نیا سال ، نئی امیدیں!

31 دسمبر 2013

سب سے پہلے تو میں اپنے ہم وطنوں خصوصاً قارئین نوائے وقت کونئے سال کی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ خون میں ڈوبا ہوا سال2013 آہیں، سسکیاں،آنسو، مایوسیاں اور نئی تبدیلیاں دیکر گزر گیا۔خدا کرے کہ اب نیا سال وطن عزیز کے لئے بہتر ثابت ہو۔آمین!سال 2013تبدیلیوں کا سال تھا۔نئی حکومت ،نیا آرمی چیف ،نیا عدلیہ چیف اور بہت سے اداروں کے نئے سربراہ لیکن مسائل وہی پرانے اور اپنی جگہ موجود۔نئی قومی قیادت سے بہت سی امیدیں تھیں لیکن ایک ایک کر کے سب ختم ہو رہی ہیں کیونکہ حکومت کی طرف سے کسی بھی مسئلے پر کسی قسم کی پیشترفت نظر نہیں آرہی۔حکومت مکمل طور پر مفلوج اور بے بس نظر آتی ہے خصوصاً دہشتگردی کے حوالے سے جو اسوقت قوم کا سب سے بڑا مسئلہ ہے ۔جب قوم میں مایوسیاں بڑھتی ہیں تولامحالہ طور پر قوم کی نظریں فوج کی طرف ہی اٹھتی ہیں کیونکہ کسی بھی ملک کی سلامتی کی آخری جنگ فوج ہی نے لڑنی ہوتی ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا نئی عسکری قیادت قوم کو موجودہ مایوسیوں کی دلدل سے نکال سکتی ہے یا نہیں؟
میں نے اپنے پچھلے کسی کالم میں لکھا تھا کہ ہمارے موجودہ آرمی چیف پر سب سے زیادہ ذمہ داری اسکا خاندانی پس منظر اور خاندانی روایات ہیں جو اتنی شاندار اور تابناک ہیں کہ جنرل راحیل شریف کیلئے کسی جگہ کمزوری دکھانا ممکن ہی نہ ہو گا جسکا ایک عملی ثبوت چیف نے پشاور کور ہیڈ کواٹر کا دورہ کرتے ہوئے دیا۔ چیف نے مناسب الفاظ میں دہشتگردوں پر اپنے مستقبل کے ارادے واضح کر دئیے ہیں۔ انکے اپنے الفاظ میں :”دہشت گردوں کے حملے کسی صورت بھی برداشت نہیں کئے جائینگے بلکہ منہ توڑ جواب دیا جائیگا“۔ ایسے ہی بیان کی اُن سے توقع تھی اور امید ہے اس پر عمل بھی ہو گا۔اس بیان کے بعد میں ذاتی طور پر اُن کی جرا¿ ت اور دہشت گردی کے مسئلے سے نپٹنے کیلئے بہت پُر امید ہوں۔اسکا پہلا ثبوت 18دسمبر کی شام کو ملا جب شمالی وزیرستان کی کھجوری پوسٹ پر دورانِ نماز دہشتگردوں نے خودکش دھماکہ کیا جس سے پانچ جوان شہید ہوئے اور تقریباً 33 زخمی ہوئے ۔زخمیوں کو میران شاہ ہسپتال لے جاتے ہوئے دہشتگردوں نے دوبارہ فوجی کانوائے پر حملہ کردیا جسکا فوجی جوانوں نے دلیرانہ جواب دیا اور 53 آدمی مارے گئے فوجی بیان کیمطابق ان میں اکثریت دہشتگردوں کی تھی جن میں کچھ ازبک بھی شامل تھے ۔اس فوجی کاروائی کا ایک اچھا نتیجہ دوسرے دن اخبارات کی معرفت معلوم ہوا اور وہ یہ کہ دو ازبک دہشتگرد دوسرے دن مقامی قبائلوں نے خود مار دئیے اور یہی اس مسئلے کا حل ہے ۔ سچ ہے اگر قیادت دلیر ہوگی تو عوام بھی ان کی پشت پر ہونگے ورنہ یہ موت اور دہشتگردی کا کھیل یکطرفہ طور پر جاری رہیگا۔ ویسے مولانا فضل الرحمن کے بیان کے مطابق53نہیں بلکہ 63 لوگ مارے گئے جو سب بے گناہ تھے ۔سمجھ نہیں آتی کہ دنیا جہاں کے معصوم اور بے گناہ لوگ وزیرستان میں کیسے اکٹھے ہو گئے ہیں کیونکہ جو بھی مارا جاتا ہے فوری کسی نہ کسی عالمِ دین کی طرف سے اسکی بے گناہی کا بیان آجاتا ہے۔اس سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ مجرم صرف پاکستانی قوم اور پاکستانی فوج ہی ہے جنکے مارے جانے پر کسی کو افسوس نہیں۔
 اسلام کے پیروکار اور شریعت پر عمل کرنے کے دعویدار خود اسلامی شریعت پر عمل کرنے کیلئے تیار نہیں تو پھر سوچا جا سکتا ہے کہ وہ کس قسم کا اسلام لانے کیلئے کوشاں ہیں۔اس واقعہ کا دوسرا پہلو فوج کا جوابی حملہ ہے جس سے 53 یا63آدمی مارے گئے۔اس سے پہلے اس قسم کی جوابی کاروائی آپریشن راہ نجات کے علاوہ کہیں نہیں سنی گئی۔اس سے دہشت گردوں کو بھی پیغام مل گیا کہ نئی عسکری قیادت یکطرفہ طور پر لاشیں قبول نہیں کریگی اور دہشتگردی ختم کرنے کا یہی آزمودہ نسخہ ہے ۔اس پر عمل ہوتا تو یہ مسئلہ کب کا حل ہو چکا ہوتا۔اس واقعہ کا تیسرا پہلو مولانا صاحب اور کچھ دیگر اہل نظر اصحاب کے بیانات ہیں کہ یہ سب بے گناہ لوگ تھے جو مارے گئے جبکہ فوج کے مطابق یہ دہشت گرد تھے۔ویسے ظاہری طور پر تو جوابی کاروائی فوجی کانوائے پر حملے کے فوری بعد کی گئی اور دہشت گرد اتنی جلدی موقع سے غائب نہیں ہو سکتے ۔ یقیناً ان بے گناہ مرنے والوں میں کچھ نہ کچھ دہشت گرد بھی ضرور ہونگے اور اگر سب سویلین اور بے گناہ لوگ تھے تو یہ واقعی افسوسناک بات ہے اور ایسا ہرگز نہیں ہونا چا ہیے۔ یہ تو ہماری انٹیلی جنس کی مکمل ناکامی ہے۔فوج کو بے گناہ لوگ مار کر عوام کو اپنا دشمن نہیں بنانا چاہیے۔یہاں لازمی یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ وہاں ہزاروں کے حساب سے کام کرنے والی سیکورٹی ایجنسیاں کیوں اپنا فرض ادا نہیں کر رہیں؟انٹلیجنس تو وہ ہوتی ہے جسکی اطلاع کاروائی سے پہلے مل جائے اور پھر کاروائی کا تدارک ہوسکے۔لہٰذا حکومت اور جنرل صاحب کو انٹیلجنس بڑھانے کی بجائے اسکی بہتر کارکردگی پر زور دینا چاہیے ۔ یاد رہے کہ دہشتگردی مناسب اور مﺅثر انٹیلی جنس کے بغیرختم نہیں کی جا سکتی ۔
دہشتگردی کیخلاف مﺅثر جوابی کاروائی فوجی مورال کیلئے بہت ضروری ہے۔جنگ جس قدر طویل ہوتی ہے فوج میں بد دلی بڑھتی ہے۔ہم کم و بیش تیرہ سال سے اس بے مقصد جنگ میں پھنسے ہوئے ہیں۔اب تک ہزاروں کے حساب سے فوج ،پولیس ، سول آرڈر فورسز کے جوان اور عوام قربانیاں دے چکے ہیں۔کئی سینئر افسران بھی شہید ہو چکے ہیںلیکن دہشتگردی رکنے میں نہیں آرہی بلکہ روز بروز بڑھ ہی رہی ہے۔اب تو یہ لوگ اسقدردلیر ہو چکے ہیں کہ ہماری پوسٹوں پر حملے کر کے اہلکاروں کو اٹھا کر لے جاتے ہیں اور انہیںذبح کر کے سڑکوں پر پھینک دیتے ہیں اور ہم سوائے افسوس یا ایک آدھ مذ متی بیان کے کچھ نہیں کر سکتے ۔اسوقت تقریباً 33ہزار مربع کلومیٹر کے علاقے پر ان لوگوں کا قبضہ ہے جہاں حکومتی رٹ مکمل طورپر ختم ہو چکی ہے ۔سمجھ نہیں آتی کہ کونسی ایسی مصلحت ہے کہ ہم جوابی کاروائی کرنے سے قاصر ہیں؟یہ جنگ جتنا زیادہ طویل ہوگی ریاست اتنی ہی کمزور ،قوم مایوس اور دہشتگرد گروپ مضبوط ہونگے۔اب تو سنا ہے کہ لگ بھگ 80 ایسے گروپس معرض وجود آچکے ہیں۔
یہاں یہ بات افسوس سے کہنی پڑتی ہے کہ اس معاملہ میں ہمارے سیاستدانوں اور حکمرانوں کا رویہ بہت ہی مایوس کن ہے۔یہ دہشت گردی کی وبا 1995میں شروع ہوئی جب پہلا خود کش دھماکہ مصری سفارتخانے پر کیا گیا جس میں سترہ آدمی مارے گئے اور 60 زخمی ہوئے اور پھر 2002 سے ایسے حملے بڑھتے گئے اور اب کوئی ماہ سلامتی سے نہیں گزرتالیکن ہمارے سیاستدان اب تک انسدادِدہشتگردی پالیسی نہیں بنا سکے۔پچھلے چار ماہ سے حکومت مذکرات کی نوید سنا رہی ہے لیکن عمل آج تک نہیں ہوسکا جبکہ عوام کا خون مسلسل بہایا جا رہا ہے۔اب عوام کی نظریں نئے آرمی چیف پر ہیں کہ کیا وہ قوم کی امیدوں پر پورا اتریں گے؟