”اعتراف حقیقت“

31 دسمبر 2013

سولہ سال پہلے جس روز موٹروے کا افتتاح ہوا تھا، اس روز بھارت کے شہر دہلی سے ایک ادیب اور شاعر جیون پرکاش جیون اپنی جنم بھومی دیکھنے کی غرض سے یہاں آئے۔ قیام پاکستان سے پہلے میرے بزرگوں سے ان کے مراسم تھے، اس لئے وہ میری میزبانی میں چند روز یہاں رہے۔ موٹروے پر سفر کرتے ہوئے وہ حیران و پریشان تھے کہ اتنی شان دار سڑک پاکستان میں ہوسکتی ہے۔ اگلے روز میں ان کو بازار لے گیا۔ فروٹ کی دکان پر ”جاپانی پھل“ دیکھ کر پوچھنے لگے، یہ کیا ہے؟ میں نے حیرانگی سے پوچھا کہ آپ کو نہیں معلوم! کہنے لگے ”نہیں“۔ یہ پھل پاکستان بننے سے پہلے نہیں ہوتا تھا اور نہ ہی میں نے انڈیا میں دیکھا ہے۔ میں نے کہااس کا مطلب ہے ”یہ پاکستان کا ثمر ہے“پھر ایک رات ان سے بہت بحث و مباحثہ رہا۔ وہ تقسیم کے وقت پکے قوم پرست اور کانگرسی تھے، زندگی بھر انگریزی لباس استعمال نہیں کیا۔ شادی کے روز خود بھی کھدر کا سوٹ پہنا اور بیوی کو بھی کھدر ہی پہنایا۔ میں نے ان سے سوال کیا کہ ”آپ پاکستان کو کس نظر سے دیکھتے ہیں“؟ گہری سوچ میں پڑ گئے۔ تھوڑا توقف کے بعد بولے! ”پاکستان آپ مسلمانوں نے نہیں ہم ہندوﺅں نے بنایا ہے“ اگر 1937ءسے 1939ءکی دوسالہ وزارتوں میں کانگرس مسلمانوں کے دل جیت لیتی اور تعصب نہ برتتی تو پاکستان کبھی نہ بنتا“! میں نے جیون صاحب کو یاد دلایا کہ آپ صرف ان دو سالوں کی بات کیوں کرتے ہیں۔ پوری نو دہائیوں کی بات کریں۔ کس کس موقع پر آپ کی قیادت نے مسلمانوں سے تعصب نہیں برتا۔ کہاں کہاں ہماری قیادت نے مفاہمت کی کوشش نہیں کی۔
”1857ءکی جنگ آزادی کا سارا مدعا اور ملبہ مسلمانوں پر ڈالا گیا۔ کس ہندو نے یہ جرا¿ت کی کہ انگریز سرکار کے سامنے برملا کہا ہو سرکار ہم بھی ان کے ساتھ برابر کے شریک ہیں، یہ مسلمانوں کی آزادی نہیں ہندوستان کی آزادی کی جنگ تھی....! 1867ءمیں ا ردو کو محض اس وجہ سے ہندوستان سے دیس نکالا دینے کی تحریک شروع کی گئی کہ اس کا رسم الخط فارسی تھا، اور ہندو اسے مسلمانوں کی زبان کہہ کر دیوناگری میں تبدیل کرنے پر تُل گئے۔ سرسید جو کبھی ہندوستان کو ایک خوب صورت دلہن قرار دیتے تھے، جس کی ایک آنکھ مسلمان اور دوسری ہندو تھی، وہ بھی اردو کے تحفظ کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے اور انہیں برملا کہنا پڑا کہ مستقبل میں یہ دونوں قومیں کبھی بھی اکٹھی نہیں رہیں گی۔ بھارت نے تقسیم ہند کے بعد بھی اپنا رویہ بدلا نہیں۔ اسے جمہوریت اور سیکولرازم کی عملبرداری کا دعویٰ ہے، مگر اس کا اصل چہرہ کچھ اور ہے۔ کئی ضمیر پسند ہندوستانی بھی اس اصلیت کا اعتراف کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ ان ضمیر پسندوں میں ایک ہندوستانی دھرم سنگھ گورایہ ہیں۔ وہ گز شتہ کئی برسوں سے ا مریکہ میں مقیم ہیں، تین چار کتب کے مصنف ہیں۔ اپنی ان یادداشتوں کو انہوں نے ”Punjab To Punjab“ کے نام سے مرتب کیا۔ چندی گڑھ (انڈیا) کے ہندو پبلشر نے ان کی کتاب کو اس لئے چھاپنے سے انکار کردیا کہ اس میں انہوں نے ہندو انتہا پسندی کا چہرہ بے نقاب کیا تھا۔ بالآخر یہ کتاب چند ماہ پہلے وہاں سے شائع ہوگئی۔ اس کا اردو ترجمہ لاہور سے ”پنجاب سے پنجاب“ کے نام سے شائع ہوا ہے۔ کتاب کے آخری حصے میں انہوں نے نام نہاد بھارتی جمہوریت کے عنوان سے جو کچھ لکھا ہے، وہ بھی ایک قسم کا اعتراف ہے، ذرا سنیئے! وہ لکھتے ہیں!بلاشبہ پاکستان کو اس وقت انتہا پسندی اور بنیاد پرستی کا سامنا ہے مگر ہندوستان میں ہندو پرستی بھی راکشس دیو کی طرح پرورش پا رہی ہے۔ ہندوستان کی سیاسی جماعت بی جے پی ہندوﺅں کی ایک شدت پسند تنظیم کی قیادت کے ذریعے ہندوستان کو ایک ہندو ریاست بنانے کے لئے اُکساتی رہی ہے۔ جہاں تک لوگوں کی سماجی حالت کا تعلق ہے تو ہندوستان میں غربت دور دور تک پھیلی ہوئی ہے۔ حکام ریاست کے وسائل ہڑپ کر لیتے ہیں۔
”ذرا غور کریں تو بال ٹھاکرے نے ممبئی والوں کی زندگیوں کے لئے کیا کیا؟ ممبئی کی 50 فیصد آبادی شانتی گھروں اور خیمہ بستیوں میں رہ رہی ہے اور اس پچاس فیصد کے رہنے کیلئے صرف 6 فیصد زمین ہے۔ اگر یہاں کوئی دوزخ ہے تو شیوسینا کا گڑھ ممبئی شہر۔ ان حالات میں کیا ہمیں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہنا چاہئے۔ نہیں! اسے دنیا کی نام نہاد جمہوریت کہنا چاہئے۔ جہاں آئین کے مطابق کوئی بھی شخص کسی مسئلے پر اپنے خیالات کا اظہار کرسکتا ہے مگر کیا ہوا؟ جب ایک بیس سالہ مسلمان لڑکی شاہین ڈھانڈا نے فیس بک پر اپنے خیالات کا اظہار کیا کہ بال ٹھاکرے کی موت پرممبئی اس کے تکریم کے لئے بند نہیں ہوا بلکہ شیوسینا کے ڈر کی وجہ سے ہوا تھا۔ ایک دوسری لڑکی دنیوشری نواسن نے ان خیالات کی تائید کی۔ فوراً شیوسینا کے غنڈے آئے اور ان دونوں لڑکیوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ یہ تو جسٹس کنڈی کنڈو کی مہربانی تھی کہ ان کی کوششوں سے ان لڑکیوں کو رہائی مل گئی۔“
یہ ہیں وہ حقائق جو ایک ہندوستانی نے ہی بتائے ہیں اور ان سے پردہ پوشی نہیں کی جا سکتی اور نہ انہیں جھٹلایا جا سکتا ہے۔ اگر ہندوستان واقعی سیکولر ہوتا تو نریندر مودی جیسے انتہا پسند اور مسلم دشمنی رکھنے والے سیاست دان کو بی جے پی کبھی بھی وزیراعظم کے عہدے کے لئے حاضر نہ کرتی....!