مقروض قوم کے ارب پتی ٹیکس نادہندہ لیڈر

31 دسمبر 2013

ایک دل شکن داستان الیکشن کمیشن کی جاری کردہ ارکان پارلیمان کے اثاثوں کی تفصیلات آج ہر شخص کا پسندیدہ موضوع بنا ہُوا ہے وہاں عوام کی اکثریت شدید دُکھ کی کیفیت میں بھی مبتلا ہے کہ کوئی ارب پتی بن گیا ، کوئی کروڑ پتی اور کوئی ککھ سے لاکھ سے کروڑ پتی، سب کی حالت بدل گئی مگر نہیں بدلی تو عوام کی حالت نہیں بدلی ۔۔۔ جیسا کہ پہلے بارہا لکھ چکی ہوں کہ پاکستان کی 60 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے سانس پوری کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہے۔ ہماری آبادی کا 25 فیصد کے قریب بمشکل ’’سودا ڈالر‘‘ روز کما پاتا ہے۔ ان حالات میں ہمارے نمائندوں کے اثاثے عوام کے ’’پھپولے‘‘ پھوڑنے کے علاوہ کوئی کام نہیں کریں گے۔ ایک طرف یہ پڑھ کر میرے تو آنسو نکل آئے کہ کئی کروڑ پتی لیڈروں کے پاس اپنی گاڑی تک نہیں۔ اثاثے موضوع بحث ہیں تو دوسری طرف اطلاعات ہیں کہ یکم جنوری سے پٹرولیم اور گیس کے نرخوں میں بھاری اضافہ ہونے جا رہا ہے اس وقت ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر ’’جنوبی ایشیا‘‘ کے غریب ترین ممالک سے بھی کم کی سطح پر پہنچ چکے ہیں مگر کسی کو احساس نہیں۔ اُن کو بھی نہیں جنہوں نے اس کو لُوٹا اور امیر ترین لوگوں کی فہرست میں جگہ بنانے میں کامیاب رہے۔ کوئی بھی اس کے استحکام، ترقی کیلئے سوچنے پر تیار نہیں۔ ہم ’’جمہوریت‘‘ کا راگ تو الاپتے رہتے ہیں مگر عملی طور پر ایسا سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ’’جمہوری معاشروں‘‘ میں ٹیکس کی رقوم سے تعمیر و ترقی کے منصوبے بنتے اور تکمیل پاتے ہیں۔ ٹیکس ادا کرنا جہاں ایک قومی ذمہ داری ہے۔ وہاں عوامی نمائندگی کے حامل افراد کا سچ بولنا بھی قوم کی اخلاقی ترقی کیلئے از بس ضروری ہے۔ ظاہر کردہ آمدنی سے بڑھ کر پُرتعیش زندگی گزارنے والے غلط بیانی کرنے کی پاداش میں نااہلی، قید اور جرمانے کا سامنا کر سکتے ہیں مگر ایسا کرنے سے ’’الیکشن کمیشن‘‘ نے معذوری ظاہر کر دی ہے بلکہ عوام ایسا کرنے کا حق رکھتی ہے تو بہتر ہے کہ قوم کو ایک اور طویل قانونی عذاب میں پھنسانے کی بجائے نمائندے ازخود جُرمانہ جمع کرو ا کر قوم سے معافی مانگ لیں۔ یہی صائب رائے ہے۔ شائع شدہ اثاثوں کے یہ صرف وہ اعداد و شمار ہیں جو ظاہر کئے گئے ہیں۔ اب اصل مالیت تو صرف ’’اﷲ تعالیٰ‘‘ ہی جانتے ہیں بہرحال جھوٹ اور تضاد بیانی سے بچنا چاہئے۔ عوام کے نام پر ’’اربوں میں کھیلنے والے عوام کا پیسہ، عوام پر خرچ کرنے کو تیار نہیں۔ جمہوریت کے نام پر کرپشن کرنے والے’’ارب پتی‘‘ ہو کر بھی ’’غریب‘‘ ہی کہلوانے پر مُصر، ٹیکس نہ دینے والے کس منہ سے قوم کو ہر مرتبہ سخت قربانی کا درس دیتے ہیں۔ سیاست، سیاستدانوں کے لئے ایک ایسا پھل ہے جو ہر موسم میں دستیاب اور کبھی بھی تُرش نہیں ہوتا مگر عوام کیلئے ’’ جُوتے ہی جوتے‘‘ ہمارے خیال میں تو اثاثے جمع کرانے کی شرط ہی فضول مشق ہے۔
کار لا حاصل صرف کاغذوں کا پیٹ بھرنے کیلئے؟ اب ہوگا تو کچھ بھی نہیں۔ کچھ دن میڈیا چیخیں مارے گا۔ عوام کو رُلائے گا اور پھر ایک دن اس سے بھی بڑی خبر لیکر آ دھمکے گا۔ فائدہ ہُوا تو صرف یہ کہ بلند بانگ نعروں میں دبے عوام کو معلوم ہو گیا کہ ہمارے لیڈر کتنے ایماندار، سچے اور عوام سے کتنے مخلص ہیں۔ ’’جیتے رہو عمر چیمہ‘‘ ہمارے نمائندوں کی ایک قابل ذکر تعداد قومی خزانے میں اپنا حصہ ڈالنے سے انکاری ہے۔ ’’یہ لوگ‘‘ اپنے اس فعل سے معاشرے کے دوسرے طبقات تک ایک منفی روش اپنانے کے پیغام پہنچانے کا ذریعہ بنیں گے۔ دہشت گردی، ناقابو داخلی مسائل اور مہنگائی کا بڑھتا ہُوا گراف۔ یہ ہیں وہ حالات جن میں عوام کا اکثریتی طبقہ زندگی کی سانسیں بحال رکھنے کی جدوجہد میں برسر پیکار ہے تو اِسی عوام کے نمائندے عوام کو لُوٹ کر بھی ’’ایک پیسے‘‘ کا ریلیف۔ قارئین قوم کو دینے کیلئے کبھی بھی راضی نہیں رہے۔
یہ پڑھ کر تو اور زیادہ شرم آئی کہ کئی لوگوں کے پاس اپنی ذاتی سواری تک نہیں، ہائے اتنی غربت۔ یہ خبر بہت سارے لوگوں نے پڑھی ہو گی کہ لاہور میں ایک ہی دن میں 65 لاکھ کے ڈاکے پڑ گئے۔ غریب جب ایسا کرتے ہیں تو ہم اُن کو چور، ڈاکو کہتے ہیں مگر متذکرہ بالا ٹیکس نادہندہ اور گوشواروں میں ہیرا پھیری کرنے والوں کو کیا ٹائٹل دیں۔ ویسے چوری صرف جیب کاٹنا یا پستول کی نوک پر گھر پھلانگ کر سامان چرانے کا نام نہیں۔ مرغی کے گوشت کی قیمت میں 18 روپے اضافہ بھی چوری کی ایک قسم ہے بلکہ ’’ہماری کتاب‘‘ کے مطابق اشیائے صرف کی قیمتوں میں ظالمانہ حد تک بڑھتا ہُوا ناجائز اضافہ ’’چوری ڈکیتی‘‘ کی سب سے ’’بھیانک قسم‘‘ ہے اور اُس ’’چوری‘‘ کو آپ کیا لقب دیں گے جو 65 سالوں سے عوامی نمائندے وعدے، قسمیں کھا کر ’’ووٹ‘‘ لیکر پھر نظر نہیں آتے۔ اپنی نمائندگی کے حق کی چوری پر عوام کس کے خلاف مقدمہ دائر کراوئیں اور کس کی عدالت میں؟ ان نمائندوں نے یہ خبر نہیں پڑھی کہ آئندہ سال گندم کی فصل کم پیدا ہو گی۔ اب گندم کی کمی تو درآمد کر کے پوری ہو جائے گی مگر نتیجہ میں آٹا کتنا مہنگا ہوگا۔ اس کی سنگینی کا کسی کو احساس ہے؟
کیا یہ ٹیکس نادہندہ قیادت کو یہ اختیار ہے کہ وہ مارچ 2014ء میں بہت ساری چیزوں پر سے ٹیکس چھوٹ ختم کر رہے ہیں۔ ایسا کرنے کی صورت میں مہنگائی کے طوفان کو کون روک پائے گا۔ کیا یہ ظلم سوچنے پر مجبور نہیں کرتا کہ یہ کس کا پاکستان ہے؟ میرا، آپ کا، ٹیکس نادہندہ سیاسی افراد کا؟ منافع خور تاجروں کا؟ سیمنٹ ، شوگر مافیا کا یا پولٹری کارٹل بنانے والوں کا؟ اگر نہیں تو پھر کہاں ہے میرا ، آپ کا پاکستان؟
پس تحریر : مصر کی عبوری حکومت نے ’’اخوان المسلون‘‘ کو دہشت گرد تنظیم قراد دیدیا۔ مسلمانوں نے مسلمانوں کو دہشت گرد بنا ڈالا تو پھر ’’امریکہ‘‘ سے مسلمانوں کو شکوہ کیوں؟