کچھ تو کہو

31 دسمبر 2013

’’شیر آیا شیر آیا‘‘ ہے صدا کچھ تو کہو
کیا نہ ہو گی اب غریبوں پر جفا کچھ تو کہو
چور، ڈاکو اور قاتل ہیں ہزاروں ملک میں
بھوک سے روتے ہیں کیوں یہ بے نوا کچھ تو کہو
وہ ستمگر جس نے لوٹا ہم غریبوں کو سدا
کیا کبھی نہ آئے گا وہ بے حیا کچھ تو کہو
قاتلان قوم تھے ساتھ اس کے یارو سینکڑوں
کیسے عالم میں ہیں اب وہ بے وفا کچھ تو کہو
کچی آبادی مری کچی ہے اب تک دوستو
جانے کن سوچوں میں ہے میرا خدا کچھ تو کہو
ظلم کا انجام تو ہوتا نہیں اچھا کبھی
کیا ہے مطلب اس کا اے باد صباد کچھ تو کہو
ملک آدھا کھونے والی فوج سے ہی پوچھئے
کب ختم ہو گا ستم کشمیر پر کچھ تو کہو
ہندوئوں سے اب تجارت ہے عذاب خوفناک
کیا نہ ہو گا حملہ اب کوئی نیا کچھ تو کہو
اپنی شہ رگ ہندوئوں سے کب چھڑائی جائے گی؟
پوچھتا ہے ارشد آتش نوا کچھ تو کہو
(عبدالرحمن ارشد، مالیر کوٹلوی)