ریڈیو آور 2013

31 دسمبر 2013

 اصغر ملک
ریڈیو پاکستان نے 2013ء کے اس سال کے آخری مہینے اور آج کے 31 دسمبر 2013ءتک ملکی حالات میں بہتری لانے کے لئے بہت سارے پروگرام نشر کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ ریڈیو ہمیشہ قوم کے ہم قدم رہا ہے لیکن اس کے مدمقابل دوسرے الیکٹرونک میڈیا کی طرح انڈین فلموں‘ گیتوں‘ ڈانسوں اور ان کے ہاں نشر کئے ہوئے ڈراموں وغیرہ کا سہارا لے کر کمائی نہیں کی۔ریڈیو نے نئی نسل کو نظریہ پاکستان‘ استحکام پاکستان اور اس پاک وطن کو امن کا گہوارہ بنانے کےلئے نئی نسل کی آگاہی کے لئے ہمیشہ راہنمائی کی لیکن دوسری طرف امن کی آشا، ہندی پاشا کا تماشہ لگا رکھا ہے جس کی وجہ سے نوجوانوں کو میچ فکسنگ اور شیشہ کیفے کے ساتھ ساتھ ہر خوشی کے موقعہ پر انڈین گیتوں کی بھرمار سنائی دے رہی ہوتی ہے اور ہمارے معاشرے میں کئی قسم کی خرافات سامنے آ رہی ہیں جن کی وجہ سے ملک میں امن و آمان اور ذہنی سکون غارت ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ جب تک ان کو نکیل نہ ڈالی گئی یہ بیماری مزید پھیلتی جائے گی۔ موجودہ حکومت اس وقت ملک و قوم کی سلامتی کے لئے چومکھیا لڑائی لڑ رہی ہے۔ علماءکرام اورمشائخ عظام کو ہر قسم کے سیاسی اختلافات بھلا کر امن و سلامتی کے لئے حکومت وقت کا ساتھ دے کر موجودہ ناگفتہ بہ حالات سے نکالنے کی ضرورت ہے تاکہ گلشن کا کاروبار آسن طریقے سے چلایا جا سکے۔ وقت ہاتھ سے نکلتا دکھائی دے رہا ہے۔ وہ اس لےے کہ وقت انتظار نہیں کرتا ہمیشہ رواں دواں رہتا ہے ورنہ دشمنوں نے اپنا تسلط قائم رکھنے کے لئے سنا ہے۔ چند چیلنز کے مالکان کو ڈالروں سے نوازا ہے کہ آئندہ نسل کو اسلام اور جہاد کی تعلیم سے بے خبررکھو‘ ڈانس‘ گیتوں اور بھاونڈوں وغیرہ کی لغو اور بیہودہ گفتگو کا رسیا بنائے رکھو لیکن اس پاک وطن میں ایسا اس لئے نہےں ہو سکتا کیونکہ یہاں کے ہر مسلمان کارواں دواں عشق محمد کے جُنوں سے لبریز ہے یہ جان تو دے سکتے ہیں لیکن کملی کے نام نامی اور اسم گرامی پر آنچ نہیں آنے دے سکتے‘ ریڈیو پاکستان کی ایک مخصوص اور سٹ پالیسی ہے جس کے اندر رہ کر اس کے پروگرام نشر کئے جاتے ہیں جن میں علم، ادب ،تہذیب و تمدن اور کلچرکا خاص خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے پھرسامعین کو مخاطب کرنے کے لئے مدبراناں انداز گفتار کا دامن مضبوطی سے تھامنا براڈ کاسٹر کی قابلیت پر منحصر ہوتا ہے لیکن نہ تو آج پہلے جیسے صدا کاروں کی آوازوں میں گن گرج ہے نہ ان کے الفاظوں میں خوشبو ہوتی ہے اور نہ ان کا مطالعہ اور مشاہدہ اتنا مضبوط سنائی دے رہا ہوتا ہے نہ ہی ان سے وقت اور پروگرام کے مطابق کہاوتیں اور ضرب المثلیں سننے کو ملتی ہیں ۔پروگرام کی نوعیت کچھ اور ہوتی ہے اور شعر کچھ دوسری طرف جا رہا ہوتا ہے۔ صرف ڈھنگ ٹپاﺅ باتیں ہو رہی ہوتی ہیں اس کی دو ہی وجوہات ہیں سفارش یا مجبوری‘ آج سے چند سال پیشتر جب ریڈیوپاکستان جشن بہاراں مناتا تو سارے ملک سے چیدہ چیدہ فنکاروں کودعوت دی جاتی اور صداکاروں کے ساتھ گلوکاروں‘ ساز کاروںاور موسیقاروں کی وہ ٹیم منتخب کی جاتی جو اپنے علم و فن پر دسترس رکھتی اور جشن بہاراں پروگرام کی گونج سرحدوں سے پا ر بھی سنائی دے رہی ہوتی ۔ خطوط کے انبار لگ جاتے اور ٹیلی فون کالز کا تو حساب ہی نہ ہوتا ۔ اس کی وجہ صرف یہ ہوتی کہ ہر کام کرنے والے کے پیچھے ایک راہبر کا ہاتھ ہوتا ،جس کسی میں تھوڑی بہت کمی ہوتی وہ میدان میں خود ہی نہ اترتا لیکن آج کل گلوکاروں سے وہی گیت سنے جاتے ہیں جو لوگوں نے پہلے ہی کئی بار سنے ہوتے ہیں۔ لاکھوں روپے خرچ ہونے کے بعد ریڈیو کی اپنی پروڈکشن غیب ہوتی ہے اور یہی گلوکار ایک ہی کلام کو بار بار سنا کر چلے جاتے ہیں۔ ریڈیو پاکستان کے دانشوروں کا قول تھا کہ فلم‘ تھیٹر‘ اور آڈیو کیسٹ بنانے والے اداروں سے ہٹ کر ریڈیو آئیٹم ہونے چاہئیں سننے والوں کو پتہ چلے کہ ریڈیو پاکستان اور دیگر اداروں کی کارکردگی میں کیا فرق ہے‘ اب بھی وقت ہے کہ حکومت پاکستان ریڈیو پاکستان کے پروگراموں کے بجٹ میں اضافہ کر کے ملکی حالات سے نبرد آزما ہونے کے لئے ریڈیو کے پاس بہترین ٹیلنٹ موجود ہے۔ امریکہ ‘ لندن‘ چین‘ جاپان‘ وغیرہ میں ریڈیو پروگراموں پر توجہ دی جاتی ہے امریکہ کا صدر آج بھی ریڈیو کے ذریعے قوم سے خطاب کرتے سنائی دیتا ہے وہاں کے ٹی وی چینل ریڈیو تقریر کو ساتھ ساتھ آن ایئر دکھا رہے ہوتے ہیں میرے دریافت کرنے پر ایک دوست نے بتایا کہ امریکہ کا صدر اس لئے ریڈیو سے قوم کو مخاطب ہوتا ہے کہ رےدےو سستا ہونے کے ساتھ ہر دستی کام کرنے والے کے پاس موجود ہوتا ہے اور وہ ملک کے علاوہ غیر ملکی حالات سے بھی آگاہی رکھنا چاہتا ہے۔ ٹی وی دیکھے گا تو ہاتھ رک جائے گا اور وہاں کے مال پروڈکشن میں کمی آ جائے گی لہذا چین اور جاپان وغیرہ میں دستی کام کرنے والے سب ریڈیو رکھتے ہیں اور وہاں نشریات کی مشینری میں نت نئی ایجادات کے ساتھ لیس ہو کر نشریات کی دنیا میں انقلاب لا رہی ہیں ہمارے ہاں ان باتوں کا رواج بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔
٭٭٭٭