بڑی جیل سے چھوٹی جیل تک؟

30 اکتوبر 2015

میں قید کو رہائی سے بھی افضل کام سمجھتا ہوں۔ قید کسی جرم کے لیے نہ ہو۔ تاریخ انسانی میں کلمۂ حق بلند کرنے کے ’’جرم‘‘ میں بھی قید ہوئی۔ کئی حق پرستوں کی ساری زندگی جیل میں گزر گئی۔ میرے بہت محبوب بزرگ مولانا عبدالستار خان نیازی جیل کو اپنا سسرال کہا کرتے تھے۔ کئی بڑے لوگ دو انداز زندگی کو مقدم جانتے تھے۔ زندگی آدھی جیل میں گزر گئی اور آدھی ریل میں گزر گئی۔ وہ عمر بھر سفر میں رہے۔ زندگی بھی ایک سفر ہے۔ مسافر ہونا اور ہمسفر ہونا بہت بڑا کریڈٹ ہے۔ رہائی خوشخبری کی طرح اچھی ہے مگر رہائی کے لیے قید ہونا ضروری ہے۔آدمی زندگی ایسے گزارتا ہے کہ جیسے عمر قید ہوتی ہے۔ مرزا غالب کہتے ہیں:

قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں
کئی قیدی دوستوں سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ میرا کالم پڑھ کر تو کئی قیدی مجھے فون بھی کرتے رہتے ہیں۔ مجھے کم کم جیل کے اندر جانے کا موقع ملا ہے۔ کیمپ جیل میں جانے کا اتفاق ہوتا رہتا ہے کہ یہاں میرے دوست عدیل اور اس کی اہلیہ معروف صحافی فرح ہاشمی نے قیدی بچوں کو تعلیم و تربیت کے لیے اور ان کی رہائی کے لیے ایک تنظیم بنائی ہے۔ اس کا نام بھی ’’رہائی‘‘ رکھا ہے۔ ان کے ساتھ کئی سپرنٹنڈنٹوں جیل اور آئی جی جیل خانہ جات سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ آئی جی جیل خانہ جات بہت مہذب اور اچھے انسان تھے مگر سب سے بہتر موجودہ آئی جی جیل خانہ جات میاں فاروق نذیر ہیں۔ وہ جیل کے معاملات اہلکاورں اور بالخصوص قیدیوں کے مسائل سے بہت باخبر ہیں۔
ایک زمانے میں وہ سپرنٹنڈنٹ جیل تھے اور ترقی کرتے ہوئے اس منصب پر پہنچے ہیں۔ وہ تمام صورتحال سے باخبر ہیں اور جیلوں میں فلاحی منصوبوں کے لیے ان تھک کام کرتے رہتے ہیں۔ ان سے مل کر مجھے خیال گزرا کہ ہمیشہ ایسے ہی لوگوں کو آئی جی جیل خانہ جات مقرر کیا جائے۔ وہ پاکستانی جیلوں اور کئی غیرملکی جیلوں کے لیے بہت آگاہی رکھتے ہیں اور دردمند دل کے ساتھ جیل کے ماحول کو زندگی کے قریب تر رکھتے ہیں۔ ہر وقت ایک لگن میں رہتے ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ قیدی بچوں کی بھلائی کے لیے ’’رہائی‘‘ تنظیم کے ذریعے فرح اور عدیل بہت دل لگا کے کام کر رہے ہیں۔ ان کا رابطہ سپرنٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ جیل لاہور شہرام خان سے بھی ہے۔ وہ اکثر میاں فاروق نذیر سے بھی ملتے رہتے ہیں۔ شہرام خان نوجوان آدمی ہیں جذبوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ جیل میں آسانیاں اور آسودگیاں پیدا کرنے کی کوشش ہوتی رہتی ہے۔ میاں فاروق نذیر چونکہ جیل کے سب معاملات سے واقف ہیں یہاں گھر کا ماحول پیدا کرنے کی کامیاب کوشش ہوتی رہتی ہے۔ بہت اچھی گفتگو اس حوالے سے ان کے ساتھ ہوتی ہے۔ جیل میں موجود قیدیوں سے ملنے آنے والے خواتین و حضرات کے لیے سازگار بلکہ خوشگوار حالات بنائے جا رہے ہیں۔ کئی صفحات پر مشتمل رپورٹ بھی چھاپی گئی ہے۔یہ میاں فاروق نذیر کی محنت اور اہلیت کی دستاویز بن گئی ہے۔
پنجاب کی جیلوں میں ملاقاتیوں کے لیے شیڈ بنوائے گئے ہیں۔ ورنہ لوگ دھوپ میں ذلیل و خوار ہوتے رہتے ہیں۔ ملاقاتیوں اور قیدیوں کے لیے جیل کے اندر اور باہر واش روم بنوائے گئے ہیں۔ جیل میں باتھ روم کم تھے تو صبح صبح لمبی قطار لگ جاتی تھی۔ اور ہر آدمی فراغت کے بعد سکون کے لمحوں کو ترستا تھا۔ اب ہر پانچ بندوں کے لیے ایک باتھ روم مخصوص ہے۔ اس طرح انتظار کی کوفت سے بچا جا سکتا ہے۔ ورنہ پہلے انتظار کرنا صبر کرنے کے مترادف بن چکا تھا۔ جیل میں 300 سے زائد باتھ روم ہیں۔
جیلوں میں زندگی کو معمول پر لانے کی بھرپور کوشش ہو رہی ہے۔ جیل کے اندر قیدی بیماری کو بھی قید کا حصہ سمجھتے ہیں۔ یہاں ایکسرے پلانٹ فراہم کیے گئے ہیں۔ ڈاکٹروں کے علاوہ ڈینٹل سرجن بھی ہوتے ہیں۔ قیدیوں کی ضرورت کے مطابق ہرممکن کوشش ہو رہی ہے کہ وہ مطمئن رہیں۔
میاں فاروق نذیر سے گذارش ہے کہ اس ماحول کے عادی ہو جانے کے بعد قیدیوں کو گھر میں آرام نہیں آئے گا اور وہ جیل سے باہر آنے کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔ مولانا نیازی نے جیل کو سسرال کہا تھا اور سسرال میں آدمی کی زیادہ خدمت ہوتی ہے۔
پینے کا صاف پانی پاکستان میں لوگوں کو مہیا کرنا حکومت کے لیے مشکل ہو رہا ہے۔ پنجاب حکومت اس کے لیے بھی کوشاں ہے۔ پنجاب کی 30 جیلوں میں واٹر فلٹریشن پلانٹس کی تنصیب مکمل ہو گئی ہے۔ پنجاب کے سابق گورنر صاف پانی کے لیے بہت مضطرب تھے۔ میرا خیال ہے انہوں نے کسی جیل میں جھانک کر نہ دیکھا ورنہ انہیں معلوم ہوتا کہ جیلوں میں یہ انتظام تقریباً ہو چکا ہے۔ میاں فاروق نذیر کے زمانے میں یہ کام بہت قابل ستائش ہے۔ میرے لیے یہ بھی خوشی ہے کہ میرے ضلع میانوالی کی مشہور یا بدنام جیل میں بھی واٹر فلٹریشن پلانٹ لگ چکا ہے۔ میانوالی جیل میں بڑے بڑے لوگ قید رہے ہیں۔ میں بھی اس جیل کو دیکھنے کے لیے اندر تک گیا ہوں۔ خوف کی ایک فضا یہاں ہوتی ہے۔ مگر کئی لوگ یہاں زندگی گزار دیتے ہیں۔ میاں فاروق نذیر اس زندگی کو خوشگوار بنانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید جیلیں بنانے کی ضرورت کو بھی محسوس کیا ہے۔ موبائل فون آج کی زندگی میں ایک ضرورت اور ایک فیشن بن گیا ہے۔ موبائل فون پر جیلوں میں پابندی ہے مگر قیدیوں کو اپنے رشتہ داروں کے ساتھ رابطہ کرنے کی ضرورت تو پڑتی ہے اس کے لیے کئی جیلوں میں پی سی اوز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ ہر پی سی او چالیس لائنوں پر مشتمل ہے۔
کچھ جیلوں میں اصلاحات کا سلسلہ جاری ہے۔ میرا جی چاہتا ہے کہ بغیر جرم کے قید کی زندگی اختیار کر لوں۔ میں اب بھی اپنے آپ کو قیدی محسوس کرتا ہوں۔ ہم جب گورنمنٹ کالج لاہور کے بعد پنجاب یونیورسٹی لاہور میں آئے تو راجہ انور ہمارے دوستوں میں سے تھے۔ وہ کئی بار جیل گئے۔ اس کا جرم صرف آزادی اظہار اور اپنی مرضی اور نظریاتی سوچ کے مطابق زندگی بسر کرنے کی خواہش کے علاوہ کچھ نہ ہوتا۔ انہوں نے ایک کتاب لکھی جس کا نام بہت بامعنی اور معنی خیز ہے۔ ’’بڑی جیل سے چھوٹی جیل تک‘‘۔ کئی بہترین کتابیں دنیا بھر میں جیلوںکے اندر لکھی گئی ہیں۔ فیض احمد فیض عالمی شہرت کے شاعر ہیں۔ ان کا ایک شعر عرض کرتا ہوں۔ انہوں نے جیل کو قفس کہا ہے۔
قفس اداس ہے یارو صبا سے کچھ تو کہو
کہیں تو بہر خدا آج ذکر یار چلے
ذکر یار کے لیے فیض نے یاروں کو ہی آواز دی ہے۔
جیل میں گزارا ہوا زمانہ بھی کئی لوگوں کے لیے ایک نیا زمانہ لے کر آتا ہے۔ پچھلے دنوں جیل کے مختلف اہلکاروں کو ٹریننگ کے لیے امریکہ کا دورہ کروایا گیا ہے۔ ہمارا ماحول امریکہ کے ماحول سے یکسر مختلف ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کی جیلیں ان کے شہروں سے مختلف نہیں ہوتیں مگر جیل بہر حال جیل ہوتی ہے۔ میری گذارش میاں فاروق نذیر سے ہے کہ وہ اپنے خاص اہلکاروں کو صوفیوں درویشوں کے پاس بھی بھجوائیں۔ وہ ان سے بھی زندگی کرنا سیکھیں تاکہ ان میں تحمل اخلاق اور تہذیبی معاشرت کے اوصاف پیدا ہوں۔ وہ تنظیمیں بالخصوص ’’رہائی‘‘ جو جیلوں میں قید لوگوں کی فلاح اور اصلاح کے لیے کام کر رہی ہیں۔ ان کی حوصلہ افزائی کریں۔ ان کے لیے آسانیاں پیدا ہوں۔ وہ لوگ جیل کے حکام کے بھی مددگار ہیں۔ میں رہائی کے زیراہتمام چلنے والے سکولوں میں گیا ہوں۔ بچوں سے مل کے مجھے زندگی کے نئے معنی معلوم ہوئے۔ بچے خوش تھے اور بڑے جوش سے پڑھائی میں مصروف تھے۔ اس وقت وہ قیدی نہیں تھے۔ طالب علم تھے۔ یہ لمحے ان کے لیے ہمیشہ یادگار رہیں گے۔ یہاں سے اپنے گھر جا کے بھی وہ قید کے دنوں کو یاد کریں گے۔ کئی بچوں کی رہائی کے لیے بھی اہتمام کیا گیا۔ اب وہ بچے ایک اچھے شہری کی طرح قانون کے مطابق زندگی بسر کر رہے ہیں چھوٹی جیل میں زندگئی اتنی خوبصورت ہو جائے تو بڑی جیل میں زندگی اور گھٹ کے رہ جائے گی۔ لوگ بڑی مشکل میں ہیں۔ پاکستان کو ایک ایسا خطہ بنایا جائے جو ایک آزاد زندگی کا گہوارہ بن جائے۔ اس کے لیے حکمرانوں اور بالخصوص شہباز شریف سے بڑی امیدیں ہیں۔ ان جگہوں پر بھی حکمرانوں اور افسروں کو جانا چاہیے جہاں زندگی کی سرشاری انسان کو ایسی بے قراری عطا کرتی ہے کہ جس کے بعد قرار آ جاتا ہے۔
جیہڑیاں تھانواں صوفیاں جا کے لیاں مل
اوہ اونہاں دے درد دی تاب نہ سکیاں جھل