Are we back ?

30 اکتوبر 2015

کینیڈا میں ہونیوالے 2015 کے الیکشن کے نتائج کچھ غیر متوقع نہیں تھے ۔ مگر ان سے کچھ ایسی بھی تو قع نہ تھی ۔ سیاسی ووٹر کا شعور یا بلوغت اسے جو بھی نام دیں مگر یہ الیکشن سے زیادہ ایک تحریک تھی ۔ان الیکشن کو تاریخی الیکشن کہا جا رہا ہے کیونکہ گمان ہے کہ کینیڈا کے شہریوں نے اپنا اصلی کینیڈا واپس لے لیا ہے ، کینڈا کی خوبصورتی اور میپل لیف واپس لے لیا ہے ۔and we are back.
لبرل پارٹی تاریخی جیت کے بعد جسٹن ٹروڈو کی قیادت میں کیا کرتی ہے اس کا فیصلہ وقت کریگا ۔ مگر آج کے وقت نے اورکینڈا کی اکثریت نے ،سٹیفن ہارپر کی نفرت کی ، تقسیم کی اور خوف کی سیاست کو یکسر مسترد کر دیا ہے تقریباً دس سال تک حکمرانی کے مزے اٹھانے کے بعد ہو سکتا ہے کہ کنزرویٹو کی یہ شکست فطری ہو ، مگراتنی بری شکست ، اس کا گڑھا سٹیفن ہارپر اور اسکے حواریوں نے خود کھودا ہے ۔
1993کے بعد کینیڈا میں ہو نیوالا یہ پہلا الیکشن ہے جس میں تقریباً 70% لوگ ووٹ ڈالنے گھروں سے باہر نکلے ۔ الیکشن کی لمبی اننگز کے بعد بھی لوگوں میں تھکائوٹ نہیں تھی بلکہ ایک جذبہ تھا جو ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا جا رہا تھا اور وہ جذبہ میرے خیال میں لبرل کی قیادت سے محبت کا کم اور کنزرویٹو کی قیادت سے نفرت کا زیادہ تھا ۔ وہ حکمران جو اپنی رعایا کو بر ابر نہ سمجھے ، بادشاہت کے دنوں میں تو ایسے بادشاہ سلامت ساری عمر خوشحال رہ سکتے ہیں مگر اصلی جمہوریت میں نہیں ۔ سٹیفن ہارپر وہ وزیراعظم تھا جس نے شہریوں کو مذاہب میں تول کے علیحدہ علیحدہ خانوں میں بانٹنے کی کوشش کی ۔ ہارپر انڈیا نواز تھا ، حکومت کے مر حوم کو انڈیا سے بڑی محبت تھی اور شائد اسی وجہ سے کینیڈا میںبھی انڈیا جیسی مذہبی سیکولرازم اور جمہوریت نافذ کرنا چاہتے تھے ۔ مگر بھول گئے کہ ا نڈیا میں جمہوریت کی چھتری کے نیچے انسانوں کی ذات ، مذہب ، فرقے اور رنگ کی بنیاد پر تفرید ہو سکتی ہے مگر کینڈا جیسے ملک میں نہیںکیونکہ یہ وہ خوبصورت ملک ہے جہاں دنیا بھر سے لوگ اپنے وطن چھوڑ چھوڑ کر اس لئے آ بستے ہیں کہ انہیں یہاں انصاف اور برابری کی فضا ملتی ہے ۔ انہیں یہاں مذہب یا رنگ کی بنیاد پر قابل ِ نفرت یا محبت نہیں سمجھا جاتا ۔ انکی پہچان ایک انسان کی ہو تی ہے اور یہاں انسان کو سزا اسکے ذاتی گناہ کی وجہ سے اور جزا ذاتی ہنر اور محنت کی وجہ سے ملتی ہے ۔ یہاں سالوں پہلے کئے جانیوالے دادا پڑدادا کے اعمال کی وجہ سے نسلوں میں تفریق نہیں کی جاتی ۔ ایک انسان کا نام اور اس کا کام اس کی پہچان ہو تا ہے ۔ مگر جناب سرکار مسٹر ہارپر نے نفرت کی سیاست کو فروغ دینے کی کوشش کی ۔ شہریوں کے درمیان نہ صرف مذاہب کے نام پر تفریق ڈالی بلکہ bill c 24 لا کر کینیڈین شہریوں کو تقریباً سعودی ریاستوں کی طرح راتوں رات دو حصوں میں بانٹ دیا ،ایک پیدائشی کینڈین اور ایک ہجرت کر کے آنیوالے سیکنڈ کلاس شہری ۔ ہارپر کی کھلے عام مسلمانوں اور پاکستانیوں سے نفرت نے اس الیکشن کو ایک تحریک کی شکل دے دی تھی کیونکہ اس کی پالیسیوں کے خلاف محض ایک طبقہ نہیں تھا ، بلکہ ناانصافی اور غیر مساوی سلوک کے خلاف سب طبقے اکھٹے ہو گئے تھے اور وہ 10% مخصوص طبقہ جنہیں خوش کر نے کیلئے یا جن کے نقطہ نظر کو پروان چڑھانے کیلئے ہارپر نان ایشو ز ، کو ایشوز بنا کر بڑھاتا چڑھاتا رہا ، ایسا طبقہ، اس دفعہ اسے ناکام ہونے سے نہیں بچا سکا ۔
کیونکہ پہلے یہ ہو تا تھا کہ ایسے لوگ کنزرویٹو کے پکے ووٹرز تھے ، مگر دوسری طرف کینیڈا میں سیاسی شعور زیادہ ہو نے کی وجہ سے یہاں ووٹرز کی 30% تعداد ایسی ہے جو آخر تک پارٹیز کی پالیسیز پر نظر رکھتے ہیں ، ان کا رویہ دیکھتے ہیں اور بالکل آخر میں فیصلہ کرتے ہیں کہ کس جماعت کو ووٹ دینا چاہیئے ۔ کنزرویٹو کے بعد دو بڑی جماعتیں بچ جاتی ہیں، لبرل اور این ڈی پی چونکہ کنوزرویٹو وو ٹرز تقریبا ایک ہی breed کے ہوتے ہیں اس لئے باقی کے ووٹرز دو حصوں میں تقسیم ہو جاتے تھے ۔ اس دفعہ کمال یہ ہو ا کہ ہارپر صاحب اور انکے انتہا پسند مشیروں وزیروں کی برکت سے لوگوں میں اینٹی ہارپر رحجان اس قدر پنپ چکا تھا کہ انہوں نے ووٹ زیادہ startegically استعمال کیا اور سنا گیا ہے کہ آخری تین ہفتوں میں این ڈی پی کا تقریباً 1.4ملین ووٹر لبرل کیطرف چلا گیا صرف اس خوف سے کہ این ڈی پی کو ڈالا ہوا ووٹ ضائع نہ ہو جائے اور دوبارہ سے کنزرویٹو سر پر مسلط نہ ہو جائے ۔
پاکستانی عوام کیلئے کینڈا کے الیکشن میں ایک بہت بڑا سبق ہے کہ تبدیلی لانے کیلئے خود کو تبدیل کرنا بہت ضروری ہے ۔ یہ لازمی نہیں کہ آپکے دادا حضور اگر مسلم لیگ نون کو یا پیپلز پارٹی کو ووٹ دیتے تھے تو آپ نے بھی مرتے دم تک اسی قبر کا دیا جلانا ہے ۔ نہیں! آپ یہ دیکھیں کہ آپ کیلئے ، اس ملک کی روشنی کیلئے کیا انہی آزمائے ہوئے لوگوں کو ووٹ دینا ، جو آپ کو انسان ہی نہیں سمجھتے ضروری ہے ؟ جن کے نزدیک انسان کی نسلیں اور قسمیں چاول کے دانوں کی طرح ہیں ۔
ہم نے ہارپر کی نفرت میں کامیاب انقلاب تو بر پا کر دیا مگر کیا ہم یہ جانتے ہیں کہ bill c51 and c 24 جیسے اختلافی قانون لبرلز کی سپورٹ سے ہی پاس ہو ئے ہیں۔ لبرل انکے بارے میں اب کیا کر ینگے؟ امیگریشن کو لے کر جو وعدے کئے ہیں وہ کتنے پو رے ہو نگے ۔ والدین کا کوٹہ ڈبل کرنے کا اعلان ، spousal sponsership کے وقت میں پاکستا نیوں کے ساتھ جو تفریقی سلوک ہو تا تھا ، معیشت کو ٹھیک کرنے کیلئے دوسری جماعتوں کے balanced budget سے ہٹ کر deficit budget پیش کرنے اور زیادہ سے زیادہ ملازمتیں مہیا کرنے کا وعدہ ۔ کیا لبرل یہ سب وعدے نبھا سکی گی ؟
کیا joe clark کے بعد کینڈا کی تاریخ کا دوسرا جوان ترین وزیر ِ اعظم ا س ملک کی معیشت ، انٹرنیشل امیج اور شہریوں کا اعتماد بحال کر سکے گا ؟ یا فقط بھنگڑا ، باکسنگ ، خو بصورت مسکراہٹ، فلمی ہیئر سٹائل اور سیلفیز سے ہی لوگوں کا دل بہلاتا رہے گا ۔ pierre Elliot trudeau ہونے کا بیٹا ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ ان جیسی عقلمندی اور فہم و فراست بھی ہو۔ اس لئے ہارپر کو بھگانے تک تو یہ مہرہ اسی اکثریت سے سامنے لانا ضروری تھا مگر اس ملک کی خوبصورتی ، محبت اور امن برقرار رکھنے کیلئے اس سے"زیادہ اور مسلسل فہم و فراست" کی ضرورت ہے۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...