غداری کا مقدمہ : فوج میرے دفاع میں کہاں تک جاتی ہے آرمی چیف پر چھوڑتا ہوں : مشرف

31 دسمبر 2013
غداری کا مقدمہ : فوج میرے دفاع میں کہاں تک جاتی ہے آرمی چیف پر چھوڑتا ہوں : مشرف

اسلام آباد (نیٹ نیوز + بی بی سی + نوائے وقت رپورٹ) سابق صدر پرویز مشرف  نے کہا ہے کہ وہ یہ  بات فوج پر چھوڑتے ہیں کہ وہ غداری کے مقدمے میں ان کے دفاع میں کس حد تک جاسکتی ہے۔ ’ظاہر ہے فوج کو تشویش اور ناراضگی ہے یہ  منظم فوج ہے۔ میں نے اس کے ساتھ گرمی سردی میں سخت حالات میں اکٹھے وقت گزارا ہے، جنگیں لڑی ہیں۔ چک شہزاد فارم ہائوس پر بی بی سی  سے  خصوصی انٹرویو میں اس سوال کے جواب میں کہ آپ کے خیال میں فوج آپ کو بچانے کے لیے کس حد تک جاسکتی ہے، پرویز مشرف نے کہا کہ  فوج کے اندر رائے ضرور لی جاتی ہے تاہم حتمی فیصلہ فوجی سربراہ کرتا ہے میں یہ ان پر چھوڑتا ہوں کہ وہ کیا کرتے ہیں۔ اس سے قبل  اے ایف پی کے ساتھ بات چیت میں جنرل مشرف نے کہا تھا کہ ان کے خلاف آئین کے خلاف غداری کے الزامات سے پوری فوج ناراض ہے۔ بی بی سی کے اس سوال کے جواب میں کہ کیا فوج ان کی آخری امید ہے؟ انہوں نے کہا کہ نہیں ایسی کوئی بات نہیں، مجھے فیڈبیک ہے  فوج کے اندر گراؤنڈ لیول تک کی سوچ کا پتہ ہے۔ صرف فوج نہیں عام آدمی بھی میرے دور کو یاد کرتا ہے جب غربت میں کمی ہوئی تھی اور موٹر سائیکل والا گاڑی خریدنے کے لائق ہوا تھا۔ اس سوال پر کہ ان کے خلاف غداری کے مقدمے کے اعلان سے لے کر سماعت کے آغاز تک پاکستانی فوج کی خاموشی کیا اس کی رضامندی ظاہر نہیں کرتی؟  مشرف نے کہا  یہ تو آپ سابق فوجی سربراہ (جنرل اشفاق پرویز کیانی) سے پوچھیں لیکن بہت سی چیزیں سامنے نہیں ہوتیں، کھل کر نہیں بتائی جاتیں۔ ہر ایکشن پر اخبارات میں الٹا سیدھا کر کے شائع کر دیا جاتا ہے، افواہیں چل پڑتی ہیں،  صحیح کو جھوٹ اور جھوٹ کو درست بنا دیا جاتا ہے۔  بہتر ہے سب کچھ خاموشی کے ساتھ ہو۔ انہوں نے اپنے عزم کا اظہار کیا کہ وہ مقدمے کا بھرپور سامنا کریں گے۔ ان کا موقف تھا کہ مقدمے میں کوئی جان نہیں اسے سیاسی طور پر بنایا جا رہا ہے قانونی لوازمات کی بھی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔اس  سوال کے جواب میں کہ وہ کس حد تک تحقیقاتی کمشن کی غیرجانبداری سے مطمئن ہیں،  مشرف نے کہا کہ انہیں نہیں معلوم عدالت کتنی غیرجانبدار ہوگی ’ہاں اس سے یہ میری توقع ضرور ہوگی کہ  میں ملوث نہیں، مجھے پھنسایا جا رہا ہے۔ مجھے عدلیہ اور سپریم کورٹ سے امید ہے وہ مجھے انصاف دے گی۔ نجی ٹی وی  سے گفتگو کرتے ہئے پرویز مشرف  نے کہا  کہ فضل اللہ، تحریک طالبان،   القاعدہ، لال مسجد  اور بی ایل اے سے  خطرہ ہے سمجھتا ہوں کہ میں  مصیبت  میں ہوں،  پہلی دفعہ پاکستان آنے لگا تو  احمد شجاع پاشا نے خطرات  سے آگاہ کیا تھا۔  غالباً  جنرل کیانی  کے حکم  پر  احمد شجاع پاشا میرے پاس آئے ہوں گے۔  بین الاقوامی  دوست  خود کچھ  کریں تو کریں میں کسی کو کچھ نہیں کہوں گا۔  طلال  بگٹی نے بھی میرے  سر کی قیمت رکھی ہوئی ہے جنرل راحیل  شریف کو آرمی چیف  بننے پر مبارکباد کا خط لکھا تھا آرمی چیف  سے ملاقات کے لئے نہیں کہوں گا  وہ خود  ملیں تو اعتراض نہیں ہو گا۔ اللہ  پر بھروسہ  ہے حالات  کا مقابلہ کر رہا ہوں۔ پرویز  مشرف  نے کہا کہ چودھری  شجاعت حسین  منافق نہیں۔  انہوں  نے ایمرجنسی  کے حوالے سے  سچی بات کہی ہے۔  سعودی عرب اور  دیگر ممالک  میرے لئے اچھا سوچ  رہے ہیں۔ واضح  رہے چودھری شجاعت حسین  نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ پرویز مشرف  کو ایمرجسنی لگانے کا مشورہ  انہوں  نے اور دیگر نے دیا تھا   تاہم  کہا گیا تھا کہ عدلیہ کو نکال کر دیگر  ملک  میں  ایمرجنسی  لگا دی جائے۔ پرویز مشرف  نے کہا کہ انہوں  نے دنیا کے مختلف ممالک  میں لیکچر دئیے ہیں۔ دنیا میں ان کی بہت عزت ہے۔  حکومت  کی جانب سے  انٹرپول  کے ذریعے  ان کی گرفتاری  کی کوشش  ناکام ہوئی تھی۔  انہوں  نے ملک  کی بہتری کیلئے بہت  کوششیں کی ہیں۔