حکمرانوں اور عوام میں دوریاں

31 دسمبر 2013

مکرمی! وزیراعظم پاکستان وزیر اعلیٰ سند ھ و دیگر بلدیاتی حوالے بارے جو الیکشن ہمیں کروانے چاہئے ان کو یہ فکر کھائے جارہی ہے کہ جب ڈنگ ٹپائو پالیسی بارے متحد ہیں تو پھر جیسے حالات ہیں ان میں بلدیاتی الیکشن کا انعقاد مشکل ہی نہیں ناممکن بنادیاجائے اوپر سے افتاد یہ ٹوٹی ہے کہ شہروں میں ن لیگ کو واضح شکست جبکہ دیہاتوں میں ن لیگ ہی آمنے سامنے ہیں چوہدری پرویز الٰہی تو خوش ہیں کہ انہوں نے جو کہا تھا وہ ہو ہی گیا ووٹ ڈالنے والے رو رہے ہیں لاپتہ افراد کا معاملہ ہو، مہنگائی کے روکنے کا مسئلہ ہو یا دیگر مسائل اس کی وجہ کچھ بھی ہو ڈالر کو 98 روپے لانے کا وعدہ، مخالفین کے سیاسی ڈرونز اٹیک کا مسلسل سامنا، حکومت کو کچھ جگ ہنسائی کا افسوس نہیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کاکوئٹہ رجسٹری کی عمارت کی تکمیل بارے خیالات انصاف کی فراہمی گھر کی دہلیز پر ملنے کی نوید ہے 2013 کے آخری دنوں میں 2014 کا تحفہ ہے یہ بارہ امام اور چودہ معصومین کا سال ہے تبدیلی کی ہوا 2012 جو کہ حضرت میراں محی الدین گیارہویں والے پیر کا سال تھا جنرل راحیل شریف نے طالبان کو بھارت جیسا خطرہ قرار دیکر فوج میں مکمل اتحاد کا ثبوت دیا ہے اس حوالے بھارت سے دوستی کی خواہش کے باوجود چھوٹیجنگ نہیں چوتھی ایٹمی جنگ کا بھی وزیراعظم کو احساس ضرور ہے لیکن کرنے والا اصل کام جب کرنے کا ارادہ نہ ہوتو لفاظی دھاک کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا موجودہ حکمران منشور مسلم لیگ کے مطابق ملک کو چلائیں، بلدیاتی الیکشن بروقت کروائیں تو ان کو جو لاحق تشویش ہے وہ بھی فرضی ثابت ہوگی امریکہ نے نیٹو سپلائی خود ہی بند کرکے ڈنگ ٹپائو حکمرانوں کو پتھر کے دور میں لاکھڑا کیا ہے عوام بارے حکمرانوں کو کچھ خیال ہے نہ احساس، دشمنوں سے پیار اور عوام سے بیزار حکمران خوف خدا کریں۔(حاجی ڈاکٹر مٹھو بھائی ،الیاس، محمد اشرف چیمہ،نت کلاں گکھڑ منڈی )