سال 2013۔۔۔۔ پاکستان کے لیے کیسا رہا ؟

31 دسمبر 2013

دیکھیے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض
اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
مرزا غالب کو جس طرح نئے سال پر بتوں سے فیض کی امیدیں تھیں اس طرح پاکستان کے عوام کو بھی سال 2013 سے بہت سی توقعات وابستہ تھیں۔ اب جب کہ اس سال کا اختتام ہو گیا ہے تو ان امیدوں پر اک نگاہ ڈالتے ہیں کہ یہ کس حد تک پوری ہو سکیں۔ سیاسی تبدیلیوں کے اعتبار سے سال دو ہزار تیرہ پاکستان کی تاریخ میں ایک یادگار سال سمجھا جائے گا۔ جمہوری عمل کے تسلسل کے اعتبار سے سال 2013 ملک کے لیے اچھا ثابت ہوا ،پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک منتخب حکومت نے اپنی مدت پوری کی اور ایک دوسری منتخب حکومت کو اقتدار منتقل ہوا۔ پیپلز پارٹی کی پانچ سالہ کارکردگی سے مایوس عوام نے مسلم لیگ ن پر اعتماد کا اظہار کیا ، دھاندلی کے تمام ترالزامات کے باوجود سیاسی جماعتوں نے انتخابی نتائج کو تسلیم کیا۔ عام انتخابات کے بعد صدارتی انتخابات ہوئے۔ مسلم لیگ نون کے ممنون حسین ملک کے نئے صدر منتخب ہوئے اور آٹھ ستمبر کو صدر آصف علی زرداری پانچ سال کی مدت پوری کرنے کے بعدایوان صدر سے رخصت ہوگئے۔
نئی حکومت سے وابستہ عوام کی امیدیں چند ماہ بعد ہی مایوسی میں بدلنے لگیں جب حکومت نے اپنے انتخابی وعدوں کے برعکس آئی ایم ایف کے آگے ہاتھ پھیلا دیا سخت شرائط کے ساتھ قرض تو حاصل ہو گیا مگرملک میں ڈالر کی قیمت 109 روپے تک پہنچ گئی اور مہنگائی کا ایک طوفان آ گیا بجلی ، گیس اور اشیائے ضرورت کی قیمتیں عوام کی پہنچ سے دور ہوتی چلی گئیں ، بجلی کی قیمت میں تو اضافہ ہو گیا مگر لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ نہیں ہو سکا ، اس سے عوام کا نئی حکومت کے اقتدار سنبھلانے سے وابستہ معاشی خوشحالی کا خواب چکنا چور ہو گیا۔ عوام غربت کی دلدل میں مزید دھنستے چلے جا رہے ہیں اور حکومت کی معاشی پالیسی ابھی تک کوئی اثر دکھانے میں کامیاب نہیں ہو سکی، بڑھتی ہوئی اس مہنگائی کی وجہ سے حکومت کے قیام کے صرف چھ ماہ بعد ہی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے ،تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک نے مہنگائی کے خلاف لاہور سے اپنے احتجاج کا آغاز کر دیا ہے۔
سال 2013 میں دہشت گردی کی جنگ کے حوالے سے اس وقت ایک اہم موڑ آیا جب حکومت کی جانب سے بلائی گئی اے پی سی میں تمام سیاسی جماعتوں نے طالبان سے مذاکرات کا متفقہ فیصلہ کیا ، مگر امن کی اس خواہش کا جواب طالبان نے پاک فوج کے جنرل ثنااللہ نیازی کو شہادت اور پشاور میں چرچ پر حملے سے دیا ، یکم نومبر کو طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد طالبان کی قیادت میں اہم تبدیلی آئی اور پہلی بار محسود قبیلے کے کسی فرد کے بجائے سوات سے تعلق رکھنے والے سخت گیر انتہا پسند ملا فضل اللہ کو طالبان کا امیر مقرر کیا گیا اور اس کے ساتھ ہی طالبان سے مذاکرات کی تمام امیدیں بھی دم توڑ گیئں۔ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی 28 نومبر کو ریٹائر ہو گئے اور ان کی جگہ جنرل راحیل شریف نے پاک فوج کی کمان سنبھال لی۔ انصاف کے ایوان میں بھی ایک اہم تبدیلی رونما ہوئی اور چیف جسٹس افتخار چوہدری 11 دسمبر کو اپنی مدت پوری کر کے رخصت ہوئے۔ نئے چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے چیف جسٹس کا منصب سنبھالا، فوری اور سستے انصاف کی عام آدمی کی خواہش جو سابق جسٹس افتخار چوہدری پوری نہ کر سکے وہ امیدیں اب جسٹس تصدق حسین جیلانی سے وابستہ ہو گئی ہیں۔
دہشت گردی کی جنگ میں ایک اور اہم تبدیلی اس وقت آئی جب تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے ڈرون حملوں کے خلاف نیٹو سپلائی روک دینے کا اعلان کیا اور اب ڈیڑھ ماہ سے خیبر پختونخواہ کے راستے ڈرون سپلائی معطل ہے۔ ڈرون حملوں کے خلاف پاکستان کے موقف کی اقوام متحدہ نے بھی تائید کردی ہے اور ان حملوں کے خلاف ایک متفقہ قرارداد بھی منظور کی ہے مگر اس سب کے باوجود امریکہ کسی کی سننے پر تیار نہیں ہے اور اب ھی پاکستان کی سرزمین پرڈرون حملے جاری ہیں۔
اس سال ایک اور اہم واقعہ ہوا جس کے اثرات پاکستان کی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے ،وہ واقعہ ہے سابق فوجی ڈیکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کی پاکستان آمد اور گرفتاری ، جنرل پرویز مشرف پر آیئن شکنی کے الزام میں غداری کا مقدمہ چلایا جا رہا ہے اور آج یکم جنوری کوان پر اس الزام میں باقاعدہ فرد جرم عائد کی جارہی ہے۔
سال 2013 جمہوریت کے حوالے سے تو بہت حوصلہ افزا رہا ہے مگر عوامی امنگوں کے پورا ہونے کے لحاظ سے خوشگوار نہیں رہا ، دہشت گردی ، توانائی کے بحران ، بیروز گاری میں اضافہ ، معاشی بدحالی ، سرکاری اداروں کی تباہی اور شدید مہنگائی کے مسائل نے عوام کو سخت مایوس کیا ہے ، فوج کی جانب سے تو اب جمہوریت کو کوئی اندیشہ نہیں ہے مگر حکومت اور سیاسی جماعتوں سے عوام کی مایوسی میں اضافہ جمہوری نظام کے لیے ایک خطرہ ضروربن سکتا ہے۔ اب ہمارے سیاستدانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی تمام صلاحتیں عوام کی زندگیوں کو بدلنے ملک کو دہشت گردی ، بیروز گاری ، معاشی بدحالی سے نجات دلانے میں استعمال کریں اور ایسی پالیسیاں ترتیب دیں جن سے عوام کی امنگیں پوری ہو سکیں ورنہ ایسا نہ ہو کہ عوام کی بڑھتی ہوئی مایوسیاں انہیں جمہوری نطام سے ہی بیزار کر دیں ،جمہوری نظام کی مضبوطی اور بقا اب صرف عوام کی آرزوﺅں اور امنگوں کو پورا کرنے پر ہی منحصر ہے۔ صرف حکومت ہی نہیں بلکہ نئے سال کے آغاز پر ہم سب کو یہ عہد کرنا ہو گا کہ ہم پاکستان کو ایک حقیقی خوشحال اور فلاحی ریاست بنانے کے لیے اپنا اپنا کردار محنت اور دیانت سے ادا کریں گے۔