نظریہ پاکستان۔۔۔کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی

31 دسمبر 2013

جناب مجید نظامی کی دیرینہ خواہش پر امسال جولائی کے مہینے میںگوجرانوالہ میں نظریہءپاکستان فورم کا قیام عمل میںلایا گیاتھا اور گوجرانوالہ میں اسکی سرپرستی سینئرمسلم لیگی راہنما غلام دستگیر خان کے سپرد کی گئی جنہوں نے ساجد بھٹی کی بھرپور راہنمائی کی اور یوںنظریہ ءپاکستان فورم کی شکل گوجرانوالہ میں ایک ایساپودا لگا دیا گیا جس کے بارے میں توقع کی جانی چاہیے یہ پودا بہت جلد ایک تناور درخت کی شکل اختیار ر لے گا۔ غلام دستگیر خان ،چوہدری محمود بشیر ورک ،جسٹس (ر) افتخار احمد چیمہ،شازیہ اشفاق مٹو،ڈاکٹر نثار احمد چیمہ،حاجی عبدالرﺅف مغل،شیخ ثروت اکرام،توفیق احمد بٹ اور دیگر نے اس فورم کے قیام کے موقع پر تمام تر مصروفیات ترک کرکے اپنی شرکت کو یقینی بنایا تھا وہیں ایک بڑے باپ کے بیٹے ایس پی شعیب خرم جانبازاوراپنے کام،لگن اور دھن کی پکی اے ڈی سی جی محترمہ صالحہ سعید بھی سب کچھ چھوڑ کر اس تقریب میں شریک ہوئیں تھیں اور فرحان میراور ان جیسے دوسرے نوجوانوں کو سینے پہ ہاتھ رکھ کر قومی ترانہ پڑھتے دیکھ کر جو اطمینان اور سکون محسوس ہوا تھاوہ عام طور پر کم ہی نصیب ہوتا ہے۔ یوم قائد اعظم ؒ کے سلسلہ میں بھی نظریہ ءپاکستان فورم گو جرانوالہ نے ایک پر وقار تقریب کا اہتما م کیا لیکن سچ تو یہ ہے کہ سوموار کو مقامی ہال میں منعقدہ تقریب ایک ایسی فکری نشست کا روپ اختیارکرگئی جس مختلف تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے طلباءوطالبات کو نہ صرف تقریب میںمدعو کیا تھا بلکہ انہیں تقریر کا موقع بھی دیا گیا انہی میں سے ایک جوشیلے نوجوان کامران ملک کی تقریر نے حاضرین کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور حاضرین پر سکتہ طاری ہو گیا، نوجوان کی تقریر کے بعدفورم کے سینئر نائب صدر شیخ ثروت اکرام نے قیام پاکستان کے وقت انکے خاندان کی طرف سے پیش کئے گئے جانوں کے نذرانوں کاتذکرہ کیا، صدارتی خطاب میںسینئر راہنما غلام دستگیر خان نے قوم کے ساتھ سچ نہ بولنے کو ہماری تباہی کی سب سے بڑی وجہ قرار دیا،ان کا کہنا تھا کہ قائد اعظم ؒ نے اپنے کردار کی سچائی سے پاکستان تخلیق کیا یوم قائد اعظم ؒ پر ہمیں سچائی کی جنگ لڑنے اور قوم کیساتھ سچ بولنے کا عہد کرنا چاہئے، انہوںنے جناب مجید نظامی کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ عمر کے اس حصے میں بھی انکے جذبوں میں شدت اور لب و لہجے میں گھن گرج پائی جاتی ہے انکی دین اسلام اور پاکستان کے ساتھ کمٹمنٹ مثالی ہے اور وہ نظریہ ءپاکستان کے فروغ کے ساتھ ساتھ حکمرانوں کو مسئلہ ءکشمیر بھی یاد کراتے رہتے ہیں۔ مایوسیوں کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں بھی جناب مجید نظامی جیسے بزرگ ایک روشن چراغ کی مانند جگمگا رہے ہیںجو نہ اپنے اسلاف کی قربانیوں اور جدوجہد کو بھولے اور نہ پاکستان بنانے کا نظریہ انکے ذہن سے محو ہو سکا باوجود اسکے کہ قو م نے 65سال میں اتنے دکھ جھیلے اور اتنے سانحے دیکھے ہیں کہ بتدریج قوم کی یاد داشت جاتی رہی لیکن آفریں ہے اس مرد قلندر پرجس نے تندو تیز ہواﺅں میںبھی اپنی یاد وں کے دریچے وا رکھے ہیں اور قیام پاکستان کے مقاصد اور نظریہءپاکستا ن کو اپنے ذہن و دل پر انمٹ سیاہی سے یوں نقش کر لیا ہے کہ انہیں مٹانا کسی کے بس میں نہیں،جناب مجید نظامی کی ان تھک جدوجہد کی بدولت نظریہ ءپاکستان کے ساتھ انکی کی رفاقت اور شناسائی کی خوشبو کو بہ کوپھیل گئی ہے۔