دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائی کی جائے ‘ سول اور عسکری قیادت اس پر یکجا ہیں‘ شہریوں اور فوج پر حملے برداشت نہیں کریں گے: نوازشریف

31 دسمبر 2013

 اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی + نوائے وقت رپورٹ + ایجنسیاں) وزیراعظم محمد نوازشریف نے انسداد دہشت گردی کے قوانین کی تیز رفتاری سے تیاری اور انکے نفاذ کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے یہ بات اپنی زیرصدارت قومی سلامتی اور امن و امان کی صورتحال پر اعلیٰ سطح کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان، بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف، چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم، آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل، ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلی جنس، وزارت داخلہ اور قانون کے سیکرٹریز سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملک میں انسداد دہشت گردی کے قوانین اور اس حوالے سے قانون کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ معصوم شہریوں اور مسلح افواج پر دشمن کے حملے کو برداشت نہیں کیا جائیگا۔ دہشت گردی کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے مربوط سٹرٹیجی اختیار کریں گے۔ کراچی، فاٹا اور پاٹا کے علاقوں میں دہشت گردوں سے نمٹنے کیلئے سول انتظامیہ اور فوج کا موقف یکساں ہے۔ اس حملے پر دونوں یکجا ہیں۔ وزیراعظم نوازشریف نے انسداد دہشت گردی کے متعلق قانون سازی جلد مکمل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ مسلح افواج اور معصوم شہریوں پر حملے کرنیوالوں کیلئے قانون میں کوئی گنجائش نہیں، دہشت گردی سے متعلق قوانین جلد مرتب کر کے انکا نفاذ کیا جائے۔ وزیراعظم نوازشریف نے ہدایت کی کہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے مربوط حکمت عملی بنائی جائے۔ اجلاس میں انسداد دہشت گردی سے متعلق قوانین میں تبدیلیوں کیلئے تحفظ پاکستان اور دیگر آرڈیننس کے تحت قانون سازی کیلئے جاری کام کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ متعلقہ آرڈیننس قائمہ کمیٹیوں کو بھیج دئیے گئے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ قانون کا سختی سے اطلاق ہوگا۔ سماج دشمن عناصر کے خلاف م¶ثر کارروائی کیلئے قدم پیچھے نہیں ہٹائیں گے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ انسداد دہشت گردی سے متعلق زیر التوا قوانین میں تبدیلی کا کام تیز کیا جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ معصوم شہریوں اور مسلح افواج پر حملے کرنیوالوں کیلئے قانون میں کوئی گنجائش نہیں، شدت پسندوں کیخلاف م¶ثر قانونی کارروائی ہونی چاہئے۔ ان لوگوں کو عدالتی کٹہرے میں لایا جانا چاہئے۔ انسداد دہشت گردی سے متعلق قانون سازی کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ انسداد دہشت گردی سے متعلق قانون سازی کو تیز کیا جائے۔ وزیراعظم نوازشریف نے انسداد دہشت گردی کے متعلق قانون سازی جلد مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی سے متعلق قوانین جلد مرتب کر کے ان کا نفاذ کیا جائے۔ وزیراعظم ہاﺅس سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت امن و امان اور قومی سلامتی سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان، آرمی چیف جنرل راحیل شریف، چیف آف جنرل سٹاف، ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی ایم آئی، وزارت داخلہ اور قانون کے وفاقی سیکرٹریز سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں انسداد دہشت گردی قوانین کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم نواز شریف نے ہدایت کی کہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے مربوط حکمت عملی بنائی جائے، ایسے عناصر کیخلاف م¶ثر کارروائی عمل میں لائی جائے، دہشت گردی سے متعلق قوانین جلد مرتب کر کے انکا نفاذ کیا جائے۔ دہشت گردوں کیخلاف موثر کارروائی ہونی چاہئے۔ دریں اثناءوزیراعظم نوازشریف کی زیرصدارت ایف بی آر میں اصلاحات سے متعلق اجلاس ہوا۔ ٹیکس دہندگان کو ریلیف دینے کے اقدامات پر غور کیا گیا۔ وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ ایف بی آر اصلاحات کے ذریعے ٹیکس دہندگان کو سہولتیں فراہم کرے۔ ایف بی آر میں جامع اصلاحاتی پیکیج متعارف کرایا جائے۔ ایف بی آر کاروباری سرگرمیوں میں اضافے کیلئے نظام وضع کرے۔ وزیراعظم نوازشریف نے فیڈرل بورڈ آف ریوینیو کو ہدایت کی کہ وہ ٹیکس دہندگان کی سہولت کےلئے ادارے کے اصلاحاتی پیکیج کو حتمی شکل دے۔ اصلاحات کا مقصد ٹیکس دہندگان کو سہولت اور تجارتی سرگرمیوں کا فروغ ہونا چاہئے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر ڈیوٹیز کی شرح کم کی جانی چاہئے۔ وزیراعظم نے خواہش ظاہر کی کہ ایف بی آر ٹیکس دہندگان کی سہولت کے لئے جدید ٹیکنالوجی اور ٹریکنگ نظام متعارف کرائے۔ وزیراعظم محمد نوازشریف نے ایف بی آر میں ایک ماہ کے اندر جامع اصلاحاجی پیکج متعارف کرنے کی ہدایت کی جس سے طریقہ کار کو آسان اور ٹیکس وصولی میں اضافہ ہو۔ وزیراعظم ہا¶س میں ایف بی آر میں اصلاحات اور ٹیکس دہندگان کو ریلیف فراہم کرنے سے متعلق اعلیٰ سطح کے اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحق ڈار، وزیر دفاع و پانی و بجلی خواجہ محمد آصف، وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان، وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی، وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اور سینئر حکام نے شرکت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایسا ٹیکس نظام وضع کیا جائے جس سے تجارت میں اضافہ ہ و، ایف بی آر کو ٹیکسوں کے نظام میں اصلاحات لانی چاہئیں تاکہ ٹیکس دہندگان کو سہولت حاصل ہو۔ ٹیکس دہندگان کو فوری خدمات فراہم کرنے اور طریقہ کار کو آسان بنایا جائے۔ ٹیکس افسر کی صوابدید کم کرنے کیلئے نئی ٹیکنالوجی اور ٹریکنگ سسٹم متعارف کرایا جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ٹیکس افسر عوام کو سہولت فراہم کریں تاکہ انہیں اطمینان حاصل ہو۔ انکم ٹیکس، جی ایس ٹی اور کسٹمز کے نظام کو معقول اور سادہ بنایا جائے تاکہ اس سے حکومت کی آمدن میں اضافہ ہو۔ کرپشن ہمارے تمام مسائل کا بنیادی سبب ہے جو ہماری معیشت کو کھا گئی ہے۔ انہوں نے ایف بی آر کی مینجمنٹ کو ہدایت کی کہ بدعنوانی کو کسی صورت برداشت نہ کیا جائے۔ انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور ڈیوٹی کی شرح میں کمی لا کر نئے ٹیکس ادا کرنیوالوں کو سسٹم میں لایا جائے۔ ایسی پالیسیاں تشکیل دی جائیں جن سے تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہو۔ وفاقی وزیر خزانہ نے معاشی صورتحال ٹیکس ریوینیو کے ٹارگٹ سے متعلق بریفنگ دی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایف بی آر میں ایسی جامع اصلاحات کی جائیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایف بی آر کے افسر عوام کو سہولتیں فراہم کریں۔ ایف بی آر میں کرپشن کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، ایف بی آر کو کرپشن کی روک تھام میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ دریں اثناءوزیراعظم محمد نوازشریف نے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کیلئے خصوصی اقدامات کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ روزگارکے مواقع فراہم کرنے کیلئے ایسے پروگرام اور سکیمیں شروع کی جائیں جس سے غریب اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کو زیادہ مواقع حاصل ہوں۔ سرکاری ذرائع نے اس حوالے سے بتایا کہ حکومت ملک بھر میں نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کیلئے وفاقی حکومت یوتھ ڈویلپمنٹ فیلوشپ پروگرام، یوتھ ٹریننگ پروگرام، یوتھ سکل ڈویلپمنٹ پروگرام اور یوتھ بزنس لون سکیم کے علاوہ کئی دیگر پروگرام شروع کرنے پر غور کر رہی ہے۔ یوتھ ڈویلپمنٹ فیلو شپ پروگرام کے تحت اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانی نوجوان اور ملک کے مختلف یونیورسٹیوں سے حال ہی میں فارغ تحصیل ہونے والے طلبا کو ایک سال کیلئے 60 ہزار روپے دیئے جائیں گے۔ یوتھ ٹریننگ پروگرام کے ذریعے سول اور سرکاری یونیورسٹیوں اور کالجوں میں زیر تعلیم طلبا کو انٹرن شپ پروگرام کیلئے منتخب کیا جائے گا۔ اس پروگرام میں قبائلی علاقوں اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ترجیح دی جائے گی اس طرح یوتھ سکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے ذریعے ملک بھر کے نوجوانوں کو پیشہ وارانہ تربیت دی جائے گی جس سے ان کو روزگار کے حصول میں آسانی ہو گی اس کے ساتھ وفاقی سطح پر تعلیم یافتہ نوجوانوں میں لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی سکیم شروع کی جائے گی۔ غریب طلبا کو جمع کردہ فیسیں واپس دینے سے اس امر کو یقینی بنایا جا سکے گا کہ مالی مشکلات کے باعث کوئی نوجوان تعلیم سے محروم نہیں رہے، غریب طلبا اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھ سکیں گے۔ نوجوانوں کی فلاح و بہبود کیلئے وزیراعظم یوتھ بزنس لون پروگرام کا آغاز پہلے ہی کیا جا چکا ہے جس کے تحت پڑھے لکھے نوجوانوں کو ایک سوارب روپے کا قرضہ دیا جائے گا۔ مختصرعرصہ کے باوجود اس سکیم کو بڑی پذیرائی مل رہی ہے اور اب تک چھ ملین سے زائد درخواستیں اس سکیم کیلئے موصول ہو چکی ہیں۔