قائداعظمؒ کی مقدس امانت…مسلم لیگ

31 دسمبر 2013

 -30دسمبر1906ء کا دن برصغیر کی ملت اسلامیہ کی تاریخ کا سنگ میل ہے۔، اس دن پاکستان کی مادر جماعت آل انڈیا  مسلم لیگ معرض وجود میں آئی تھی۔ اس جماعت نے برصغیر کے مسلمانوں کو منظم کر کے انہیں ہندوئوں کے مقابلے میں ایک طاقتور مسلمان قوم کی صورت عطا کی اور جنوبی ایشیاء کا نقشہ بدل کر دنیا کی پانچویں بڑی مملکت ’’پاکستان‘‘ قائم کر دی۔ مسلمانان ہند کی تاریخ ساز جدوجہد آزادی میں مسلم لیگ کے بے مثال کردار اور سنہری خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ نے -21مارچ1948ء کو ڈھاکہ کے جلسۂ عام میں فرمایا:’’ہم نے انتھک کوشش اور جدوجہد کے ذریعے دس سال کے بعد آخر کار پاکستان حاصل کر لیا ۔ یہ مسلم لیگ تھی جس نے یہ سب کچھ کر دکھایا۔ بلاشبہ بہت سے مسلمان تھے جنہوں نے بے اعتنائی برتی، کچھ لوگ خوفزدہ تھے کہ ان کے بہت سے مفادات تھے اور انہوں نے سوچا کہ شاید وہ خسارے میں رہیں گے، کچھ دشمنوں کے ہاتھوں بک گئے اور ہمارے خلاف کام کیا لیکن ہم نے جدوجہد کی اور نبردآزما رہے۔ خدا کافضل و کرم اور اس کی اعانت سے ہم نے پاکستان قائم کر دیا جس نے ساری دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔ اب یہ آپ کے ہاتھ میں ایک مقدس امانت ہے یعنی مسلم لیگ۔ کیا ہم اپنے ملک اور قوم کی فلاح وبہبود کی حقیقی نگران اس مقدس امانت کی حفاظت کریں گے یا نہیں؟‘‘تین روزبعد 24مارچ کو ڈھاکہ یونیورسٹی کے جلسۂ تقسیم اسناد سے خطاب کرتے ہوئے بابائے قوم نے تاکید فرمائی:’’مسلم لیگ کو مستحکم بنائیے۔ یہی جماعت پاکستان کی خدمت کرے گی اور اسے حقیقی طور پر عظیم اور جلیل القدر بنائے گی۔ مسلم لیگ نے پاکستان حاصل کیا اور قائم کیا اور یہ مسلم لیگ ہی ہے جس کا اب یہ فرض ہے کہ مقدس امانت کی امین کی حیثیت سے پاکستان کی تعمیر کرے۔‘‘
پاکستان کی اس خالق جماعت کے 108یومِ تاسیس کے موقع پر نظریۂ پاکستان ٹرسٹ نے ایوانِ کارکنانِ تحریک پاکستان لاہور میں ایک خصوصی نشست کا انعقاد کیا۔ تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن‘ آبروئے صحافت اور نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین محترم ڈاکٹر مجید نظامی نے بطور خاص اس نشست میں شرکت کی اور اپنے مختصر مگر انتہائی گہرے مفہوم کے حامل صدارتی کلمات میں جہاں مسلم لیگ کے جنم دن پر خوشی کا اظہار کیا‘ وہاں اس امر پر رنجیدہ بھی دکھائی دیے کہ جس مقام یعنی ڈھاکہ میں اس جماعت کا قیام عمل میں آیا‘ وہ اب مشرقی پاکستان کی بجائے بنگلہ دیش بن چکا ہے اور آج وہاں پاکستان کی خالق جماعت کا نام لینا گناہ کبیرہ تصور کیا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ جماعت اسلامی جس نے 1971ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران متحدہ پاکستان کی حمایت میں پاک فوج کے شانہ بشانہ مکتی باہنی کا مقابلہ کیا تھا‘ اسے بھی وہاں کی موجودہ حکومت انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے۔ قارئین کرام! یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اِن دنوں شیخ مجیب الرحمن کی بیٹی شیخ حسینہ واجد بھارتی لالائوں کے اشارۂ ابرو پر رقص کناںہے۔ محترم ڈاکٹر مجید نظامی نے اسی بناء پر اسے بھارت کی شردھالو قرار دیا اور کہا کہ وہ بھارت سے آئے ہر حکم کی بلاچون و چراں تعمیل کررہی ہے اور متحدہ پاکستان کے حامیوں کو تختۂ دار پر لٹکا رہی ہے۔ پاکستان کی ایٹمی طاقت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ جوہری ہتھیاروں کو پلیٹ میں سجا کر رکھنے کی بجائے اُنہیں اپنی شہ رگ کشمیر بھارت سے آزاد کرانے کے لئے استعمال کرنا چاہئے۔ بھارت چونکہ کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے‘ لہٰذا وہ اس مسئلے پر بات کرنا گوارا ہی نہیں کرتا۔ بھارت کے ساتھ مذاکرات تو گزشتہ 66سالوں سے جاری ہیں مگر ان کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہورہا کیونکہ بھارت کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اس مسئلے کے منصفانہ حل میں سرے سے کوئی دلچسپی ہی نہیں ہے۔بھارت اس مملکت خداداد کی وحدت اور سلامتی کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑا ہوا ہے اور اس کے مذموم عزائم کے تدارک کی خاطر ناگزیر ہے کہ تمام مسلم لیگیںمتحد ہوجائیں۔ محترم ڈاکٹر مجید نظامی نے چند سال بیشتر بذات خود مسلم لیگوں کو متحد کرنے کی زبردست کوششیں کی تھیں۔ اس تناظر میں ہی انہوں نے کہا کہ تمام مسلم لیگیوں کو اپنی اپنی مسلم لیگیں ختم کرکے ایک متحد مسلم لیگ تشکیل دینی چاہیے جو پاکستان کو قائداعظم محمد علی جناحؒ کے نظریات و تصورات کے مطابق ایک جدید اسلامی جمہوری و فلاحی مملکت بنائے۔
پنجاب یونیورسٹی کی فیکلٹی آف آرٹس اینڈ ہیومینیٹز کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چاولہ نے اپنے خصوصی لیکچر کے دوران آل انڈیا مسلم لیگ کے قیام کے پس منظر اور اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بنیادی طور پر یہ جماعت ہندوستان کے مسلمانوںکے حقوق و مفادات کے تحفظ کی خاطر معرضِ وجود میں لائی گئی تھی۔ تقسیم بنگال کے واقعہ پر کانگریس کے معاندانہ ردِّ عمل نے ثابت کردیا کہ وہ صرف ایک ہندو جماعت ہے جسے مسلمانوں کی فلاح و بہبود سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ لہٰذا مسلمان اپنی الگ سیاسی جماعت تشکیل دینے پر مجبور ہوگئے۔ برطانوی سرکار کی طرف سے مسلمانوں کے لئے جداگانہ انتخابات کا مطالبہ تسلیم کیا جانا اگرچہ ایک اہم کامیابی تھی لیکن اس سے بھی بڑی فتح تب حاصل ہوئی جب قائداعظمؒ کی دوراندیش قیادت کے طفیل معاہدۂ لکھنؤ کی رو سے کانگریس نے مسلمانوں کے لئے جداگانہ طریقِ انتخاب کا حق تسلیم کرلیا۔ دراصل یہ اس کی طرف سے دوقومی نظریے کو تسلیم کرنا تھا۔ ہندو کانگریس نے اس بھاری لغزش کا مستقبل میں مداوا کرنے کی سرتوڑ کوشش کی مگر قائداعظمؒ کے آگے اس کی ایک نہ چل سکی اور متحدہ ہندوستان دوآزاد و خود مختار مملکتوں یعنی پاکستان اور بھارت میں تقسیم ہوگیا۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چاولہ نے کہاکہ بانیانِ پاکستان کو دینِ اسلام کا صحیح فہم حاصل تھا اور وہ اس مملکت کو دنیا کے لئے ایک قابل تقلید مثال بنانے کے آرزومند تھے۔ اُنہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ قیامِ پاکستان کے بعد مسلم لیگ انحطاط کا شکار ہوگئی جس کے نتیجہ میں ہمارا مشرقی بازو الگ ہوگیا۔