2014 نوید صبح ثابت ہو گا؟

31 دسمبر 2013

قوم نے 2013ءکا آغاز بہت سی امیدوں اور آرزوﺅں کے ساتھ کیا تھا۔ لوگ زرداری کی پانچ سالہ جمہوریت اور جمہوری حکومت کی کارکردگی سے مایوس ہو چکے تھے۔ عوام کو اس سال11 مئی کے انتخابات میں ملک و قوم کیلئے بہتری کا یقین تھا۔ اسی یقین کے ساتھ عوام نے کرپشن میں سر تا پا دھنسی ہوئی حکومت سے چھٹکارہ حاصل کر کے ان سیاستدانوں کو ایک بار پھر آزمانے کا فیصلہ کیا جو دو مرتبہ اقتدار میں آ چکے تھے۔ عوام کے پاس شاید اس کے سوا دوسرا آپشن نہیں تھا۔ عمران خان جو سولہ سال سے سیاست میں تھے ان کو نوآموز سمجھ کر مکمل اعتماد کے قابل نہ سمجھا یا پھر ان دیکھی قوتوں نے عوام کا مینڈیٹ چُرا لیا۔ بہرکیف جو بھی ہُوا مسلم لیگ (ن) اقتدار میں آئی۔ پوری دنیا سمجھ رہی تھی کہ اس کی جیل، جلاوطنی اور قید و بند بھگتنے والی قیادت نے ماضی سے سبق ضرور حاصل کیا ہو گا۔ اب صحیح معنوں میں جمہور کی حکمرانی ہو گی۔ مشرف کی آمریت اور پیپلز پارٹی کی جمہوری حکومت کے پیدا کردہ مسائل سے نجات ملے گی، بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ کا عذاب ٹل جائے گا، مہنگائی اور بیروزگاری ختم نہیں تو اس میں کمی ضرور ہو گی۔ رشوت ستانی، کرپشن اقربا پروری اور خاندانی حکمرانی کے سامنے بند باندھ دیا جائے گا۔ دہشتگردی ، فرقہ واریت، بدامنی اور لاقانونیت کے سائے چھٹ جائیںگے۔ معیشت مضبوط اور ملک میں قانون کی حکمرانی ہوگی۔ قومی سلامتی اور ملکی وقارکو ڈرون حملوں اور لائن آف کنٹرول پر بھارتی شر انگیزی سے لگنے والے دھچکوں کا ازالہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پاکستان کے دیرینہ مو¿قف اور کشمیریوں کی اُمنگوں کے مطابق جدوجہد کی جائے گی۔ انتخابات میں نواز لیگ کو عوام نے بھاری مینڈیٹ دیایا نے بقول بلاول بھٹو زرداری اسٹیبلشمنٹ نے نوازش کی۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ نواز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) اعتماد پر پوار نہ اُتر سکی حالانکہ اس کو ملکی معاملات کو درست کرنے کے انتہائی سازگار حالات میسر آئے۔ اپوزیشن اس کے شانہ بشانہ ہے، آرمی چیف اور جائنٹ چیفس آف سٹاف اپنی مرضی کے لگا لئے گئے۔ صدر اور چیئرمین نیب بھی اپنا ہے۔ حکومت کی کارگزاری پر نظر رکھنے والے چیف جسٹس صاحب ریٹائر ہوگئے۔ مرکز کے ساتھ آبادی اور رقبے کے لحاظ سے بڑے صوبوں میں بھی مسلم لیگ (ن) کی حکومت بنی۔ اپنے ایجنڈے کی تکمیل اور منشور پر عمل کیلئے اس سے زیادہ معاون و مددگار حالات نہیں ہو سکتے۔ اس کے باوجود بھی نہ صرف حالات میں بہتری نہیں آئی بلکہ یہ مزید گھمبیر ہو گئے۔
 بجلی کی لوڈشیڈنگ میں قدرے افاقہ ہوا لیکن گیس کی قلت کے باعث گھروں میں چولہے ٹھنڈے ہو رہے ہیں۔ پنجاب میں سی این جی سیکٹر کی گیس تین ماہ کیلئے بند کر دی گئی۔ اس سے سب سے متاثر عام آدمی ہُوا۔ 22 دسمبر کو عمران خان نے مہنگائی کے خلاف جلوس نکالا تو پنجاب اور مرکزی حکومت کے ہاتھ پاﺅں پھول گئے۔ آسمان کی چھوتی سبزیوں کی قیمتیں راتوں رات کم ہو گئیں۔ چکن کی قیمت پونے دو سو پر آ گئی۔ عمران کی لاہور میں ریلی ختم ہوئی تو مہنگائی نے پھر سپیڈ پکڑ لی۔ ایک ہفتے میں چکن کی قیمت اڑھائی سو سے اوپر پہنچا دی گئی۔ کارکردگی سے زیادہ ہر طرف ڈرامہ بازی ہو رہی ہے۔ دہشتگردی پر قابو پانے کے بجائے دہشتگردوں سے رابطے جاری ہیں۔ اگر اس طریقے سے دہشتگردی رُک جائے تو رابطوں میں حرج نہیں۔ اس کے برعکس دہشتگرد اپنی کارروائیوں میں آزاد اور عوام اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ کشمیر کمیٹی ایک بار پھر اس مولانا کے حوالے کردی گئی جس کے آباﺅ اجداد پاکستان کے قیام کوگناہ سمجھتے اور مولانا نے ایسے بیانات سے کبھی لاتعلقی کا اظہار نہیں کیا۔ قومی اسمبلی کی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا سربراہ پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر خورشید شاہ کو بنا دیا گیا جن کا مشن ہی اپنی پارٹی کی قیادت کی کرپشن کو تحفظ دینا ہے۔
پیپلز پارٹی کے حصے میں جو عوامی نفرت پانچ سال میںآئی اپنی عوام کُش پالیسیوں اور اقدامات کے باعث لیگ مسلم (ن) نے اپنی حکومت کے ابتدائی چند ماہ میں کما لی جس میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کے جب اقدامات ایک جیسے ہیں تو پھر انجام کیسے مختلف ہو سکتا ہے؟
جسٹس افتخار محمد چودھری اور جنرل کیانی نے پیپلز پارٹی کی کرپٹ حکومت کو تحفظ فراہم کیا تو وہ اپنی مدت پوری کرنے میں کامیاب رہی۔ آج کے چیف جسٹس میڈیا کانشس ہیں اور نہ آرمی چیف کا کوئی رشتہ نیٹو سپلائی کا ٹھیکیدار ہے۔ اس لئے اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ مغل بادشاہوں کی طرح جو مرضی کرتا رہے، یہ اس کی غلط فہمی ہے جسے جتنا جلد ممکن ہو دور کر لینا چاہئے۔
پاکستان کے حوالے سے 2013ءبڑی بڑی تبدیلیوں کا سال تھا۔ اس سال بہت کچھ بدلا لیکن عوام کی قسمت نہ بدل سکی۔ آج 2013ءکا سورج غروب ہو رہا ہے، کل نئے سال کا طلوع ہو گا۔ 2013ءکو فراموش کر کے نئے سال کی خوشیاں منانے میں مگن ہو جانا بہت بڑی حماقت ہو گی۔ ہم سے 2013ءمیں کوتاہی اور غفلت ہوئی اسے سدھارنے کی کوشش کرنا ہو گی۔ اسی صورت میں 2014 ءملک وقوم کیلئے خوشیوں کی نوید لا سکتا ہے۔
علم الاعدادکی روشنی میں مشرف کو سزا ہوتی نظر نہیں آتی، وہ بیرون ملک چلے جائیں گے۔ پاکستان بھارت جنگ کا کوئی امکان نہیں البتہ بھارت نے جو غیر قانونی تعمیرات سے گریز کا معاہدہ کیا ہے اس پر عمل ہوتا نظر نہیں آ رہا۔
نوٹ:۔ نیا سال کیسا رہے گا اس حوالے سے پیش گوئیاں کل یکم جنوری کو قومی اخبارات اورٹی وی چینل پر ملاحظہ کیجئے۔