وفاق میں موجود بیورو کریسی چھوٹے صوبوں کو حقوق نہیں دینا چاہتی: سینٹ کمیٹی

31 دسمبر 2013

 اسلام آباد(آن لائن)سینٹ کی خصوصی کمیٹی نے وفاقی حکومت کی جانب سے اٹھارہویں ترمیم کے تحت صوبوں کو منتقل ہونے والی وزارتوں کی وفاق میں متبادل وزارتوں کے قیام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام متعلقہ معاملات پر صوبوں کے اعتراضات اور دیگر معاملات کے بارے میں ایک ذیلی کمیٹی رضا ربانی کی کنوینئر شپ میں تشکیل دے دی ہے جو دو ہفتے میں اپنے قواعد و ضوابط مرتب کرے گی اور غالب امکان ہے دو ماہ میں رپورٹ مرکزی کمیٹی کو پیش کردے گی‘ چیئرمین کمیٹی نے ارکان وفاقی کابینہ کو ہدایت کی ہے وہ اٹھارہویں ترمیم کو واپس لئے جانے یا نہ لئے جانے کے معاملے پر بیانات سے گریز کریں کیونکہ اس سے شکوک وشبہات پیدا ہورہے ہیں‘ حکومت کی جانب سے کمیٹی کو یقین دلایا گیا اٹھارہویں ترمیم کو واپس لئے جانے کے بارے میں حکومت کی کوئی سوچ نہیں۔ سینٹ کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس کنوینئر ظفرالحق کی زیر صدارت ہوا جس میں موجودہ اور ماضی کی وفاقی حکومت کی جانب سے اٹھارہویں ترمیم کے برعکس وزارتوں کی تخلیق اور دیگر اقدامات کے بارے میں غور کیا گیا۔ ارکان کمیٹی اس موقف پر متفق تھے کہ وفاقی حکومت صوبوں کو اٹھارہویں ترمیم کے تحت سپرد کئے گئے محکمے اور وسائل نہیں دینا چاہتی بلکہ گذشتہ حکومت نے اٹھارہویں ترمیم کے تحت صوبوں کو منتقل کی گئی وزارتوں کے نام پر نئی وزارتیں تخلیق کرلی تھیں۔ ان کا کہنا تھا ان اقدامات سے وفاق میں بیٹھی ہوئی بیوروکریسی کے ایک خاص ذہن کی عکاسی ہوتی ہے جو صوبوں کو ان کے حقوق نہیں دینا چاہتی جس کی وجہ سے چھوٹے صوبوں میں احساس محرومی کیساتھ وفاق مخالف جذبات پیدا ہوتے ہیں اور ان صوبوں میں آئین کی پاسداری کرنے والے عناصر مایوسی کا شکار ہورہے ہیں اور وفاق میں موجود صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والی بیوروکریسی چھوٹے صوبوں کو حقوق نہیں دینا چاہتی، اس کیساتھ ساتھ اس بیوروکریسی میں چھوٹے صوبوں کی بھی بہت کم نمائندگی ہے۔ ان کا کہنا تھا حالیہ دنوں میں وفاقی وزارت تعلیم کی جانب سے صوبائی حکومتوں کو قومی سطح پر نصاب کی تشکیل کیلئے خط بھیجا گیا ہے اسی طرح وفاقی وزیر احسن اقبال نے بھی ایک بیان دیا ہے وفاقی حکومت تعلیم کے شعبے کو صوبوں سے واپس لینے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔ ان ارکان کا کہنا تھا مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بھی 160 دن سے زائد عرصے سے نہیں ہوا حالانکہ آئین کے تحت اس کا اجلاس ہر تین ماہ میں کم از کم ایک مرتبہ ہونا ضروری ہے۔ ان ارکان نے مطالبہ کیا چونکہ اٹھارہویں ترمیم پر عملدرآمد اور اٹھارہویں ترمیم کی خلاف ورزی کے معاملات دو تین وزارتوں سے وابستہ ہیں جنہیں مرکزی کمیٹی میں زیر بحث نہیں لایا جاسکتا اسلئے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی جائے تاکہ وہ ان معاملات کو وزارتوں اور صوبوں کیساتھ الگ الگ اٹھائے۔