ہالی وڈ کے شب و روز

31 دسمبر 2013

 یاسر شریف
12 سالہ Taylon Davis جویرین ٹیومر جس کا نام Ostesravoma ہے کی مریضہ ہے۔ اس کی مرنے سے پہلے صرف ایک خواہش تھی کہ وہ مشہور گلوکار Beyoncéسے مل سکے۔ Beyoncé نے میک آوش فاﺅنڈیشن کے ساتھ مل کر لاس ویگاس میں منعقد Carter Show World میں اس بچی کی خواہش کو پورا کر دیا۔ یہ شو 24 دسمبر کو منعقد ہوا۔Beyoncé نے Taylon کو جب گلے لگایا جس سے تماشائیوں کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور Taylon اپنے جذبات پر قابو نہ پا سکی اور وہ بھی رونے لگی۔ شو کے بعد Talon نے اپنی والدہ سے کہا ”ماں کیا یہ سب سچ ہے“ Beyoncé کو واقعی دیکھ رہی ہوں اور وہ میرے ساتھ باتیں بھی کر رہی ہے اور جھے گانا گانے کا اور ناچنے کا بھی موقع ملا۔ یہ تو واقعی سب حقیقت ہے۔ میں ابتدا میں کافی گھبرا رہی تھی۔ اس موقع پر اپنے جذبات بیان کرنے سے قاصر تھی مگر میں خاموش نہیں رہنا چاہتی تھی کیونکہ یہی میری خواہش تھی اور میں اس سے باتیں بھی کرنا چاہتی تھی۔
Jeff Pollack مشہور پروڈیوسر اور ڈائریکٹر اپنی زندگی کے 54 سال گزار کر چل بسے۔ یہ اپنے سب سے مشہور ٹی وی شو فریش پرنس آف بیل آئیر میں عمدہ ڈائریکشن کی وجہ سے مشہور تھے۔ مین ہٹن بیچ پولیس کے مطابق ایک عورت کو ان کی لاش ملی اور اس کو اس حیرت انگیز واقعہ میں قاتل یا منشیات فروخت میں ملوث کردار پرشک نہیں آیا۔ آنجہانی Pollack بیس سال قبل Benny Medina کے ساتھ مل کر Medina Pollack انٹرٹینمنٹ کمپنی کا آغاز کیا جو کچھ عرصہ بعد یہ ہینڈ پرنٹ انٹرٹینمنٹ میں تبدیل ہو گیا۔ ول سمتھ کی مشہوری کا آکاز بھی انہی کی وجہ سے ہوا اور آج وہ لوگوں کے دلوں پر راج کر رہے ہیں۔Pollackکی مشہور ڈائریکٹڈ فلم ”بوٹی کال“ اور لاسٹ اینڈ فاﺅنڈ“ ہیں اور 2001ءمیں انہوں نے مشہور گلوکارہ جنیفر لوپیز پر مبنی ڈاکومنٹری بنائی جس کے بعد وہ ”اویڈ رنر“ کے نام سے مشہور ہو گئے۔

 لوگوں کے دلوں سے کھیلنے والے اداکار Tom Cruise اپنی نئی آنے والی فلم Edge of Tommorrow پر بھرپور طریقے سے محنت کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ فلم ایک ایسے کردار کی عکاسی کر رہی ہے جو جنگی میدان میں وقت کے دھارے میں پھنس چکا ہے اور خلائی مخلوق سے لڑتے ہوئے اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر انسانیت کی بھلائی کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ فوج کی قابو سے باہر یہ مخلوق زمین پر اتر کر بے دردی سے حملہ کرتی ہے اور فلم کے ہیرو Tom Cruise کے ہمراہ Emily Blunt ان کے ساتھ ان کی مدد کرتے نظر آ رہی ہے۔ وقت کے دھارے میں پھنسنے والے Tom Cruise جنگ کے میدان میں کافی دفعہ بے رحمی سے مرتے ہیں اور پھر دوبارہ زندہ ہو جاتے ہیں اور ہر دفعہ جب یہ مرتے ہیں ان کی مہارت میں اضافہ ہوتا ہے جس کو جنگ کے میدان میں اپنے دشمنوں کو شکست دینے میں استعمال کرتے ہیں۔ یہ فلم شیڈول کے مطابق 6 جون 2014ءکو 3D میں ریلیز ہونے کی امید ہے اور یہ ایک جاپانی ناول All you need is kill پر مبنی ہے۔

آسکر انعام یافتہ ہالی وڈ اداکارہ جو¿ن فونٹین کا کیلیفورنیا میں 96 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا ہے۔انھوں نے معروف فلمساز آلفریڈ ہچکاک کی کئی نفسیاتی تھریلرز میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔فونٹین کا اصل نام جو¿ن دا بیوو دا ہیولینڈ تھا۔ ان کا انتقال اتوار کی شب امریکہ کے شہر کارمیل میں اپنی رہائش پر ہوا۔ان کی گہری دوست نوئل بوٹیل نے بتایا کہ فونٹین بڑھاپے کی وجہ سے روز بروز کمزور ہوتی جا رہی تھیں اور ان کی پرسکون موت نیند میں ہی واقع ہو گئی۔
دا گارڈین اخبار کے مطابق انھوں نے ایک بار کہا تھا: ’آپ کو معلوم ہے میری زندگی بہت رنگارنگ رہی۔ صرف اداکاری کی وجہ سے ہی نہیں۔ میں نے غبارے کی ایک بین الاقوامی دوڑ کے مقابلے میں حصہ لیا، میں نے اپنا جہاز خود اڑایا۔ شکاری کتوں کے ساتھ رہی۔ میں نے بہت ساری دلچسپ چیزیں کیں۔‘ فونٹین جاپان میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کے والدین برطانوی تھے۔ وہ اپنی بڑی بہن اولیویا کے ساتھ اداکاری کے شعبے میں اپنی قسمت آزمانے امریکہ چلی آئی تھیں۔انھیں فلم ’سسپیشن‘ کے لیے سنہ 1942 میں آسکر انعام سے نوازا گیا۔ اس فلم میں انھوں نے ایک کمزور بیوی کا کردار نبھایا ہے۔ہچکاک نے انھیں اپنی پہلی ہالی وڈ فلم ’ریبیکا‘ میں لیڈ کردار نبھانے کے لیے کاسٹ کیا تھا۔انھوں نے 30 سے زیادہ فلموں میں اداکاری کی۔ فونٹین کی معروف فلموں میں ’دا کانسٹینٹ نیمف‘، ’جین آئر‘ اور ’لیٹر فرام این انّون وومن‘ شامل ہیں۔انھیں عام طور پر نفسیاتی اور جذباتی کردار نبھانے کے لیے جانا جاتا ہے۔فونٹین نے چار شادیاں کیں اور ان کی ہر بار طلاق ہو گئی۔ اپنی بہن سے ان کی مسلسل اور تاحیات لڑائی ہالی وڈ کے لیجنڈ میں شمار کی جاتی ہے۔ان کے پاس امریکہ کے علاوہ برطانوی شہریت بھی تھی۔

ہالی وڈ کے شب و روز

شاذیہ سعیدshazi1730@hotmail.comسعودی خاتون سٹیج ڈرامے میں جلوہ گرآئی ٹی کے شعبے سے ...