خادم اعلیٰ توجہ دیں

31 دسمبر 2013

مکرمی! ملک پاکستان میں تعلیمی نظام کی دینی اور دنیاوی تقسمیں ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ خادم اعلیٰ کا مدارس دینیہ کے طالبعلموں کو لیپ ٹاپ تقسیم کرنا بلاشبہ ایک مستحسن عمل تھا لیکن کاش وہ دینی اداروں کی طالبات و طلباء کے بارے میں یہ اعلان بھی کردیں کہ وہ ملک پاکستان کے باشندے ہیں۔ پچھلے دنوں پنجاب پبلک لائبریری میں جامعہ النور کی طالبات کارڈ بنوانے گئیں لیکن جامعہ کا حوالہ دینے کے باوجود انہوں نے کہا کہ آپ طالبعلم شمار نہیں ہوتے کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہمارے ملک پاکستان میں تعلیم حاصل کرنے کا حق صرف سکولوں اور کالجوں کے بچوں کا ہے۔جامعہ کی طالبات دکھ اور شرمندگی کے آثار لیے لوٹ آئیں آخر قرآن و حدیث کی تعلیم حاصل کرنا کونسا اتنا بڑا گنا ہے کہ اپنے ہی وطن میں اپنے ہی لوگوں میں دینی طلباء اجنبی بن جاتے ہیں؟ کیا گورنمنٹ کی لائبریریز پر ان بچوں کا کوئی حق نہیں ہے جو دینی اداروں میں پڑھتے ہیں کیا یہ ملک پاکستان اسی لئے لیا گیا تھا کہ یہاں بچوں کو دو گروہوں میں بانٹ دیاجائے ۔ سکول کے بچے اور جامعہ کے بچے پر ایک طرف تو میڈیا والے تعلیم تعلیم کا شور مچاتے ہیں۔ دوسری طرف خادم اعلیٰ تعلیمی نظام کو مفت کرنے کے دعویدار ہیں اور اب تو مریم نواز کو مسلم لیگ یوتھ ونگ کا صدر بنادیا گیا ہے۔ میں اس کالم کی وساطت سے مریم نواز سے پوچھتی ہوں کہ ’’ یوتھ ونگ‘‘ میں دینی اداروں کی طالبات شامل ہیں یا نہیں۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ اس طرح کی گروہ بندی کرکے ہم دینی طلباء کو احساس کمتری کا احساس دلا رہے ہیںاپنی سرزمین پر انکے ساتھ ایسا فرق انہیں احساس دلاتا ہوگا کہ شاید دینی اداروں میں پڑھنا کوئی جرم ہے جو انہیں لائبریریوں سے کتابیں پڑھنے کی بھی اجازت نہیں۔ خدارا اس تقسیم کو اب ختم کرو پاک سرزمین پہلے ہی فرقہ واریت اور انتشار کا شکار ہے نئی نسل کو دینی اور دنیاوی طالبعلموں میں تقسیم مت کرو ایک خدا کو ماننے والے ایک رسول کو ماننے والے ایک قرآن کو پڑھنے والے کو مسلمان کہتے ہیں اور مسلمان مسلمان ہوتا ہے چاہے وہ دینی ادارے کا طالبعلم ہو یا دنیاوی ادارے کا۔(فوزیہ فیاض، لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی)