عوام عدم تحفظ کا شکار رہے

31 دسمبر 2013

سال 2013ء میں پاکستان جہاں ایک طرف دہشت گردی کی آگ میں سلگتا رہا تو دوسری طرف امن و امان کی خراب صورتحال،قتل و غارت گری، اغوا برائے تاوان، خواتین کے ساتھ زیادتی وبچوں سے جنسی تشدد ،بھتہ خوری ،ڈکیتیوں و چوریوں کی بڑھتی ہوئی وارداتوں اور دیگر سنگین جرائم میں خطرناک حد تک اضافے نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنائے رکھی جبکہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے جرائم پر قابو پانے اور لوگوں کی زندگیوں اور جان و مال کی حفاظت کے لئے عملاً کوئی مؤثر اقدامات نظر نہ آئے۔ سال 2013ء میں دہشت گردی کے واقعات کے علاوہ جرائم کی شرح میں بھی خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ تمام مراعات وسہولتیں حاصل کرنے کے باوجود پولیس کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی۔ پولیس جرائم کو چھپانے اور مقدمات درج نہ کرنے کی پالیسی پر پیرائے عمل ہے مگرصوبہ پنجاب میں جرائم کی شرح میں اتنی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے کہ سال 2012 میںصوبہ بھر کے تھانوں میں مختلف جرائم کے3لاکھ93ہزار2سو8مقدمات درج کئے گئے۔ جس میں جرائم برخلاف اشخاص یعنی قتل، اقدام قتل، اغوا، اغوا برائے تاوان، ریپ اور دیگر جرائم جس سے انسانی جان کو خطرات لاحق ہوتے ہیں کہ 57ہزار8سو 82جبکہ جرائم برخلاف املاک یعنی جائیداد یا مالی نقصان پہنچانے جن میں ڈکیتی، راہزنی، نقب زنی، گاڑیاں، موٹر سائیکلیں، دیگر وہیکلز و مویشی چوری و چھپنے کے 1لاکھ 13مقدمات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سپیشل اور لوکل لاز کے تحت 1لاکھ 28ہزار 26مقدمات جبکہ دیگر متفرق قوانین کے تحت 1لاکھ 13ہزار59مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ جن میں سال 2013میں قتل کے 6187،اغواء برائے تاوان کے189،زیادتی کے2887،اجتمائی زیادتی کے190، ڈکیتی کے2703،راہزنی کے18105،مویشی چوری کے 7028مقدمات درج ہو ئے ۔ صوبہ بھر میں گاڑیاں موٹر سائیکلیں اور دیگر وہیکلز چوری و چھیننے کی وارداتوں میں بھی تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ سال 2013میں صوبہ بھر میں گاڑیاں، موٹر سائیکلیں اور دیگر وہیکلزچھیننے و چوری کے 27 ہزار 4 سو 39 مقدمات درج ہوئے۔ جن میں وہیکلز چوری کے 20ہزار7سو 87 جبکہ وہیکلز چھیننے کے 6ہزار6سو 52مقدمات شامل ہیں، یوں ڈاکوؤں اور چوروں کے ہاتھوں روزانہ 76 شہری اپنی کار، موٹر سائیکل یا دیگر وہیکلز سے محروم ہو تے رہے ہیں۔یہ وہ تعداد ہے جن کے مقدمات درج ہوئے ہیں جبکہ چھینی اور چوری کی گئی وہیکلز کی اصل تعداد کہیں زیادہ ہے۔ کیونکہ تھانوں میں مقدمات درج کرانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے اور پولیس مقدمات کے اندراج کی بجائے متاثرہ شہریوں کو ٹرخاتی اور تھانے کے چکر لگواتی ہے۔پولیس،انٹی کار لفٹنگ سٹاف، قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کی موجودگی، جگہ جگہ ناکوںوچیک پوسٹوں اور سیکیورٹی ہائی الرٹ کے باوجود رواں سال چوری اور چھینی گئی وہیکلز کی یہ ہوشربا تعداد  قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکرگی پر سوالیہ نشان بھی ہے؟۔اس کے علاوہ صوبائی دارالحکومت لاہور میں رواں سال 2013ء میںلاقانونیت کا بازار گرم رہا۔رواں سال لاہور کے تھانوں میں مختلف جرائم کے74 ہزار2سو 12مقدمات درج کئے گئے ۔ قتل، ڈکیتی قتل‘ دہشت گردی ،اغوا برائے تاوان اورڈکیتی وغیرہ کے ساڑھے پانچ ہزار مقدمات درج کئے گئے ہیں۔لاہور میں سال 2012ء میں دیرینہ عداوتوں‘ لڑائی جھگڑوں‘ اراضی کے تنازعات‘ گھریلو ناچاقیوں‘ غیرت و دیگر واقعات میںقتل ہونے والے افراد کی تعداد623ہے۔جن میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔ جن میں 33 افراد ڈکیتی‘ دوہرے اور تہرے قتل کی 31 وارداتوں میں 73 افراد اور دیگر خونریزی کے واقعات میں517 افراد کو قتل کیا گیا ہے۔ قتل کے سب سے زیادہ کینٹ ڈویژن میں 138‘ صدر ڈویژن میں 136‘سٹی ڈویژن میں 129‘ ماڈل ٹاؤن ڈویژن میں 78‘ سول لائنز ڈویژن میں 74 جبکہ اقبال ٹاؤن ڈویژن میں 68 افراد کو قتل کیا گیا ہے۔ یہ وہ واقعات ہیں جن کے شہر کی مختلف 6 ڈویژنوں کے تھانوں میں مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ ان واقعات میں سر بازار اندھا دھند فائرنگ کر کے 6 قتلوں کے مقدمات دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج ہوئے ہیں۔ رواں سال 2013 میں دو یا دو سے زیادہ افراد کے اکٹھے قتلوں کے لرزہ خیز واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ جس سے معاشرے میں خونریزی اور قتل و غارت گری کا بڑھتا ہوا رحجان سامنے آتا ہے جبکہ قتل کے بیشتر مقدمات کا پولیس سراغ ہی نہیں لگا ہی نہیں سکی ہے۔مقتولین کے لواحقین انصاف کی خاطر تھانوں اور کچہریوں میں خوار ہوتے رہے۔ پولیس کے نازو نخرے اور خدمت کے باوجود ان لواحقین کو انصاف نہیںمل سکا۔ پرانی انارکلی ٹورسٹ اسٹریٹ میں دو دفعہ خود کش دھماکوں میں ہلاکتوں کے علاوہ معروف اداکارہ انجمن کے شوہر مبین ملک کے قتل کا واقعہ بھی پیش آیا ۔لاہور میں سانحہ جوزف کالونی میں عیسائی بستی نذر آتش کرنے کے علاوہ پنڈی میں یوم عاشور کے جلوس کے موقع پر شرپسندی کے واقعہ میں راجہ بازار نذر آتش اور11افراد کی ہلاکتوں کا سانحہ بھی سال2013 میں رونما ہوا۔لاہور کے مختلف تھانوں میں سال2013میں وہیکلز چوری و چھیننے کے سات ہزار مقدمات درج کئے گئے۔لاہور میںہر روز 20شہری اپنی کار، موٹر سائیکل یا دیگر وہیکلز سے محروم ہو تے رہے ۔ سال 2013میں ڈاکوئوں و چوروں کی وارداتوں نے شہریوں کے ناک میں دم کئے رکھا اور ڈکیتی و چوری کی وارداتوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ۔پولیس ڈکیتی و چوری کے مقدمات درج کرنے کی بجائے متاثرہ شہریوں کو تھانے کے چکر لگواتی اور خوار کرتی رہی ہے جبکہ پولیس کی طرف سے پولیس مقابلوں کے رجحان میں بھی تیزی پائی گئی۔پولیس اپنی کارکردگی دکھانے کے لئے مشکوک افراد کو پکڑ کرڈاکوؤں، چوروں اور دہشت گردوں کو پکڑنے کا دعویٰ کرتی رہی جبکہ پولیس کی طرف سے پیش کئے گئے بیشتر فرضی مبینہ دہشت گرد،ڈاکو اور چورعدم ثبوت کی بنا پر عدالتوں سے رہا ہوتے رہے۔لیکن پولیس اپنی روش سے ٹس سے مس نہ ہوئی اور پولیس افسران اپنی کارکردگی دکھانے کے لئے پریس کانفرسوں میں جرائم پر قابو پانے کے بلندوبانگ دعوے دہراتے رہے لیکن عملاً جرائم کے  بڑھتے ہوئے واقعات پر قابونہیں پایا جا سکا ہے۔2013 میں پولیس حکام کی جانب سے شہر میں سنگین نوعیت کے کرائم کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ ان میں ملوث عناصر کے خلاف موثر ترین کارروائیاں عمل میں لانے کے تمام تر دعوئوں کے باوجود کرائم کی شرح میں روز بروز اضافہ ہو تارہا ہے۔ جس کو کنٹرول کرنے کے لئے پولیس کی جانب سے کسی بھی قسم کے قابل ذکر اقدامات عمل میں نہیں لائے گئے۔ حکومت کا بھی غیر ذمہ دارانہ رویہ دیکھنے میں آیا ہے۔ پولیس افسران کی کارکردگی کی بجائے سیاسی وابستگی کو مدنظر رکھ کر تقرریاں کی گئیں اور میرٹ کے خاتمے کے علاوہ جونیئر‘ سینئر کا فرق بھی ختم کر دیا گیا ۔جس سے ان حالات کی ذمہ داری حکومت کے سر پر بھی عائد ہوتی ہے ۔ صورتحال یہ ہے کہ سال 2013ء لوگوں کے ذہنوں پر امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے حوالے سے انتہائی بھیانک اثرات چھوڑتے ہوئے آج رخصت ہو رہا ہے۔             
                                    بھتہ خورگروپوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں  
امن و امان کی خراب صورتحال سے شہری جہاں پہلے ہی پریشانی و مشکلات سے دوچار تھے تو دوسری طر ف سال 2013کے دوران بھتہ مافیا نے بھی شہریوں کو اپنے نرغے میں لئے رکھا۔کراچی کے بعد پنجاب میں بھی بھتہ خوری کا ناسور نہ صرف تیزی سے پروان چڑھابلکہ بھتہ خور مافیا نے شہریوں پر شکنجہ کس دیا ۔سال بھر صوبہ کے بڑے شہروں لاہور‘ ملتان‘ فیصل آباد‘ گوجرانوالہ‘ راولپنڈی میں بھتہ خوروں کی کارروائیوںمیںانتہائی تیزی دیکھنے میں آئی ہے ۔2013 میں آئے روز بھتہ خوری کے واقعات نے شہریوں کو خوف میں مبتلا کر دیا اور بڑے شہروں میں بھتہ خوری کے ڈھائی سو سے زائد مقدمات درج ہوئے ہیں۔صورتحال یہ ہے کہ بھتہ خوروں کی جانب سے تاجروں و مالدار افراد کو دھمکیوں کے علاوہ بھتہ نہ دینے پر قتل، فائرنگ کرنے اور اغوا کے واقعات بھی بڑھ گئے جبکہ پولیس اس عفریت پر قابو پانے میں نہ صرف مکمل طور پر ناکام بلکہ بے بس نظر آئی ہے۔  ہماری پولیس‘ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور دیگر حکام کی ناقص کارکردگی کے باعث عوام بھتہ خور مافیا کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبوررہے۔ 
مغلپورہ میں پانچ سال بچی سے زیادتی کا  دلخراش واقعہ
سال 2013کا سب سے دلخراش واقعہ مغلپورہ کی پانچ سالہ بچی (س) سے زیادتی کا تھا ۔ مغلپورہ کی پانچ سالہ بچی (س) کو 12 ستمبر2013 کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ۔سفاک ملزمان بچی کو اغواء اور زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعدتشویشناک حالت میں گنگا رام ہسپتال میں چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے۔ اس لرزہ خیز واقعہ کو اتنا عرصہ گزر جانے کے باوجود جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم تاحال ملزمان کا سراغ لگانے میں ناکام ہے ۔پولیس اورجوائنٹ انوسٹی گیشن ٹے اب تک 196 مشتبہ افراد کو شامل تفتیش کر چکی ہے۔ مگر اس کیس میں کوئی اہم پیشرفت نہیں ہوئی ہے۔ ملزمان کی عدم گرفتاری پرپولیس و دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھ ر ہے ہیں ۔وزیر اعظم،چیف جسٹس آف پاکستان ،وزیراعلی پنجاب اور اعلی حکام کے نوٹس اور بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود تاحال بچی سے زیادتی کے ملزمان کی عدم گرفتاری پولیس افسران و دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پرسوالیہ نشان ہے؟۔
                                 ماں ،باپ  کے ہاتھوںجگر کے ٹکڑوںکے قتل
سال 2013میںماں باپ کی طرف سے اپنے بچوں، جگر کے ٹکڑوں کو بہیمانہ طریقے سے قتل کرنے کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ غربت،بیروز گاری ، مہنگائی،گھریلوجھگڑوں اورچھوٹی چھوٹی بات پر والدین کی جانب سے اپنے بچوں کو قتل کرنے کے واقعات آئے روز کا معمول بن گئے۔برکی کے علاقہ میں36سالہ حافظ قرآن طاہر نامی شخص نے روٹھی بیوی کے نہ ماننے اور عدالت میں بچوں کی حوالگی کا دعوی دائر کرنے پر اپنے تین بچوں 6 سالہ عدنان، 5 سالہ علی رضا اور ساڑھے تین سالہ علیشا کو بی آر بی نہر میں دھکا دے کرموت کے گھاٹ اتارنے کے بعد خود بھی نہر میں چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی۔ اسلام پورہ کے علاقہ میں حسا س ادارے کے سابق ملازم عاصم رشید نے بیٹی کی کالج فیس نہ دے سکنے پر بی اے آنر زکی طالبہ بیٹی 19 سالہ سابین کو فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتارنے کے بعد خود کو گولی مار کر خود کشی کر لی ۔ہیئر کے علاقہ میںغربت سے تنگ آکر ماں رضیہ نے اپنے تین بچوں چار سالہ بیٹی بصیرت، پانچ سالہ بیٹے غلام حسین اورآٹھ سالہ بیٹی ایمن کو دم کرانے کے بہانے لے کر گھر سے نکلی اور تینوں بچوں کو لے کر بی آر بی نہر پر ہیڈ ہیئر کے قریب آگئی اور تینوں کو نہر میں دھکا دے دیا۔ جس سے تینوں بچے ہلاک ہو گئے۔ 
فرقہ وارانہ دہشت گردی کی لہر
صوبائی دارالحکومت لاہورمیں فرقہ وارانہ قتل وغارت اور دہشت گردی کی لہر میں تیزی رہی۔ سال 2013 میں لاہور کے علاقہ راوی روڈ  میں  اہلسنت و الجماعت پنجاب کے صدر حافظ شمس الرحمن معاویہ، ایف سی کالج کے سامنے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ ملتان کے رہنما معروف ذاکر علامہ ناصرعباس کے علاوہ  شمالی چھاؤنی کے علاقہ میں ڈاکٹر شبیہہ الحسن ،پرانی انارکلی میںشاکر علی رضوی ایڈووکیٹ، گلبرگ میں ڈاکٹر سید علی اور اس کے بیٹا سید مرتضی علی حیدر ،گڑھی شاہو میںحسین نقوی، مزنگ میںمسعود عابد نقوی، مصری شاہ میں سید ارشد علی،ریس کورس میں ڈاکٹر صغیر اصغر بلوچ ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے ہیں ۔سال بھر  فرقہ وارانہ دہشت گردی کے عفریت نے عوام کو پریشانی ،کرب اور عدم تحفظ سے دوچار کئے رکھا جبکہ پولیس فرقہ وارانہ قتل میں ملوث کسی بھی ملزم کو گرفتار کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔