ہمارے ممبران اسمبلی جعلی ڈگری لے کر اسمبلی کیسے جا پہنچے؟

31 دسمبر 2013

ہمارے عوام نے 2008ءکے انتخابات میں اپنے علاقہ کے نمائندوں کو ووٹ کاسٹ کیا۔ یہ روایت ہر پانچ سال بعد دہرائی جاتی ہے۔ ہمارے عوام ہر پانچ سال بعد اپنے ووٹوں سے عام انتخابات میں اپنے نمانئدے چنتے ہیں اور انہیں ووٹ دے کر اسمبلی میں پہنچا دیتے ہیں۔ عوام کے یہ نمائندے عوام سے ووٹ لے کر جب اسمبلی میں جاتے ہیں تو یہ عوام کی نظروں میں رہتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہماری عوام اپنے نمائندوں کو بھیج تو دیتی ہے مگر ان کو بعد میں پتہ چلتا ہے کہ ان کے نمائندوں کے پاس تو گریجویشن میٹرک/ ایف اے کی ڈگری نہیں ہے یا انہوں نے جعلی سازی سے ڈگری حاصل کی ہے۔ تب انہیں ہوش آتی ہے کہ ہم نے یہ کیا کیا۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ یہ بہت افسوس اور دکھ کی بات ہے کہ ہمارے نمائندے جن کو جعلی ڈگری حاصل کرنے کا شوق ہے اور جعلی ڈگری سے وہ بچ جائیں گے۔ وہ بھول گئے ہیں کہ ان کے اوپر اللہ رب العزت کی پکڑ بڑی سخت ہے۔ اول ہونا تو یہ چاہئے کہ جب بھی انتخابات منعقد ہوں اور امیدوار اپنی سند و دستاویزات جب الیکشن کمشن کو بھجواتے ہیں تو الیکشن کمشن کا فرض ہے کہ وہ ان تمام دستاویزات یا تمام نمائندوں کی ڈگریاں چیک کریں یا کروائیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے یا اس کے علاوہ کوئی ایسا قانون لایا جائے جس سے گریجویٹ لوگ ہی اسمبلی میں جا کر عوام کی نمائندگی کریں۔
سابق صدر پاکستان جنرل (ر) پرویز مشرف نے ممبران اسمبلی کے لئے بی اے کی جو شرط لگائی تھی اسے فی الفور لاگو کیا جائے تاکہ گریجویٹ سطح کے نمائندے اسمبلی میں پہنچ کر صحیح قانون سازی کر سکیں۔ ایک ان پڑھ شخص کیا قانون سازی کر سکتا ہے؟ قانون سازی کرنا تو پڑھے لکھے لوگوں کا کام ہے۔ الیکشن کمشن یہ اعلان کرے کہ گریجویٹ لوگ ہی اسمبلی میں پہنچ کر قانون سازی میں حصہ لے سکتے ہیں۔ جعلی ڈگری والے کیسے قانون سازی کر سکتے ہیں؟ جن کو الف، ب، پ بھی نہیں آتی۔ وہ بھی اسمبلی کے رکن بن جاتے ہیں۔ آخر ان کا احتساب ہونا چاہئے جو ممبران جعلی ڈگری لے کر اسمبلی میں پہنچ جاتے ہیں اور قانون سازی اور بحث و مباحثے میں حصہ لے سکتے ہیں وہ یہ کام پہلے کیوں نہیں کرتے کہ خود ہی انتخاب میں حصہ نہ لیں۔ استعفیٰ دینے یا disqualify ہونے کی بجائے وہ الیکشن لڑنے سے گریز کریں۔
کیا یہ سارا کھیل پاکستان کی عوام کے ساتھ کھیلنا ضروری سمجھا جاتا ہے؟ ان لوگوں کے لئے شرم کی بات ہے جو جعلی ڈگری لے کر اسمبلی میں جا پہنچے۔ کیا عوامی نمائندوں کو یہ چیز زیب دیتی ہے؟ اگر نہیں دیتی تو ان کو چاہئے کہ وہ اپنے رب کے سامنے توبہ کریں اور عوام سے معافی مانگیں اور آئندہ ایسی کوئی حرکت کرنے کی کوشش نہ کریں۔
2013ءکے انتخابات کے بعد ممبران اسمبلی کی ڈگریوں کی چیکنگ کی گئی۔ جن میں پاکستان مسلم لیگ (ن) پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے اراکین پارلیمنٹ کی ڈگریاں جعلی نکل آئیں۔ بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ اسلم رئیسانی کا کہنا تھا کہ ”ڈگری تو ڈگری ہوتی ہے چاہے جعلی ہی کیوں نہ ہو“ آپ اس سے اندازہ لگا لیں کہ ہمارے رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبہ کے وزیر اعلیٰ کا یہ بیان کس حد تک واضح پیغام دیتا ہے۔

ڈگری ڈگری ہے

ایم این اے حافظ عبدالکریم جو کہ وفاقی وزیر مواصلات بھی ہیں نے انڈس یونیورسٹی ...