونا چاہئے۔ ہر حکومت بہرحال مثالی ہے اور مثالی جا رہی ہے.... ع
فراز دیکھ سماں برف کے پگھلنے کا
شاہ جی: افسوس ہے آپ کی شائستگی اور تبصرے پر میاں۔ کیا بلاول بلاول لگائی ہے۔ کیا خیال ہے بلاول بھٹو کو گڑھی خدا بخش یا بلاول ہاﺅس سے نکال کر دہشت گردی کے نشانے پر رکھ دیا جائے۔ الیکشن میں لوگ سابق وزیراعظم کے بیٹے کو مکھن میں سے بال کی طرح نکال کر اغوا کر لے گئے۔ آپ اور آپ کے حکمران تو گڈ طالبان اور بیڈ طالبان کی بحث میں اُلجھے ہوئے ہیں، اور اُلجھا رکھا ہے۔ ٹھیک ہی تو ہے طالبان سے ڈرتے لوگ طالبان کیخلاف بات سے گریزاں ہیں۔ جب کسی کی ماں کا لہو ہوتا کسی کے ہاتھ پر ہو یا اُس کا شک ہی ہو اور اُسی سے اُسے جان کا خطرہ بھی ہو، وہ کچھ تو بولے گا۔ یہاں کوئی دستورِ زبان بندی تو نہیں؟ چلیں اگر وہ ”نونہال یا رنگروٹ“ سیاستدان ہے تو بڑے سیاستدان اُس کا چیلنج قبول کر کے بلاول ہاﺅس کی دیواریں اور سیاست گرا کیوں نہیں دیتے؟