سندھ : بلدیاتی قانون میں ترامیم غیر آئینی ہیں 2001ء کی حلقہ بندیوں کے تحت الیکشن کرائے جائیں : ہائیکورٹ

31 دسمبر 2013

کراچی + لندن (ایجنسیاں + نوائے وقت نیوز) سندھ ہائی کورٹ نے لوکل گورنمنٹ آرڈیننس میں ترامیم کو غیر آئینی قرار دے کر بلدیاتی الیکشن 2001ء کی حلقہ بندیوں کے مطابق کرانے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ سندھ حکومت نئی حلقہ بندیوں پر الیکشن کرانا چاہتی ہے توالیکشن کی تاریخ آگے بڑھائی جائے اور اس مقصد کے لئے سپریم کورٹ و الیکشن کمشن سے رجوع کیا جائے۔ سندھ ہائی کورٹ کے دورکنی بنچ نے بلدیاتی حد بندیوں اور لوکل گورنمنٹ ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ سنایا۔ ایم کیو ایم، مسلم لیگ (ن)‘ فنکشنل لیگ سمیت دس جماعتوں نے درخواستوں میں لوکل گورنمنٹ آرڈیننس میں ترامیم اور حد بندیوں کو چیلنج کیا تھا۔ ہائی کورٹ کے فیصلے میں میرپور خاص‘ لاڑکانہ‘ حیدر آباد اور سکھر ڈویژن کی حد بندیوں سے متعلق نوٹیفکیشن بھی کالعدم قرار دے دیا گیا۔ سندھ ہائی کورٹ کے 2 رکنی ڈویژنل بنچ نے 24 دسمبر کو بلدیاتی قانون میں ترامیم کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ درخواست گذاروں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ترمیم کے مطابق 9 افراد کا پینل بنا کر انتخاب میں حصہ لیا جا سکے گا جس سے ایک شخص کی انفرادی حیثیت متاثر ہو گی جو آئین کے مطابق درست نہیں ہے جب کہ کراچی میں نئی حلقہ بندیوں کے ذریعے دیہی اور شہری علاقوں کو تقسیم کر دیا گیا ہے۔ درخواست گذاروں نے بلدیاتی قانون میں ترامیم کی مختلف شقوں کو چیلنج کیا تھا۔ متحدہ نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ نئی حلقہ بندیوں کے تحت کراچی میں دیہی اور شہری علاقوں کو تقسیم کر دیا گیا اور جہاں کراچی کی شہری حدود میں 40 سے 50 ہزار آبادی پر مشتمل یونین کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں وہیں شہر کے مضافاتی دیہی علاقوں میں 10 سے 15 ہزار کی آبادی پر مشتمل یونین کونسلوں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں ایم کیو ایم کے وکیل فروغ نسیم نے کہاکہ عدالت نے کراچی، حیدر آباد، میرپور خاص، سکھر اور لاڑکانہ کے لئے بھی حلقہ بندیوں کو کالعدم قرار دے دیا ہے، ایم کیو ایم نہیں چاہتی کہ انتخابی عمل میں تاخیر ہو، بلدیاتی الیکشن پرانی حلقہ بندیوں پر ہونے چاہئیں، اگر سندھ حکومت سپریم کورٹ اور الیکشن کمشن سے رجوع کرنا چاہے تو اسے حق حاصل ہے ایسی حالت میں عدالت جو فیصلہ کرے گی وہی نافذ العمل ہو گا۔ بلدیاتی آرڈیننس سے متعلق 78 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پینل کے ذریعے لازمی انتخاب آئین سے متصادم اور انسانی حقوق کے بھی خلاف ہے۔ آرٹیکل 25 اسلامی اصولوں کے مطابق ہر شخص کو یکساں حقوق فراہم کرتا ہے۔ ترمیم بلدیاتی ایکٹ کی شق 35 اور 36 کے خلاف ہے۔ پینل کے تحت حصہ لینے کو لازمی قرار دے کر آزاد امیدوار کا حق سلب کیا گیا ہے۔ فیصلے میں رواں برس 13 اور 21 نومبر کو جاری کئے جانے والے نوٹیفکیشن بھی کالعدم قرار دے دئیے گئے ہیں جو حیدرآباد، میرپور خاص، سکھر، لاڑکانہ اور کراچی میں نئی حلقہ بندیوں کے تناظر میں جاری کئے گئے تھے۔ عدالت نے یہ تجویز بھی دی ہے اگر نئی حلقہ بندیوں کے لئے سپریم کورٹ سے سندھ میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کی تاریخ میں توسیع کی اجازت مل جاتی ہے تو صوبائی حکومت ایک آزاد کمشن بنائے جو تمام تر قوانین اور ضابطہ کار کے مطابق حلقہ بندیوں کے معاملے کو دیکھے اور ایک آزاد فورم فراہم کرے جہاں حلقہ بندیوں سے متعلق اپیلوں کی سماعت ہو سکے۔ ادھر وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل پر سندھ  ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔ الطاف حسن نے ہائیکورٹ کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فیصلہ ایم کیو ایم اور کراچی کے عوام کی فتح ہے۔ سکھر ایئرپورٹ پر میڈیا سے بات چیت میں وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ سینئر وکلا سے مشورہ کیا جائے گا۔ سندھ میں بلدیاتی الیکشن ہر حال میں ہوں گے‘ بلدیاتی انتخابات کی تاریخ میں توسیع ہو سکتی ہے۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ سے متعلق ہائیکورٹ کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ شکرگزار ہیں کہ ہائیکورٹ نے ترامیم کو غیر آئینی قرار دیا ہے۔ یہ ایم کیو ایم اور کراچی کے عوام کی فتح ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ خالد جاوید نے کہا ہے کہ سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی جائے گی۔ سندھ اسمبلی نے ایس کوئی قانونی سازی نہیں کی ہے جو آئین کے خلاف ہو۔ نئی حلقہ بندیاں صرف کراچی میں نہیں کی گئیں بلکہ پورے سندھ میں کی گئی ہیں۔ سندھ کے وزیر اطلاعات و بلدیات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد اب صوبے میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد 18 جنوری کو کسی صورت ممکن نہیں ہے۔ ہم 2001ء کی حلقہ بندیوں کو نہیں مانتے کیونکہ یہ آمر مشرف کی جانب سے اپنے سیاسی دوستوں کو خوش کرنے کے لئے سیاسی رشوت کے طور کی گئی تھی۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد سپریم کورٹ میں جانے کا آپشن موجود ہے۔ سندھ بھر میں بلدیاتی انتخابات کے لئے جمع کردہ کاغذات نامزدگی نئی حلقہ بندیوں کے تحت جمع کرائے گئے تھے جو اب نل اینڈ وائٹ ہو گئے ہیں اور سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد اب تمام کاغذات نامزدگی غیر مؤثر ہو گئے ہیں۔ سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد الیکشن کمشن نے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے اہم اجلاس آج (منگل) طلب کر لیا۔ اجلاس میں سندھ میں انتخابات کے مقررہ تاریخ اور نئی حلقہ حدبندیوں کے تحت جمع کرائے گئے نامزدگی فارم سے متعلق امور پر بات چیت ہو گی۔ اجلاس میں خیبر پی کے میں بائیو میٹرک سسٹم متعارف کرانے کے فیصلے سمیت پنجاب کیلئے بیلٹ پیپرز کی چھپائی اور دیگر انتظامی امور کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ ادھر برطانوی میڈیا نے کہا ہے کہ سندھ میں عدالت کی جانب سے لوکل باڈیز ایکٹ کی تمام ترامیم کو کالعدم قرار دینے کے بعد صوبے میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد خطرے سے دوچار ہے۔ انتخابات کے انعقاد میں قانونی پیچیدگیاں آڑے آ گئی ہیں۔