بجلی کی پیداوار ‘ ترسیل کا مکمل نظام دیا جائے: پرویز خٹک کا وزیراعظم کو خط

31 دسمبر 2013

پشاور/ اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ/ ثناء نیوز) خیبر پی کے کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے پیسکو کا مشروط کنٹرول سنبھالنے کیلئے وزیراعظم محمد نواز شریف کو خط لکھ دیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا ہے پیسکو کے کنٹرول کا معاملہ مکمل پیکیج پر محیط ہونا چاہئے، صوبے میں بجلی کی پیداوار، تقسیم اور ٹرانسمیشن لائنوں کو اپ گریڈ کرنے کا اختیار بھی صوبائی حکومت کو دیا جائے۔ تحریک انصاف کے اسلام آباد میں واقع سیکرٹریٹ سے  جاری اعلامیہ کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپی کے نے وزیراعظم محمد نواز شریف کے اس فیصلے کہ پیسکو کا کنٹرول خیبر پی کے حکومت کے سپرد کر دیا جائے کے حوالے سے وزیراعظم کو خط لکھ دیا ہے وزیراعلیٰ خیبرپی کے کے خط میں پارٹی چیئرمین عمران خان کے اس بیان کے خیبر پی کے میں پاور سیکٹر کے تمام اثاثوں بشمول پیسکو کا کنٹرول صوبائی حکومت کے سپرد کیا جائے کی توثیق کر دی گئی ہے۔  وزیراعلیٰ خیبر پی کے نے پیسکو کا کنٹرول سنبھالنے کیلئے 11 نکات پر مشتمل خط جو ایک مکمل پیکیج کا احاطہ کرتا ہے وزیراعظم کو بھجوا دیا ہے اور کہا ہے خیبر پی کے حکومت صوبے میں پیسکو اور  پاور سیکٹر کے تمام اثاثوں کا کنٹرول سنبھالنے کیلئے تیار ہے خط میں واضح کیا گیا ہے بجلی کے مرکزی نظام میں عدم توازن عدم مساوات اور بنیادی ڈھانچے میں وفاق کی جانب سے سرمایہ کاری نہ ہونے کی وجہ سے خیبر پی کے  کے عوام بجلی کے نرخوں اور اس کی ترسیل کے معاملے پر کڑی شرائط کی وجہ سے متاثر ہو رہے ہیں۔ خیبر پی کے میں سب سے زیادہ سستی اور اضافی بجلی پیدا ہو رہی ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پی کے نے بجلی کے ناہموار مرکزی نظام کی نشاندہی کرتے ہوئے اس حوالے سے خیبر پی کے کی عوام کو درپیش مشکلات کی نشاندہی کی ہے اورکہا ہے  پیسکو کے کنٹرول کا معاملہ مکمل پیکیج پر مشتمل ہونا چاہئے ان میں بجلی کی پیداوار، تقسیم اورٹرانسمیشن لائنوں کا معاملہ بھی شامل ہے۔ نوائے وقت رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پی کے پرویز خٹک نے وزیراعظم کو خط میں مطالبہ کیا ہے بجلی کی پیداوار، تقسیم اور ٹرانسمیشن کا اختیار بھی دیا جائے۔ وفاقی حکومت پیسکو کے واجبات، نقصانات اور قرضے بھی ادا کرے، سردیوں میں بجلی پیدا کرنے کیلئے 20کروڑ مکعب فٹ گیس بھی فراہم کی جائے صرف بجلی کا ڈسٹری بیوٹر نہیں بن سکتے۔ اے پی اے کے مطابق  وزیراعلی خیبر پی کے پرویز خٹک نے وزیراعظم نوازشریف کے نام خط میں مطالبہ کیا ہے وفاقی حکومت بجلی کی پیداوار اور ترسیل کا نظام مکمل طور پر صوبائی حکومت کے سپرد کرے اور واجبات، نقصانات اور قرضے ختم کر کے منتقل کئے جائیں، لوڈشیڈنگ جیسے عوامی مسئلے کے حل کیلئے بامقصد اقدامات اٹھائے جائیں اور اس عوامی مسئلے کو ہنگامی بنیادوں پر حل کیا جانا چاہئے۔ صوبہ خیبر پی کے کے عوام کیلئے یہ بات ناقابل فہم ہے کہ اگرچہ صوبہ سے انتہائی سستی اور وافر بجلی پیدا کی جاتی ہے اس کے باوجود یہاں کی عوام کو لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے ۔ صوبائی حکومت کو اس قابل بنایا جائے اور وہ بجلی کی پیداوار، ترسیل سمیت دیگر امور اپنے ہاتھ میں لے کر صارفین کو سستی اور بلاتعطل بجلی فراہم کی جا سکے۔ ہمارا مقصد صرف ترسیلی نظام کا کنٹرول نہیں بلکہ پیداوار سمیت مکمل نظام کا کنٹرول ہے اس لئے ہم مطالبہ کرتے ہیں مکمل پیکج دیا جائے جس کے تحت ترسیل کے ساتھ پیداواری نظام بھی صوبہ کے سپرد کیا جائے۔ یہ بات ریکارڈ پر ہے وفاق نے پیسکو کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا۔ انہوں نے کہا صوبے کو نیپرا کے کنٹرول یس باہر کر دیا جائے تاکہ صوبہ اپنی مرضی سے معاملات چلا سکے۔  انہوں نے وزیراعظم سے کہا جیسا کہ الیکٹرانک میڈیا کی خبروں کے مطابق آپ کے اصولی فیصلہ جس کے تحت پاور کمپنیوں کو صوبائی تحویل میں دیا جارہا ہے اس تناظر میں آپ کے فیصلہ کی تائید کرتے ہوئے کے پی کے میں بجلی کے مکمل انتظام کو خیبر پی کے کے حوالے کرنے کے متعلق جو حالیہ بحث ہو رہی ہے آپ اس پر اتفاق کرینگے کہ بجلی کی سپلائی صوبوں کو دینے سے عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور میرے خیال میں وقت آ گیا ہے اس عوامی مسئلے کے حل کیلئے بامقصد اقدامات اٹھائے جائیں اور اس عوامی مسئلے کو ہنگامی بنیادوں پر حل کیا جانا چاہئے۔ صوبہ خیبر پی کے کے عوام کیلئے یہ بات ناقابل فہم ہے اگرچہ صوبہ سے انتہائی سستی اور وافر بجلی پیدا کی جاتی ہے اس کے باوجود یہاں کی عوام کو لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے اس مطالبے کی بھر پور تائید کرتا ہوں جس میں انہوں نے کہا پیسکو کا مکمل انتظام صوبے کے حوالے کر دیا جائے اس مطالبے کا بنیادی مقصد یہ ہے  صوبائی حکومت کو اس قابل بنایا جائے اور وہ بجلی کی پیداوار، ترسیل سمیت دیگر امور اپنے ہاتھ میں لے کر صارفین کو سستی اور بلاتعطل بجلی فراہم کی جا سکے۔
پشاور (نادر بونیری / نیشن رپورٹ) خیبر پی کے کابینہ کے 8ویں اجلاس کے بعد بریفنگ دیتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات شاہ فرمان نے بتایا پیسکو کا کنٹرول سنبھالنے کیلئے وزیراعظم نوازشریف اور وفاقی وزیر پانی و توانائی کو جو خط لکھا ہے اس میں 9شرائط رکھی گئی ہیں۔ کالاباغ ڈیم کے حوالے سے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کے بیان کے حوالے سے انہوں نے بتایا اس اہم قومی ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر کوئی ایک صوبہ فیصلہ نہیں کر سکتا بلکہ اس کیلئے مشاورتی عمل کو اہمیت دی جانی چاہئے۔ کابینہ میں ہونے والے دوسرے فیصلوں کے بارے میں انہوں نے بتایا کابینہ نے ہائیڈل پاور پالیسی 2006ء میں ترامیم کی منظوری دیدی ہے جس سے صوبے میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے بتایا صوبے میں ڈاکٹروں کی کمی دور کرنے کیلئے کنٹریکٹ پر ڈاکٹرز بھرتی کرنے کی بھی منظوری دیدی گئی ہے۔ انہوں نے کہا محکمہ تعلیم 500ملین روپے طلبہ میں میرٹ پر تقسیم کرے گا۔ انہوں نے کہا جنگلات کی کٹائی پر مکمل پابندی لگا دی گئی ہے۔